افسانہ “تماشبین” آدھی رات کو تمہیں اپنے خواب میں اداس دیکھ کر نیند سے بیدار ہوچکی ہوں۔ تنہائی اور لاچاری نے اپنا شکنجہ میرے جسم کے مضافات کی طرف مزید تنگ کردیا ہے

افسانہ “تماشبین”
وجیہہ جاوید
آدھی رات کو تمہیں اپنے خواب میں اداس دیکھ کر نیند سے بیدار ہوچکی ہوں۔ تنہائی اور لاچاری نے اپنا شکنجہ میرے جسم کے مضافات کی طرف مزید تنگ کردیا ہے۔
بےقراری کسی بچھو کی طرح جسم پر رینگ رہی ہے۔آنکھیں جو تمہارے ساتھ کے حسیں لمحوں کے خمار میں ہمہ وقت ڈوبی رہتی ہیں،آنسووُں کی تپش سے جل رہی ہیں۔
میں نارسائ کے کرب اور تمہیں کھو دینے کی دہشت کی کیفیت میں رات کاٹنے پر مجبور ہوں کہ کہیں یہ ظالم رات تمہارے نقوش کو ان آنسووُں کے ساتھ بہا کر نہ لے جائے جنہیں میں ہر صبح آئینے میں دیکھ کر دن کا آغاز کرتی ہوں۔
میرے پاس محفوظ تمہارا وہ آخری میسج جس میں تم نے مجھ سے والہانہ انداز میں اقرار محبت کیا تھا،اس کو پڑھتے پڑھتے آنکھیں تھکنے لگی ہیں۔
نہ جانے کب رات فجر کی آذانوں کی آواز کی سمت رینگ گئ۔وہ رات جو تمہاری یاد کے مجہول کونوں کو کھودتے کھودتے صبح کی تلاش میں گزاری گئ تھی اب چاند سے گرد کو کھرچتے کھرچتے امیدوں کے دیوں سے جل اٹھی ہے۔
سخن ور کی تلاش کا سلسلہ پھر سے اپنے عروج پر ہے۔میرے خوابوں کے جہان میں موجود قصہ خوان نہ جانے کب سے میری تلاش میں بھٹک ریے ہیں۔وہ تمہارے وقتاً فوقتاً کیے گئے وعدوں میں موجود سچ اور جھوٹ کی شاخوں کو الگ کرتے کرتے درخت کی دشمنی مول لے بیٹھے ہیں،جو ہمیشہ تمہاری سردمہری کو تمہاری مجبوریوں سے منسلک کرنے کے در پہ رہتا ہے۔
کبھی کانٹوں پر بنائے گئے آشیاں میں بسنے والے مکیں سکھ کی کیفیت سے آشنا بھی ہو پاتے ہیں۔دل میں گھر بنا کر اس سے خون نچورنا اور پھر اس راہی کو کسی ایسے بیابان میں زندہ درگوہ کرنا جہاں اس کا سراغ ملنا نا ممکنات میں سے ہو ،محبوب کا وطیرہ ہی رہا ہے۔
اس تعلق نے مجھے یہ بات اچھے انداز میں بآور کروا دی ہے کہ محبت کی مٹی کو ہمیشہ نارسائ کے پانی میں ہی گوندھا جاتا ہے اور اس کوزہ گری کے دوران خود کو فنا کر دینے کا لطف ہمیشہ عاشق کو ہی نصیب ہوتا ہے۔محبوب تو بس اس سارے عمل میں ایک تماشبین کا کردار ہی ادا کرتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں