بریکنگ نیوز: ستمبر 2020 میں ’’ایاز صادق‘‘ وزیراعظم ہوسکتے ہیں، بڑا دعویٰ سامنے آگیا

اسلام آبد (ویب ڈیسک) ستمبر 2020 میں کون ہو گا پاکستانی وزیراعظم ہاؤس کا مکین؟ بڑا دعویٰ سامنے آ گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیاست میں بھونچال آنے والا ہے، اینکر پرسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ستمبر 2020 ملک کے لئے اہم، ایاز صادق وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر دانش کا کہنا تھا کہ ایاز صادق ستمبر 2020 میں ملک کے وزیراعظم ہو سکتے ہیں اور ایاز صادق کی حکومت میں پی پی کو اہم ذمہ داریاں دیئے جانے کی امید ہے۔ ڈاکٹر دانش کی ٹویٹ پر سوشل میڈیا پر صارفین نے کڑی تنقید کی ہے تو دوسری جانب کئی صارفین نے اس خبر کو درست بھی کہا ہے۔ ڈاکٹر دانش کی ٹویٹ میں کتنی سچائی ہے یہ تو ستمبر ہی بتائے گا کیونکہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی کہتے تھے کہ قربانی سے پہلے قربانی ہونے والی ہے لیکن عید قربان آ جاتی اور عید پر ہی قربانیاں ہوتیں وہ جانوروں کی لیکن ایک بات قابل توجہ ہے کہ ملک میں کرونا کی وجہ سے سیاسی جماعتوں‌کو کوئی بھی سرگرمی کرنے کو نہیں مل رہی، مولانا فضل الرحما ن نے مارچ میں جلسوں کا اعلان کیا ہوا تھا کہ کرونا آ گیا، ن لیگ کی قیادت بھی کرونا کا شکار ہو چکی ہے، آصف زرداری بھی منظر سے غائب ہیں اور وہ ضمانت پر ہیں۔ گزشتہ روز بی این پی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا تو آصف زرداری اور اختر مینگل میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا،اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کو ملک کی ضرورت ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت اتحادی جماعتوں کے سہارے کھڑی ہے، ایم کیو ایم نے بھی جب حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا تو بلاول زرداری نے ایم کیو ایم کو سندھ میں اتحادی بننے کی پیشکش کی تھی جس کو ایم کیو ایم نے ٹھکرا دیا تھا ، اب آصف زرداری اور اختر مینگل کی علیحدگی کے چند گھنٹوں کے بعد بات چیت یہ وفاقی حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی لگ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں بڑی جماعتیں کوشش کریں گی کہ وفاقی حکومت کو گرایا جائے اور اسکے لئے عوامی رائے ہموار کرنے کے لئے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان کا استعمال کیا جا سکتا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ جلسوں میں بندے اکٹھے نہیں کر سکتیں اسلئے مولانا فضل الرحمان کو ساتھ ملکر ملک بھر مین جلسے کئے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اختر مینگل کو منانے کا ٹاسک پرویز خٹک کو دے دیا ہے، اختر مینگل کی آج چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات ہوئی ہے تا ہم اختر مینگل نے صادق سنجرانی کو کھرا جواب دیا ہے ،اختر مینگل نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو فوری یقین دہانی سے معذرت کی، چیئرمین سینیٹ بی این پی کے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کریں گے۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت سے رابطے پہلے دن سےچل رہے تھے،2 سال میں 4 کمیٹیاں بنائی گئی تھیں، پہلی کمیٹی جہانگیر ترین دوسری کمیٹی مرحوم نعیم الحق اور تیسری کمیٹی پرویز خٹک کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، کچھ ماہ بعد کمیٹی کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ اب ڈاکٹر دانش کی بات کہاں تک پوری ہوتی ہے؟یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، تا ہم موجودہ حالات تحریک انصاف کے لئے اچھے نظر نہیں آ رہے، کیونکہ مسلم لیگ ق کے مونس الہیٰ کا بھی شوگر سیکنڈل میں نام ہے،اگر ق لیگ بھی متحرک ہو جاتی ہے اور ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرتی ہے تو حکومت کو اسے بھی منانا پڑے گا اور اگر ق لیگ نہ مانی تو کم از کم پنجاب میں تو تبدیلی کا دو سو فیصد امکان ہو گا۔ قومی اسمبلی میں اسوقت تحریک انصاف کی 156،ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی 5،جی ڈے اے 3، عوامی مسلم لیگ 1،جمہوری وطن پارٹی ایک اور دو آزاد ارکان حکومتی اتحاد میں شامل ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی 84،پیپلز پارٹی کی 55، ایم ایم اے کی 15،اے این پی کی ایک اور 2 آزاد ارکان شامل ہیں۔ بی این پی مینگل کی علیحدگی کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی نشستیں کم ہو کر 180 رہ گئیں، پی ٹی آئی حکومت اب صرف 8 ارکان کے سہارے کھڑی ہے،،بلوچستان نیشنل پارٹی اگر حزب اختلاف کا حصہ بن گئی تو اپوزیشن اتحاد کی سیٹیں 161 ہو جائیں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں