جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی، جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

اس کی ماں کی۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کیسے کام کرتی ہے۔‘
بات ماں کی گالی کی نہ ہوتی تو شاید اس دن بھی تحریم ان جملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سٹوڈیو میں جاتیں اور پروگرام ریکارڈ کرواتیں۔ ان کا پانچ سال سے یہی معمول تھا مگر آج جب انھوں نے اپنے کانوں سے یہ گالی سنی تو فیصلہ کیا کہ اب وہ خاموش نہیں بیٹھیں گی۔

چند ماہ بعد تحریم کراچی کے ایک متمول علاقے میں موجود عدالت کے کمرے کے باہر بیٹھی تھیں۔ اُن کے مقدمے کو کئی مہینے گزر چکے تھے اور ان کے پاس دستاویزات کا ایک پلندہ تھا۔

’میڈم آپ کے وکیل آج نہیں آ رہے۔‘ تحریم منیبہ نے حیرت سے دوسری پارٹی کے وکیل کو یہ کہتے سُنا اور اس وقت انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں گی۔

یوں ان کی زندگی کا ایک ایسا کٹھن سفر شروع ہوا جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’میں آج وہ نہیں رہی جو دو سال پہلے تھی۔ اس مقدمے نے میری زندگی اور میرا کریئر دونوں ہی بدل دیے ہیں۔‘

وہ پانچ اگست 2016 کا دن تھا۔

’بھائی کل بارش ہوئی۔ تحریم ٹائٹس پہن کر آئی ہوئی تھی۔ یہاں ٹیرس پر کھڑے ہو کر چائے پی رہی تھی۔ میں بھی یہیں کھڑا تھا۔ بلال مجھے ڈھونڈتا ہوا آیا۔ وہ آواز لگانے لگا۔ میں نے اسے اشارہ کیا ’چپ کر، اِدھر آ۔۔۔ وہ خاموش ہو گیا، میرے پاس آیا۔ پھر ہم دونوں نے مل کر چائے کے ساتھ جو مزے لیے۔ بھائی وائٹ کلر کی ٹائٹس اور یہاں بالکونی میں تیز ہوا چل رہی تھی۔ اب تو خود سوچ لے، کیا کیا نظر آ رہا ہو گا۔‘

یہ الفاظ تحریم کے ساتھ دفتر میں کام کرنے والے عدیل نامی شخص کے تھے جو عدالت میں اس مقدمے کے واحد گواہ دانش نے بیان کیے ہیں۔ دانش نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دفتر کے ایک ساتھی اور سپروائزر ایاز ابڑو نے دفتری ماحول خواتین کے لیے نہایت مشکل بنا دیا تھا۔

خود تحریم کے عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق ایک دن جب وہ سٹوڈیو جا رہی تھیں تو ان کے ایک ساتھی ان کے پیچھے چل رہے تھے، جس پر ایاز ابڑو نے بلند آواز میں کہا ’او بھائی، تو اِدھر آ جا۔۔۔ تجھے چُوس لے گی۔‘

تحریم نے مڑ کر انھیں دیکھا، سر جھکایا اور اپنے کام میں مگن ہو گئیں۔

ایک دن جب وہ دفتر میں کوریڈور سے گزر رہی تھیں، ملزمان میں شامل زنیر شاہ نے انھیں دیکھا اور کہا: ’تربوز کا موسم تو نہیں آیا ابھی، لیکن آفس میں کیوں نظر آ رہے ہیں؟‘

تحریم نے یہ الفاظ سنے اور سوچا کہ ان جملوں کا جواب دینے کی بجائے کام پر توجہ دینا زیادہ مناسب ہے اور وہ خاموشی سے کوریڈور سے گزر گئیں۔ مگر یہ سلسلہ نہ رکنا تھا اور نہ ہی رکا۔

ان کی سوچ کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب انھیں عدالت کے ایک اہلکار نے آئندہ سماعت کی تاریخ بتائی۔

کمرہ عدالت کے باہر اب بھی چہل پہل تھی۔ کئی خواتین آتی ہیں، ہاتھوں میں فائلیں تھامے وہ اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے۔ کچھ خواتین اپنے وکیل کے ہمراہ ہوتی ہیں اور کچھ خود ہی اپنا مقدمہ لڑنے آ جاتی ہیں۔

ایسے میں انتظار گاہ میں وہ ملزمان بھی موجود ہوتے تھے جن پر ان خواتین نے ہراساں کرنے کے الزامات لگائے ہوں۔ تحریم نے ان چند مہینوں میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ ہراسانی کے مقدمات میں ملزمان تنہا نہیں ہوتے، عام طور پر ان کے ساتھ ایک مجمع ہوتا ہے۔ یہ ان کے ساتھی ہوتے ہیں، ان کے وکلا اور ان کے دوست بھی ساتھ آتے ہیں۔ ادارے کے دیگر اہم عہدیدار بھی آتے ہیں۔

یہ سب شکایت درج کرانے والی خاتون کے لیے اعصابی تناؤ کا سبب تو بنتا ہی ہے مگر اس کمرۂ عدالت تک آنے والی خواتین پہلے ہی بہت کچھ سہہ کر آتی ہیں۔

’میں خود بھی تو انھی میں سے ایک ہوں۔‘ یہ سوچتے ہوئے تحریم نے ثبوتوں کی فائل کو مضبوطی سے تھاما اور گھر کے لیے روانہ ہو گئیں۔

عدالت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ہراسانی ہی کے کسی مقدمے میں فریق ایک مرد کے ساتھ ہجوم سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ ’شاید جج صاحب کے پاس اگلا نمبر ان کا ہے۔ مردوں کی اکثریت عام طور پر ہجوم میں ہی کیوں ہراساں کرتی ہے، کیا سب کی سوچ ایک سی ہے؟‘

خود سے یہ سوال کرتے ہی انھیں وہ دن یاد آیا جب دفتر میں ان کے دو ساتھی عدیل اور نعمان بٹ کوریڈور میں کھڑے تھے جہاں انھوں نے تحریم کو روک کر کہا ’یہ خواتین کے مزاج کے مسائل کیوں ہوتے ہیں؟‘ تحریم نے انھیں جواب دیا، ’میں نہیں جانتی لیکن مجھے یہ علم ہے کہ خواتین بہتر مزاج رکھتی ہیں۔‘

اس پر نعمان بٹ نے جواب دیا ’جنت تو عورت کے قدموں کے نیچے نہیں بلکہ۔۔۔ بیچ میں ہوتی ہے۔‘ جب نعمان بٹ یہ جملہ کہہ رہے تھے تو ان کے ساتھ کھڑے ساتھی نے اسے مکمل کرنے میں مدد دی۔

تحریم کا سر شرم سے جھک گیا، وہ بنا کچھ کہے تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے چلی گئیں مگر ان دونوں کا بلند قہقہہ دیر تک انھیں سنائی دیتا رہا۔

اسی طرح ایک روز جب تحریم ایک ٹی وی انٹرویو کے بعد دفتر پہنچیں تو ملزم زنیر شاہ نے انھیں دیکھ کر ذومعنی انداز میں کہا، ’آپ کیا چاہتی ہیں ہم آج گھر نہ جائیں؟‘

یہ گذشتہ پانچ برس کے دوران تحریم کے ساتھ پیش آنے والے درجنوں واقعات میں سے چند ایک ہیں اور انھیں مقدمے کی فائل میں درج کرنا بھی آسان نہیں تھا۔

یہ ان کے لیے اس قدر مشکل تھا کہ ان کے مقدمے کے گواہ سے جب انھوں نے درخواست کی کہ وہ کچھ واقعات شیئر کریں تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ وہ سب کچھ لکھ کر عدالت میں تو جمع کروا سکتے ہیں مگر ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ الفاظ اپنی زبان پر لا سکیں۔

جو واقعہ یہ مقدمہ لڑنے کی وجہ بنا وہ اگست 2018 کا ہے جب پروگرام کی ریکارڈنگ سے قبل ان کے سٹوڈیو میں بدبودار جوتے رکھے گئے۔ جب انھوں نے اس بارے میں متعلقہ عملے سے سوال پوچھے تو کسی نے جواب نہ دیا تاہم انھوں نے اس وقت ان کی بات سن لی جب وہ سٹوڈیو کے دروازے کے قریب تھیں۔

ان میں سے ایک کہہ رہا تھا ’اس کی ماں کی۔۔۔ تُو دیکھ میں کرتا کیا ہوں اِس کے ساتھ۔۔۔ ہے کیا یہ۔۔۔ ابھی ای میل کرتا ہوں، شو (پروگرام) کرتی ہے نا یہ؟ اِس کی اوقات کیا ہے؟ اس کی ماں کی۔۔۔ تین گھنٹے کا شو ہے نا؟‘

تحریم نے اس واقعے کے بعد دفتر میں ہی شکایت درج کرائی مگر واقعے میں ملوث تمام افراد کو کلین چٹ دے دی گئی۔ ثبوت مٹانے کے لیے اس دن کی سٹوڈیو کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ڈیلیٹ کر دی گئی تھی۔

تحریم کے ادارے نے ماضی میں ان پر نازیبا جملے کسنے کے معاملے کو اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ خاتون نے اس سے پہلے کبھی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ان کے پاس ثبوت ہیں جبکہ جن پر نازیبا جملے کسنے کا الزام ہے ان کے ساتھی کارکنوں نے ایسے کسی رویے کی تردید کی ہے۔

ان کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ ’گالی دینا ہراساں کرنے کے مترادف ہی نہیں ہے۔‘

اس واقعے کے بعد تحریم کو احساس ہوا کہ وہ اب اس ماحول میں مزید کام نہیں کر سکتی ہیں۔ لہٰذا انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس استعفے اور ادارے میں خواتین کے لیے سازگار ماحول نہ ہونے سے متعلق ٹویٹ بھی کی۔

ان کی ٹویٹ کو بنیاد بنا کر دفتر کے حکام نے ٹھیک دو روز بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور انھیں 50 کروڑ روپے کا ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔ یہ مقدمہ تادمِ تحریر سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

تحریم کہتی ہیں ’یہ بہت بڑا امتحان تھا۔ میں ایک مہینہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی۔ میں نفسیاتی مریض بن گئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر میں نے کیا کیا ہے۔ میں سوچتی تھی کہ میں اتنی بڑی رقم کیسے دوں گی اور یہ کہ میں اس قدر مضبوط گروپ کا مقابلہ کیسے کروں گی۔‘

انھیں لگنے لگا کہ ان کی زندگی اور ان کا کریئر سب ختم ہو گیا ہے مگر ایک ماہ بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہراساں کیے جانے کے خلاف مقدمہ دائر کریں گی اور ان تمام افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں گی جو ان کی اس قدر تذلیل کرتے رہے کہ وہ نفسیاتی مریض بن رہی تھیں۔

انھوں نے سما ایف ایم نامی نجی ریڈیو ادارے میں کام کرنے والے سات افراد محمد شعیب، محمد نوید، نعمان بٹ، عدیل اختر، رضوان چودھری، ایاز ابڑو اور زنیر شاہ کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کروا دیا اور اس میں سما ایف ایم کے چیف آپریٹنگ افسر کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سما ایف ایم کے چیف آپریٹنگ آفیسر فہد ہارون اس وقت وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے اطلاعات تعینات ہیں۔ وہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے رکن بھی ہیں۔ ان پر جنسی ہراسانی میں ملوث ہونے کا ذاتی طور پر الزام نہیں ہے لیکن وہ اس مقدمے میں کمپنی کے نمائندے اور اہم گواہ کے طور پر پیش بھی ہوئے اور جرح کا سامنا بھی کیا۔

یہ شکایت کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف ایکٹ 2010 کے تحت صوبائی محتسب کی عدالت میں درج کی گئی اور یوں دو سال کا ایک کٹھن سفر شروع ہوا۔

’چکنی لگ رہی ہو‘، ’آج تو غالب کا پاجامہ پہن کے آئی ہو‘، ’آج تو کالج کی بچی لگ رہی ہو‘، ’ارے دیکھو، جیکولن فرنینڈس کو، یہ فرنینڈس جیسی لگتی ہے نا‘، ’ارے یہ تو وہی پاجامہ ہے نا جو تم نے پرسوں پہنا تھا؟‘

اس سفر کے دوران انھیں کئی بار یہ سب اور بہت کچھ کمرۂ عدالت میں دہرانا پڑا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا مگر بالآخر اس سفر نے ختم ہونا تھا۔

تین ماہ میں مکمل ہونے والے مقدمے نے وکلا کی بار بار عدم حاضری کے باعث اس قدر طول پکڑا کہ آخرکار انھیں مقدمہ خود اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔

تحریم کے لیے اس مقدمے کی سماعتوں کے دوران ایک مشکل دن وہ تھا جب انھیں علم ہوا کہ انھی کے دفتر کی دو خواتین ان کے خلاف گواہی دیں گی۔

ان میں سے ایک ثنا فاطمہ نے عدالت کو ملزمان کے حوالے سے بتایا کہ وہ ’میرے ساتھ نہایت عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں اور کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا‘ اور یہ کہ انھوں نے ’دو مختلف مواقع پر شکایت کنندہ (تحریم) کو ملزمان کے ساتھ دیکھا اور انھیں قطعاً ایسا نہیں لگا کہ ان میں عزت و احترام کا تعلق نہیں ہے۔‘

جب وہ یہ بیان دے رہی تھیں تحریم کو انگریزی فلم ’اینیمی آف دی سٹیٹ‘ یاد آئی جس میں مرکزی کردار کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے شکوک و شبہات پیدا کیے گئے تھے۔

تاہم وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ ہراسانی کے کسی بھی مقدمے میں شکایت کنندہ کی کردار کشی ایک عام سی بات ہے اور ہراساں کرنے والے شخص کے کردار کی گواہی دینے والے ساتھیوں کا سامنے آنا بھی ہرگز غیر معمولی نہیں۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ عدالت بھی ایسے ہتھکنڈوں کو سمجھتی ہے اور عام طور پر جھوٹی گواہیاں اور کردار کشی جرح کے وقت خاک میں مل جاتی ہیں۔

انھیں اپنی ساتھی خواتین کے بیانات پر افسوس تو تھا مگر یہ تسلی تھی کہ عدالت میں یہ قابلِ قبول نہیں ہوں گی اور ایسا ہی ہوا۔

عدالت میں جرح کے دوران ان خواتین گواہان نے تسلیم کیا کہ انھوں نے جس گواہی کی دستاویز پر دستخط کیے وہ انھوں نے خود نہیں لکھی تھی بلکہ دفتر کی جانب سے ان کے گھر دستخط کے لیے بھیجی گئی تھی۔ یوں عدالت نے ان کی گواہی کو رد کر دیا۔

ملزمان کی جانب سے سماعت کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ گالی دینا یا جملے کسنا جنسی ہراس کے زمرے میں نہیں آتا اور یہ بھی کہ تحریم اس سے قبل ایسے تمام واقعات پر خاموش رہی ہیں اور کبھی شکایت درج نہیں کرائی، اس لیے یہ کیس خارج کیا جائے۔

تاہم ملزمان اپنی صفائی میں نہ تو کوئی ٹھوس ثبوت اور نہ ہی ایسے دلائل پیش کر کے جس سے ان کی بے گناہی ثابت ہو سکے۔ ان کی گواہیاں عدالت نے رد کر دیں، جبکہ ایک ملزم کی مختلف مواقع پر غلط بیانی بھی سامنے لائی گئی۔

سی سی ٹی وی کیمرے کے حوالے سے عدالت میں ادارے کے سی او او فہد ہارون نے بیان حلفی میں سی سی ٹی وی کیمرے کی موجودگی سے ہی انکار کر دیا تھا، تاہم جرح کے دوران انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کا بیان غلط تھا کیونکہ سٹوڈیو میں کیمرہ موجود ہے۔

انتظامیہ کے سربراہ علی احترام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے واقعے کی صبح سٹوڈیو میں نصب کیمرے چیک کیے تھے جو بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے تاہم یہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا جب انھوں نے یہ دیکھا کہ واقعے کے دن سمیت نو دن کی فوٹیج غائب ہے۔

علی احترام نے تردید کی کہ انھوں نے شکایت کنندہ کو واقعے کے چند روز بعد فون پر یہ بتایا تھا کہ پاس ورڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی گئی ہے تاہم تحریم کی جانب سے فون کالز کی ریکارڈنگ بطور ثبوت پیش کیے جانے کے بعد انھوں نے ان تمام الزامات کو تسلیم کر لیا۔

عدالت میں دیگر تمام ملزمان نے بھی بالآخر اعترافِ جرم کیا۔

مقدمے کے فیصلے کی دستاویز میں دیگر اہم نکات میں سے ایک اہم وضاحت کی گئی ہے کہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کرنے میں تاخیر کو وجہ بنا کر کسی کو ہراساں کرنے والے شحص کو بری نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’مظلوم کی خاموشی اُسے اس کے حق سے دستبردار کرتی ہے نہ ہی مجرم کو اس کے جرم سے آزاد کر سکتی ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کے اس حق کا تحفظ یقینی بنائے۔‘

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ تحریم کو ناسازگار ماحول میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کے ان ذہنی صحت اور شخصیت ہر سنجیدہ اثرات مرتب ہوئے۔

عدالت نے ملزمان کی جانب سے استعمال کیے تمام الفاظ اور جملوں کو متعصبانہ، غیر اخلاقی، گالی اور جنسی بنیادوں پر ادا کیے گئے جملے قرار دیا۔

عدالت نے کہا کہ ان جملوں نے شکایت کنندہ کی عزت نفس اور ان کے وقار کو مجروح کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ الزامات مکمل طور پر سچ نہ ہوں تو کسی بھی خوددار اور عزت دار خاتون کے یہ تصور بھی محال ہے کہ وہ اپنی ذات سے جڑے ایسے جملے عدالت کے سامنے دہرائے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ خواتین کے خلاف معاشرے میں موجود تعصب انھیں مقدمہ درج کرنے سے روکتا ہے، یہ تعصب کہ خاتون خود اپنے رویے، لباس، حتیٰ کہ محض اپنی موجودگی سے ہی ہراساں کیے جانے کی دعوت دیتی ہے۔ اس لیے خواتین خاموشی اختیار کرتی ہیں کہ کہیں ان کی عزت، نوکری اور مستقبل ہی داؤ پر نہ لگ جائیں۔

دو سال بعد بالآخر تحریم کا مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے ان کا موقف تسلیم کرتے ہوئے تمام ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

تحریم چاہتی تھیں کہ جب یہ تھکا دینے والی جنگ ختم ہو تو ان کے پاس ان کے اپنے موجود ہوں، اس لیے وہ فیصلہ سننے کے لیے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عدالت آئی تھیں۔ فیصلہ سنتے وقت ان کی انکھوں میں آنسو تھے اور وہ سوچ رہی ہیں کہ ان دو برس نے ان کی زندگی کیسے بدل دی۔

تحریم اب بے روزگار ہیں لیکن فی الحال ان کی زندگی میں عدالت کے چکر ختم نہیں ہوئے کیونکہ اب وہ سندھ ہائی کورٹ میں ہتک عزت کے اس مقدمے کی سماعت میں دلائل کی تیاری کر رہی ہیں جو سما ایف ایم نے ان کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔

فرحت جاوید : بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں