جو لوگ دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں خوف زدہ رہتے ہیں

جو لوگ دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں خوف زدہ رہتے ہیں
پیر‬‮ 10 جون‬‮ 2019 | 7:19خصوصی فیچرز
آج موبائل پر ایک پوسٹ آئ جو بہت کام کی اور دل کو چھوُ جانے والی تھی۔ ایک دل کو چھو جانے والے دوست کی طرف سے جو پوسٹ بھیج کر زہن کو تو اکثر چھوتا رہتا ہے مگر اس کو اب میں چھو نہیں سکتا کیونکہ اسکول کے بعد وہ دوسرے ملک میں بیٹھ کر کسی اور کو چھوتا ہو گا ، ہمیں تو وہ صرف چھیڑتا ہے جس سے دل منور ہو جاتا

ہے۔ اس کا نام بھی منور ہے ۔بات کچھ یوں تھی کہ جو کچھ ہم جسم کے اندر لے جاتے ہیں وہ

قدرتی طریقہ سے باہر بھی نکالنا ہوتا ہے ورنہ جسم کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ۔مثلاً غزا جو ہم کھاتے ہیں ، سانس جو ہم لیتے ہیں باہر بھی نکالنی ہے۔ایک بات جس پر توجہ نہیں کی جاتی وہ جزبات اور منفی خیالات ہیں جو اگر باہر نہ نکالے جائیں تو زہر جسم کے لیے اور قہر ارد گرد کے لوگوں کے لئے بن سکتے ہیں ۔

ان میں غصہ ، نفرت ، عدم تحفظ ، حسد وغیرہ شامل ہیں جو مُختلف بیماریوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں جس کے بعد دواوں کے منفی اثرات کا شیطانی چکر اور ناشکری کا رُجہان شروع ہو جاتا ہے۔اتفاق سے میں بھی کسی ناکامی کے احساس میں گھرا ہوا تھا اور اس کو نکالنے کی کوشش میں تھا کہ اچانک اس پوسٹ نے حوصلہ دیا اور میں ان جزبات کو باہر نکالنے پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو گیا۔اس کے لیے مزہب اور سائنس رہنمای بھی کرتے ہہیں ۔مائنڈ سائنس میں کچھ زہنی مشقیں ہیں۔صوفی مُراقبہ کا مشورہ دیتے ہیں ۔اس کیفیت میں مجھےجو طریقہ راس آیا وہ ایک بزرگ کی کتاب اُٹھا کر ایک عبارت پڑھنا جو کچھ یوں ہے۔” خوف در اصل خواہش سے جنم لینے والی کیفیت ہے۔ جو لوگ دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں خوف زدہ رہتے ہیں ۔ اور دُنیا اُن سے دور بھاگتی ہے ۔ خواہش کو اپنے پیچھے پھینک دو ۔ الّلہ پر بھروسہ کرو ۔ دنیا مثلِ ساۓ کے پپیچھے پیچھے بھاگے گی۔ منفی بات سوچیں گے تو منفی کا امکان بڑھے گا مُثبت سوچ ہو گی تو مثبت واقعات کی قطار لگ جاۓ گی۔“یاد رکھو اللہ تعالیٰ کسی کا نقصان نہیں کرتے اور بفرض محال جس کو آپ نقصان سمجھیں ہو بھی جاۓ تو تلافی کے ہزار راستے ہیں ۔ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں”اس کے علاوہ کسی کا کوی چھوٹا سا کام کر دینا ، زہن کو کسی اور طرف مصروف کرنا ، ورزش کرنا ، اور سب سے بڑھ کر دعا کرنا وغیرہ وغیرہ ۔غصہ کو کسی اور پر اُتارنے کے بجاۓ اس کو طاقت بنا کر ایک رُخ پر کام شروع کر دینا اور کچھ کر کے دکھا دینا۔ ایسا کرنا بظاہر مشکل لگتا ہے لیکن ارادہ کر لیا جاۓ تو وقت کے ساتھ نکلنا شروع ہو جاتا ہے جو خود ایک بہت بڑا مرہم ہے ۔مزہب سے جو ملتا ہےوہ صبر کے بعد اجر ، مشکل کے بعد آسانی کا ثمر اور مسلسل سفر ، بلآخر آخری منزل قبر اور اگر کوئ مل جاۓ مناسب رہبر جو لیتا کچھ نہ ہو اور دیتا ہو بھر بھر ، اچھی نصیحت بِنا جبر ، جیسے دھوپ میں سایہ ابر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں