حکم کر فیصلہ سنا کوئی دے بھی دے اب مجھے سزا کوئی شاعرہ تمنا شیراز عباسی

شاعرہ تمنا شیراز عباسی
حکم کر فیصلہ سنا کوئی
دے بھی دے اب مجھے سزا کوئی
میرا وعدہ ہے تو سنے گا نہیں
مجھ سے بخشش کی التجا کوئی
تو مری چاہتوں کا مرکز تھا
اب بھی تجھ سے نہیں سوا کوئی
جیسے رسوا کیا مجھے تو نے
ایسے رسوا نہیں ہوا کوئی
مجھ کو اپنوں میں غیر ملتے ہیں
مجھ کو ملتا نہیں مرا کوئی
عشق وہ درد ہے تمنا جی
جس کی ہوتی نہیں دوا کوئی

شاعرہ تمنا

اپنا تبصرہ بھیجیں