ایک رشتہ دار لڑکا شہید ہو گیا تھا تو اس کو دفن کرنے کے شام کو چند افراد قبرستان میں چلے گئے

ایک رشتہ دار لڑکا شہید ہو گیا تھا تو اس کو دفن کرنے کے شام کو چند افراد قبرستان میں چلے گئے قبرستان گھر سے دور نہیں تھا ایک ایکڑ کے فاصلے پر تھا قبر پر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد جب وہ افراد واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے ایک عجیب سی آواز سنی تو لمحہ بھر کے لئے رکے وہ آواز بند ہو گئی پھر وہ گھر کی جانب چل پڑے پیچھے پھر وہی آواز آنی شروع ہو گئی ۔گھر پونچ کر بزرگوں کو بتایا بڑوں نے قبرستان میں جا کر دیکھا تو بلکل سناٹا تھا واپس آ گئے رات کو 2 بجے کے قریب ایک مہمان رفع حاجت کے لئے اٹھا تو رات کے سناٹے میں اس نے پھر اونچی آواز میں سریلی آواز سنی پریشان ہو کر آ کر سو گیا صبح کو اس نے سب کو بتایا تو سب نے مشورہ کیا کے کسی عالم دین سے رهنمائی لی جاے تو علاقہ ريگستانی تھا دور دور تک ریت کے ٹیلے نظر آتے تھے لہذا شہر سے انھوں نے عالم دین بلایا اور اس کو سارا ماجرا بتایا تو اس نے کہا کہ وہ آج ادھر رہ کر وہ سریلی آواز سنے گا رات کا وقت ہوا سب لوگ قبرستان چلے گئے لیکن وہاں بلکل خاموشی تھی 2 دن عالم دین وہاں رہا لیکن کوئی آواز نہیں آئی جیسے عالم دین شہرلوٹا تو رات کو پھر وہی سریلی آواز آنے لگی دل کرتا سنتا ہی سنتا رہے پھر ایک اللّه والے بزرگ سے ربطہ کیا تو انہوں نے سب چیز کا جائزہ
اللہ والے نے سب چیز کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کے وہ خود اس قبرستان میں جاۓ گا کچھ دن بعد اللہ والا ان کے گھر گیا اور رات کو کسی کو بتاے بغیر گھر سے باہر نکلا تو اس نے بھی وہ سریلی آواز سنی جو قبرستان سے آ رہی تھی اس آواز کی کشش میں ادھر چلا گیا تو وہ آواز شہید کی قبر سے آ رہی تھی وہ سریلی آواز شہید کی تھی جو قرآن پاک کی آواز تھی صبح کو سب گھر والوں کو اللہ والے نے اکٹھا کیا اور شہید کے بارے میں پوچھا تو والد نے بتایا کہ میرا بیٹا حافظ قرآن تھا اور آرمی میں بھی باجماعت نماز ادا کرواتا تھا ہر وقت چلتے پھرتے قرآن پاک کی تلاوت کرتا رہتا تھا جس جگہ اس کی قبر بنائی ہے ساتھ صرف 4 قبریں اور ہیں جب بھی چھٹی گھر آتا تو فارغ وقت میں وہاں چلا جاتا اور اونچی آواز میں تلاوت کرتا رہتا ۔جب شہید ہوا تو دوستوں نے بتایا کہ صبح ڈیوٹی پر جانے سے پہلے ہر بيرك میں گیا اور دوستوں سے ملا اور کہا کہ اگر میں چلا جاؤں تو نماز کبھی نہیں چھوڑنا اور میرے تابوت کو سلامی دینے کی بجاۓ میرے ماں باپ کو سلامی دینا جنہوں نے مجھے حافظ بنایا اس کے بعد مسکرا کر سب کے گلے ملا اور مورچے پر ڈیوٹی دینے چلا گیا وہاں ساتھ ڈیوٹی دینے والے نے بتایا کے دشمن پر گولے بھی برسا رہا تھا ساتھ ساتھ قرآن پاک کی تلاوت بھی کر رہا تھا اتنے میں نماز کا ٹائم ہو گیا میں نے اسے منع کیا باہر خطرہ ہے نا نکلو پر بھائی نے کہا کہ اوپر سے بلاوا آ گیا ہے نہیں ٹال سکتا یہ کہہ کر مورچے سے باہر نکل گیا جاتے وقت ایک خط دے کر گیا کہ اگر واپس نا آؤں تو یہ خط میرے گھر پونچا دینا یہ تھوڑی دور گیا ہو گا کہ پیچھے سے بھائی کو گولہ لگا اور وہی شہید ہو گیا یہ بتاتے ہوے والد صاحب کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے اس کے بعد بتایا کہ مرے بیٹے نے خط میں میرا اور اپنی ماں کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے مجھے قرآن پاک کا حافظ بنایا میں آپ سے خوش ہوں اور میری شہادت کے بعد رونا نہیں ۔شہید کبھی مرتا نہیں زندہ ہوتا ہے ۔میں جنت کے دروازے پر آپ لوگوں کا انتظار کروں گا ۔اللّه کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کرنا اور ایمان رکھنا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آے گا میرے سے راضی رہنا ۔اللّه حافظ
یہ سننے کے بعد اللہ والے نے ان لوگوں کو بتایا کہ اب کبھی کسی عالم مؤلوی یا کسی پیر کو یہ آواز سنانے کے لئے نہ بلانا آپ خوش قسمت والدین ہو جن کے بیٹے کی قبر پر بھی فرشتے زیارت کیلئے آتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں