بھارت میں مسلمان بچوں کو قرآن حکیم پڑھانے والی ایک ہندو نوعمر بچی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اس دنیا میں روز ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں جن پر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے ۔ خالق کائنات اکثر و بیشتر اپنے ہونے کا ایساواضح ثبوت دیتا ہے کہ یقین کئے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا ۔ایسا ہی کچھ بھارت کے شہر آگرہ میں پیش آیا
جب ایک ہندو لڑکی کا مسلمانوں کے بچوں کو قرآن حکیم پڑھانا دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی ۔ پوجا کشواحا نامی یہ نو عمر ہندو لڑکی مندر میں35سے زائد مسلمان بچوںکو قرآن مجید پڑھاتی ہےجس کی وہ کوئی فیس بھی نہیں لیتی۔بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق فرقہ وارانہ کشیدگی کی شکارریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں مذہبی ہم آہنگی کی غیر معمولی مثال سامنے آئی ہے ، سنجے نگرکالونی کے ایک مندر کے احاطے میں ہر شام ایک کھلی کلاس روم کا انعقاد کیا جاتا ہےجہاں 18سالہ ہندولڑکی پوجا کشواحا 35مسلمان بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی ہے ،پوجاخو د بارہویں کلاس کی طالبہ ہے اور عربی تلفظ کی ادائیگی، زبان کےقوائد اور مشکل صوتی انداز کوبڑی خوبصورتی سے ادا کرتی ہے۔ بہت سے ذہنوں میں یہ خیا ل ضرور آیا ہوگا کہ پوجا ہندو ہونے کے باوجود دنیا کی فصیح ترین زبان عربی کے حروف کی ادائیگی کس طرح کر پاتی ہے ؟ ۔ جب یہ سوال پوجا سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ کئی سال قبل ان کےمحلےمیں ایک خاتون سنگیتا بیگم رہتی تھی جس کے والد مسلمان اور ماں ہندو تھی،وہ محلے میں بچوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھی۔ پوجا کا کہنا تھا کہ اسے بھی مقدس کتابیں پڑھنے میں دلچسپی تھی۔ لہذا اس نے سنگیتا بیگم سے قرآن مجید کی کلاسز لینا شروع کردیں اور بہت جلد دیگر بچوں سے آگے نکل گئی۔کچھ ذاتی مسائل کی وجہ سے سنگیتا بیگم اپنی کلاسوں کو جاری نہ رکھ سکی اور اس نےپوجا سے درخواست کہ وہ اس کی روایت کو زندہ رکھے۔ لہذا اس نے قرآن مجید پڑھانا شروع کردیا۔سنگیتا بیگم نے پوجا کو اسلام کا ایک بہترین اصول بتایا کہ ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں جسے دوسروں تک نہ پہنچایا جائے۔
پوجا کے پاس قرآن مجید پڑھنے والے بچے زیادہ تر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، شروع میں وہ اپنے گھر پڑھاتی تھی مگر اس کا گھر چھوٹا تھاجیسے ہی طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اس کے پاس جگہ نہیں تھی،علاقے کے بزرگوں نے مندر کے احاطے میں اسے کلاسز جاری رکھنے کی پیشکش کی۔پوجا کی بڑی بہن نندنی گریجوایٹ ہے وہ بھی مقامی بچوں کو ہندی اور بھاگوت گیتا پڑھاتی ہے۔پوجا اور نندنی کی ماں رانی کشواحا کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی بیٹیوں پر فخر ہے۔قرآن مجید کی تعلیم کی تلاوت سیکھنے کےلئے وہاں آنے والی ایک طالبہ علیشہ کی والدہ ریشم بیگم کا پوجاکے متعلق کہنا تھا کہ چھوٹی سی عمر میں اسے یہ منفرد خصوصیات کا ملنا ایک معجزہ لگتا ہے۔میں بہت خوش ہوں کہ وہ میری بچی کی استاد ہے، میری طرح دیگر والدین بھی اس سے مطمئن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں