انڈیا میں آج کل محمد علی جناح کا اتنا ذکر کیوں ہو رہا ہے؟

انڈیا میں آجکل محمد علی جناح کا جتنا ذکر ہو رہا ہے شاید پاکستان میں بھی نہیں ہوتا ہوگا۔
کوئی کہہ رہا ہے کہ بانی پاکستان یہ دیکھ کر بہت خوش ہوں گے کہ ہندوستان جس راہ پر چل رہا ہے جلدی ہی اس کی ملاقات پاکستان سے ہو جائے گی اور تقسیم کے وقت دونوں بھائی ایک دوسرے سے ناراض ہوکر بھلے ہی الگ الگ راستوں پر نکل پڑے ہوں لیکن اب لگتا ہے کہ انجام کار ستر سال کے لمبے اور دشوار گزار سفر کے بعد ایک ہی منزل پر پہنچ جائیں گے۔اور تب شاید پاکستان مڑ کر انڈیا سے کہے گا کہ بھائی اگر یہیں آنا تھا تو الگ ہی کیوں ہوئے، ساتھ ہی چل پڑتے ؟ اور اگر “جی پی ایس” استعمال کیا ہوتا تو یہاں وہاں بھٹکنے میں اتنا وقت برباد نہ ہوتا، سیدھے منزل پر پہنچتے!
کوئی کہہ رہا ہے کہ حکمراں بی جے پی شہریت کا جو نیا قانون وضع کر رہی ہے اس سے جناح کا دو قومی نظریہ درست ثابت ہوجائے گا، یہ گاندھی کے مقابلے میں جناح کے نظریے کی جیت ہوگی۔ جناح اور پاکستان کا ذکر ہے کہ ختم نہیں ہوتا وزیراعظم مودی اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ انہوں نے پھر لوگوں کو یاد دلایا ہے کہ کانگریس پاکستان کی زبان بول رہی ہے اور جواب میں کانگریس کے لیڈر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ مسٹر مودی کی حکومت نہ صرف پاکستان کی طرح بات کرتی ہے بلکہ اسی کے نقش قدم پر چلتی بھی ہے اور سوچتی بھی ہے!
بھائی، خون تو ایک ہی ہے! چہرہ مہرہ، وہ بول چال کا انداز، وہ طور طریقے؟ آپ کتنی بھی کوشش کرلیں کچھ چیزیں نہیں بدلا کرتیں۔
بہرحال، شہریت کے قانون میں معمولی سی ترمیم کی جارہی ہے، کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے کہ جس پر اتنا ہنگامہ کیا جائے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ اگر آپ ہندو، سکھ، مسیحی، جین، بودھ یا پارسی ہیں اور آپ نے پاکستان، بنگلہ دیش یا افغانستان سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لی ہے تو آپ کو ہندوستان کی شہریت دے دی جائے گی کیونکہ حکومت یہ مانتی ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں تو آپ کو آپ کے مذہب کی وجہ سے ستایا گیا ہوگا، ورنہ کون اپنا گھر بار چھوڑ کر یوں در بدر ٹھوکریں کھاتا ہے؟
اور اگر آپ روزگار کی تلاش میں یہاں آتے تھے تو خاموش ہی رہیے گا کیونکہ نئے مجوزہ قانون میں یہ خانہ شامل نھیں ہے، ایسا نہ ہو کہ زبردستی ایمانداری دکھانے کے چکر میں الٹا پھنس جائیں۔ بہت سے لوگ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ جو لوگ چالیس پچاس سال پہلے بنلگہ دیش (یا اس سے پہلے مشرقی پاکستان) کی سرحد پار کرکے شمال مشرقی ریاستوں میں آکر بس گئے تھے، وہ یہ کیسے ثات کریں گے کہ انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا تھا؟ اس لیے بس جو حکومت کہہ رہی ہے کرتے رہیے۔اگر آپ مسلمان ہیں اور غلطی سے یہاں پہنچ گئے تھے تو آپ کو عزت کے ساتھ گھر واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔ اگر پڑوسی ملک واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو پھر بات ذرا پیچیدہ ہوجاتی ہے لیکن ان پیچیدگیوں کے بارے میں آپ کو گھر چھوڑنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔
EPA
اور اگر آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ ہم تو پچاس سال سے یہاں رہتے ہیں، بچے بھی یہیں پیدا ہوئے ہیں اور سوچا تھا کہ مریں گے بھی یہیں، تو یا تو پچاس برسوں میں آپ کے حالات زندگی بدل چکے ہوں گے اور آپ کو واپس جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور اگر حالات نہیں بدلے ہیں تو آپ کو ویسے بھی کہیں اور جاکر ٹرائی کرنے کے بارے میں سوچنا ہی چاہیے۔جہاں تک شہریوں کے قومی رجسٹر کا سوال ہے، اس میں ان تمام لوگوں کو شامل کیا جائے گا جو اپنی شہریت ثابت کر پائیں گے، جو نہیں کر پائیں گے لیکن مسلمان نہیں ہوں گے انہیں نئے قانون کے تحت شہریت دے دی جائے۔ جو ثابت نہیں کر پائیں گے لیکن مسلمان ہوں گے۔۔۔ اف! یہ اکوئیشن بہت الجھی ہوئی ہے، وہ بھی کسی نہ کسی فہرست میں شامل ہوں گے لیکن فی الحال کہنا مشکل ہے کہ کونسی۔
پارلیمان میں بل پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اگر کانگریس نے مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم نہ کیا ہوتا تو اس قانون کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔لیکن اگر ملک تقسیم نہ ہوا ہوتا تو اس کی آبادی بھی تقسیم نہ ہوتی اور اس کے کچھ فائدے بھی ہوتے اور نقصان بھی۔سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ انڈیا اور پاکستان ایک ہی ملک ہوتے اس لیے ان میں آپس میں جنگیں نہ ہوتیں، کشمیر پر کوئی تنازع نہ ہوتا اور اسے ’مرکز کے زیر انتظام علاقہ‘ بنانے کی ضرورت نہ پڑتی، آئی ایس آئی اور را ایک ہی ہوتے، یہ فیصلہ نہ کرنا پڑتا کہ عمران خان زیادہ بڑے آل راؤنڈر تھے یا کپل دیو، دونوں ایک ہی ٹیم میں کھیل رہے ہوتے اور ٹی وی چینلوں کے پاس زیادہ کام نہ ہوتا۔(اور عمران خان کبھی پاکستان کے وزیر اعظم نہ بن پاتے، لیکن کچھ لوگ اس بات کو فائدہ میں ڈالیں گے اور کچھ نقصان میں، اس لیے اسے بیچ میں ڈال دیتے ہیں)نقصان یہ ہوتا کہ بی جے پی کے رہمنا بات بات پر کچھ لوگوں کو پاکستان جانے کا مشورہ نہ دے پاتے، لال کرشن اڈوانی نے کراچی جاکر جناح کو سیکولر نہ بتایا ہوتا اور اس کے بعد گھر نہ بٹھائے گئے ہوتے اور شاید وہ ’سیاسی سپیس‘ خالی ہی نہ ہوتی جو نریندر مودی نے پر کی ہے، اور اگر نریندر مودی وزیر اعظم نہ بنتے تو امت شاہ وزیر داخلہ کیسے بنتے؟ تو شاید پارلیمان میں یہ بل بھی پیش نہ ہوتا۔ تو امت شاہ صاحب، اس بحث کا کوی فائدہ نہیں، یہ مرغی اور انڈے کی بحث ہے، کبھی ختم نہیں ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ کسی بھی مشکل میں، چاہے پیسہ کمانے یا پھر جان بچا کر، یا پھر آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لیے ہندوستان آئے تھے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
چھوڑ دیا جائے یا بھگا دیا جائے؟
ہماری مانیں تو چھوڑ دیجیے، بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے چاہے آپ کی کتنی بھی دوستی یا دشمنی ہو، وہ کسی بھی مذہب کا ایک بھی فرد لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے اور جو لوگ انڈیا میں اپنی زندگی گزارنے کے بعد یہاں کی شہریت ثابت نہیں کر پائیں گے وہ کسی دوسرے ملک کی شہریت پر کیا دعوی کریں گے؟ تو پھر آپ انہیں حراستی مراکز میں رکھیں گے اور آخرکار کبھی نہ کبھی چھوڑ ہی دیں اور اگر چھوڑنا ہی ہے تو پکڑنے کا کیا فائدہ؟
غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر ان لوگوں نے اتنا وقت اگر امریکہ میں بھی گزارا ہوتا تو کب کے شہری بن گئے ہوتے!

اپنا تبصرہ بھیجیں