تحریر وجیہہ جاوید

صد لفظی کہانی
وجیہہ جاوید
نوعمری میں چاند کو دیکھتے ہوئے محسوس ہونے والی راحت ،اس کی روح کو منور کر دینے والی ٹھنڈی چاندنی کا سحر تنہائیوں میں بہنے والے ا نگاروں نے جانے کب کا توڑ دیا تھا اور اس کی جگہ چاند کو دیکھتے ہوئے پیدا ہونے والی بدحواسیاں اور بے چینیاں زندگی کے ان آخری مراحل میں ان چاندنی راتوں کو اور بھی خوفناک بنا رہی تھیں۔ اس نے خوف کی شدت سے اپنی آنکھیں دونوں ہاتھوں سے ڈھانپی ہوئی تھیں مگر اس کا خوفناک ماضی آنسوؤں کی شکل میں قطرہ قطرہ اس کی بند آنکھوں سے ٹپک رہا تھااس کے مردہ بچے کے پاس موجود تماشائی لوگوں کی بددعاوُں نے اپنا اثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ بھی خود کو ایک بند تھیلےمیں محسوس کر رہی تھی جس میں نائیکہ نے اس کے بچے کو اس کی نیم بیہوشی کی حالت میں ڈال کر کہیں دور پھینک دیا تھا۔وہ بدبخت تو اپنے بچے کی پاکیزہ خوشبو کو بھی اپنے اندر نہ اتار پائی تھی۔موت کی آخری ہچکی نے اس کی روح کو دنیاوی جہنم کی قید سے آزاد کر دیاتھا۔ اس کے چہرے پر پھیلا اطمینان چیخ چیخ کر اس کے بے گناہ ہونے کا اعلان کر رہا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں