بیویوں کے شک کی عادت ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ اُس کی وجہ خود شوہر ہیں

میرے شوہر سمیت تمام شوہر حضرات ہمیشہ شکوہ کناں رہتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان پر شک کرتی ہیں ۔ میرے شوہر کا اصرار ہے کہ میں اُس پر مکمل اعتبار کروں ۔ اس کی کہی ہر بات کو صحیح مان لوں ۔ اس کے کسی قول و فعل پر کوئی سوال نہ اٹھاؤں۔ ان کا موبائل فون چیک نہ کروں ۔ بٹوے اور کپڑوں کی جیبوں کی تلاشی تو ہر گز نہ لوں ۔میں پورے خلوص سے کوشش کرتی ہوں کہ میں ان پر مکمل اعتماد کر سکوں مگر کیا کروں ؟ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا معاملہ ہو ہی جاتا ہے جس سے میرے ان پر اعتماد کو دھچکا لگ جاتا ہے۔ابھی کل ہی کی بات سن لیجئے۔ میں نے شام چھ بجے اپنے شوہر موصوف کے دفتر فون کیا تو معلوم ہوا کہ صاحب تو ساڑھے چار بجے ہی دفتر سے چلے گئے تھے۔ دفتر سے گھر کا فاصلہ صرف پندرہ منٹ کا ہے مگر میرے سر تاج رات ساڑھے دس بجے گھر تشریف لائے ۔ میں نے پوچھا کھانا لگاؤں تو بولے “ نہیں بھئ ۔۔ دوستوں کے ساتھ کھا لیا تھا “ میرا ماتھا ٹھنکا ۔۔ وہ نہانے کے لئے غسل خانے میں گُھسے تو میں نے پھرتی سے ان کے موبائل فون کو کھنگالا مگر اس میں سے کچھ نہ ملا ۔میں نے پرس کی تلاشی لی تو اس میں کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کا بل ملا۔ بل کے مطابق دو افراد میز پر تھے اور دو برگر، دو بوتل ، دو آئسکریم منگوائی گئی تھیں ۔ بل پر اسی دن کی تاریخ اور رات ساڑھے نو بجے کا وقت درج تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ ون آن ون ملاقات تھی ۔ یہ جاننا میرا حق تھا کہ دوسرا کون تھا؟ ۔صاحب جیسے ہی نہا کر نکلے میں انہیں سٹڈی روم میں لے گئی اور بل ان کے سامنے رکھ دیا۔ بل دیکھتے ہی ان کا رنگ اُڑ گیا مگر انہوں نے فورا ہی خود کو سنبھالا اور بولے” بتایا تو ہے دوست کے ساتھ ۔۔۔” میں نے ان کی بات کاٹ کر پوچھا “ جناب ! آپ تو فرما رہے تھے کہ دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا تو پھر یہ کیا ہے؟ “ میں دوستوں نہیں ۔۔۔ دوست کہا تھا ۔۔۔ اور پھر یہ بھی کھانا ہی ہوتا ہے” اچھا ! تو پھر بتائیے یہ ون آن ون عیاشی کس کے ساتھ کی؟ “ میں نے پوچھا وہ میرے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے بولے “ چنیوٹ سے میرا دوست راشد آیا تھا اس کے ساتھ جانا پڑا “۔کون راشد ؟ میں نے وضاحت چاہی ۔ یار ! وہی جو سوئی گیس میں ملازم ہے ۔۔۔ ہوں ۔۔۔ یہ وہی راشد ہے ناں جس کی بیوی بنک میں مینجر لگی ہے ۔ وہ لوگ ہمیں ایک شادی پر ملے بھی تھے ۔۔ میں نے مزید وضاحت چاہی ۔۔ ہاں ہاں وہی ۔۔ میرے شوہر نے تصدیق کر دی ۔ اب میرے پاس مزید تصدیق کا کوئی طریقہ نہ تھا لہذا میں نے اپنے تمام تر شک کے باوجود شوہر صاحب کو سونے کے لئے جانے دیا ۔اگلے دن صبح ناشتے کے بعد میں اپنے شوہر سے کہا کہ آج چھٹی ہے کیوں نہ آج گھر کا راشن ہی لے آئیں ۔ وہ فورا مان گئے ۔ ہم لوگ شہر کے سب سے بڑے شاپنگ سینٹر جا پہنچے۔ہم لوگ شاپنگ میں مصروف تھے کہ اچانک عقب سے اسلام علیکم کہتے ہوئے کوئی میرے شوہر سے آ لپٹا ۔میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو وہ ان کا دوست راشد تھا۔ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ راشد میرے شوہر سے شکوہ کر رہا تھا “ یار!کہاں گم ہو ۔ نہ کوئی ملاقات اور نہ ہی کوئی فون کال” اس کی بیوی نے گپ شپ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ کئی دن سے لاہور تھے۔ اس کی چھوٹی بہن کی شادی تھی۔ وہ لوگ گزشتہ رات ہی واپس چنیوٹ آئے ہیں ۔
اب یا تو وہ دونوں میاں بیوی ہی جھوٹے ہیں اور یا پھر میرے شوہر نے گزشتہ رات مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔ اب آپ ہی بتائیں میں اپنے شوہر پر اعتماد کیسے کروں ؟ میری شک کی عادت کیسے ختم ہو؟۔
(تنویر بیتاب)

اپنا تبصرہ بھیجیں