اعلیٰ افسر کی کرپشن پکڑنے پر برطرفی گریڈ 18 کے افسر کو نیشنل ہیلتھ سروس میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنے پر برطرف کردیا گیا

اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 15 جنوری 2020) : اعلیٰ افسر کی کرپشن پکڑنے پر برطرفی، گریڈ 18 کے افسر کو نیشنل ہیلتھ سروس میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنے پر برطرف کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ہیلتھ سروس نے قانونی طریقہ کار پر عمل کئے بغیر افسر کی برطرفی کے الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ اس معاملے سے متعلق نجی ذرائع کا کہنا ہے کہ افسر نے اپنے لیٹر ہیڈ پر بیان جاری کرنے کے بعد اسے برخاست کردیا۔
بیان میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ٹائیفائیڈ میں مبتلا بچوں کو غیر ملکی کمپنی کی جانب سے گیانیا کے سور کا سلوک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ملک میں ٹائیفائیڈ ویکسین استعمال کی جاتی تھی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برخاست افسرڈاکٹر عبید علی نے بتایا کہ وہ سابقہ ​​ڈریپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو عدالت لے گئے ہیں۔ وزارت نے عدالت کو ایک خط پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے مجھے معطل کردیا ہے، جسکی وجہ سے میں دفتر نہیں جا سکتا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے وزارت کو متعدد خط لکھے تھے لیکن کسی نے بھی جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انکا کہنا ہے کہ قوانین کے مطابق وزارت کو میری تصویر کو اخباروں میں شائع کرنا پڑا جس میں کہا گیا تھا کہ میں غائب ہوں اور مجھے ڈیوٹی میں شامل ہونا چاہئے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا، اگرچہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے میڈیا سے بات کی تھی حقیقت یہ ہے کہ میں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزارت کو متعدد خط بھیجے تھے جن میں ڈریپ میں بدعنوانی اور بدعنوانیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔
انکا مزید کہنا ہے کہ معاوضے کی بڑی سزا دینے سے پہلے الزام لگانے والے شخص سے کراس پوچھ گچھ کی جانی چاہئے، سابق ڈریپ کے سی ای او نے مجھ پر الزامات لگائے تھے لیکن مجھے ان سے کراس انکوائری کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس معاملے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈریپ کے سی ای او ڈاکٹر عاصم رؤف نے کہا کہ صرف چند افراد کو میڈیا میں پیش ہونے کا اختیار حاصل ہے لیکن ڈاکٹر علی نے اجازت کے بغیر یہ کام کیا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی تصدیق کی کہ میڈیا میں بیانات دینے پر ڈاکٹر عبید علی کو برخاست کردیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے الزامات کے بعد باضابطہ تحقیقات کی گئیں جس کے بعد انہیں برخاست کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں