احسن اقبال اور پرویز رشید کی موجودگی میں نواز شریف کو سمجھایا کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو کی بجاو عوامی خدمت پر توجہ مرکوز کی جائے، لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی، شہباز شریف سرعام اپنے بڑے بھائی کیخلاف پھٹ پڑے، مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں شرکت سے صاف انکار کر دیا

شہباز شریف سرعام اپنے بڑے بھائی کیخلاف پھٹ پڑے، مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں شرکت سے صاف انکار کر دیا، کہتے ہیں کہ احسن اقبال اور پرویز رشید کی موجودگی میں نواز شریف کو سمجھایا، کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو کی بجاو عوامی خدمت پر توجہ مرکوز کی جائے، لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنماوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف سے متعلق اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور مولانا فضل الرحمان سے دھرنے میں شرکت سے صاف انکار کر دیا۔ شہباز شریف نے جمعرات کے روز ن لیگ کے پارلیمانی رہنماوں کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نواز شریف کو بہت سمجھایا لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔پرویز رشید اور احسن اقبال کی موجودگی میں نواز شریف کو سمجھاتا رہا کہ اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو کی بجائے ہمیں عوامی خدمت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے، لیکن میری بات کر کان نہیں دھرے گے۔اب مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں شرکت سے بھی منع کر رہا ہوں مگر میری بات نہیں سنی جا رہی۔ شہباز شریف نے کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کمر میں تکلیف کے باعث نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی ملاقات موخر کر دی۔
ڈاکٹروں نے شہباز شریف کو کمر درد کے سبب آرام کا مشورہ دیا۔شہباز شریف نے آج آزادی مارچ کے حوالے سے نواز شریف سے ملاقات کرنا تھی اور انہیں لیگی رہنماؤں کی کی سفارشات پیش کرنا تھیں۔نواز شریف نے سفارشات کی روشنی میں جے یو آئی ایف کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔تاہم شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات نہ ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں