’’تم سب کو بھی رشتہ داروں سمیت ایسے ہی گولیوں سے بھون دینگے‘‘ منہ بند رکھنے کیلئے سانحہ ساہیوال کے گواہوں کیساتھ کیا سلوک کیا گیا؟تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں دفاعی تجزیہ نگار ظفر ہلالی نے سانحہ ساہیوال کے عدالتی فیصلے پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کا اس فیصلے پر اپیل کرنا بالکل ٹھیک تھا۔میں سانحہ ساہیوال پر آئے فیصلے کو شرمناک کہوں کا۔ظفر ہلالی نے مزید کہا کہ 27لوگوں جو اس واقعے کے گواہ تھے۔ ان کو لے جایا گیا تھا۔گواہوں سے واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو سب خاموش ہو گئے اور کہا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پولیس والوں نے سب کو پکڑ لیا ا ور انہیں کہا کہ اگر ایک لفظ بھی بولا تو تمہارے ساتھ بھی وہی ہو گا جو ان کے ساتھ ہوا ہے۔منہ کھولنے کی صورت میں یہ تمہارے اور تمہارے رشتے داروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ گواہ بھاگ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ تو کچھ سنا اور نہ ہی دیکھا۔جب کہ متاثرہ خاندان بھی خوف کے دباؤ کے تحت پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ساہیوال پچھلے دس سال میں سب سے بڑے اور افسوسناک واقعے تھے اور دونوں میں متاثرین کو انصاف نہیں ملا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال کے عدالتی فیصلے کیخلاف پنجاب حکومت کو اپیل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ وزیراعظم نے سانحہ ساہیوال پر خصوصی عدالت کے فیصلے پر پنجاب حکومت کو اپیل دائر کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ اب اس کیس کی پیروی میں استغاثہ کی کمزوری اور خامیوں کی تحقیقات کرنے سے متعلق بھی احکامات جاری کیے ہیں ۔ ایک ٹویٹ پیغام میں انہوں نے لکھا کہ بچوں کے سامنے دن دیہاڑے ان کے والدین کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا, اس کی ویڈیو پوری قوم نے دیکھی ، حکومت ان معصوم بچوں کو انصاف دلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی ۔ اگر ان کے خاندان سے اس کیس کا کوئی مدعی نہیں بنتا تو ریاست اس مقدمے کی مدعیت کرے گی ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ساہیوال کے مقدمے میں ملوث تمام افراد کو شک کی بنا پر بری کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں