حکومت کا آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط بتانے سے انکار،8ارب ڈالرز کی خلیفہ آیل ریفائنری کے قیام سمیت بڑے پیمانے پر اقدامات کا اعلان کردیاگی

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کو حتمی شکل دینے تک اس کی شرائط کو منظر عام پر نہیں لا سکتے،سارے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط ایک طرح کی ہوتی ہیں، تنقید وہ کریں جو آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے ہوں، آئندہ چند ماہ میں معیشت کی بہتری کیلئے مزید اچھے فیصلے کیے جائیں گے، 6 سے 12 ماہ میں حالات مزید بہتر ہوں گے، گردشی قرضوں میں ماہانہ 26 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے،کچھ ماہ میں اسے کم کرکے ماہانہ 8 ارب روپے تک لایا جائیگا، پھر 2020 کے آخر تک اسے صفر پر لایا جائیگا،ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بہت سادہ ہے،جائیداد ڈیڑھ فیصد پر اپنے نام کرائی جا سکتی ہے،اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کیخلاف کارروائی ہو گی،معاشی طور پر مستحکم ہونے کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، یہ وقت اختلافات کا نہیں،ٹیکس دھندہ کو حراساں کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی،ملک کی عزت اور دفاع کیلئے ہر قربانی دیں گے۔وہ ہفتہ کو وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیر توانائی عمر ایوب،معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق، وزیرمملکت برائے ریو نیو حماد اظہر، چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کس طرح آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ جب حکومت آئی تو 31 ہزار ارب کے قرض اور غیر ملکی قرض ایک سو ارب ڈالر سے زائد تھے۔ انہوں نے کہاکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ سطح پر تھا،گردشی قرض 38 ارب روپے ماہانہ جمع ہو رہا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ حکومت نے دوست ممالک سے مشکلات کے حل کیلئے 9 ارب ڈالر حاصل کیے۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ حالیہ حکومت سے قبل گردشی قرضوں میں ماہانہ 36 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے ان میں ماہانہ 12 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ اس وقت گردشی قرضوں میں ماہانہ 26 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ کچھ ماہ میں اسے کم کرکے ماہانہ 8 ارب روپے تک لایا جائے گا اور پھر 2020 کے آخر تک اسے صفر پر لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کا بورڈ جلد پاکستان کے پروگرام کی منظوری دیدے گا،بجٹ کے آنے کے بعد مزید اہم فیصلے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی سہولت ملی ہے،عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے اہم منصوبوں کیلئے نرم شرائط پر قرض ملے گئے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی ترقیاتی بینک ایک ارب ڈالر کا قرض فراہم کرے گا۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ آئی ایم ایف تو بنا ہی ممبر ممالک کو مالی مشکلات سے نکالنے کیلئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے 3 اعشاریہ 2 فیصد شرح سود پر 6 ارب ڈالر کا قرض ملے گا۔وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے پر بھاری سود ادا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی ایف ایف سے قرض لینے پر شرح سود نسبتا کم ہوتی ہے جبکہ عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لینے کے بعد ملک میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بہت سادہ ہے،جائیداد ڈیڑھ فیصد پر اپنے نام کرائی جا سکتی ہے،اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کیخلاف کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے اقدامات سے حالات بہتر ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ مالیاتی خسارہ کو کم کیا جائے گا،گردشی قرض کو 8 ارب ماہانہ پر لا کر دسمبر 2020 تک مکمل ختم کر دیا جائے گا، انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 55 ہزار ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 20 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں،جن میں 6 لاکھ تنخواہ دار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شبر زیدی کو اس لئے لایا گیا ہے کہ ٹیکس وصولی بڑھائیں۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ 360 کمپنیاں انکم ٹیکس کا 95 فیصد ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے امیروں کو ملک کیلئے ٹیکس ادا کرنا ہو گا،ٹیکس بڑھانے کیلئے ہر طرح کا ڈیٹا استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم سنجیدہ ہو جائیں تو ٹیکس وصولیاں بڑھانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مہنگائی کی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت اور ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ ہے،حکومت کی کوشش ہے کہ کمزور ترین طبقے کی مدد کریں۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ کوشش کریں گے کہ غذائی اجناس کی قیمتوں پر نظر رکھیں،بجلی کی قیمت میں اضافہ سے کمزور طبقے کا بچاؤ کریں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی سبسڈی کیلئے بجٹ 216 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا میں ترقیاتی کاموں کیلئے 46 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غریب عورتوں کی مدد کے پروگرام بی آئی ایس بی کو ایک سو ارب روپے سے 180 ارب روپے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کوشش کرے گی کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ نے ملک میں بڑھائی گئی تیل قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 79 ڈالر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 50 لاکھ مکانات بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پروگرام کیلئے بڑے شہروں میں زمین حاصل کر لی گئی ہے، کامیاب جوان پروگرام کیلئے آئندہ بجٹ میں ایک سو ارب روپے رکھے جا ریے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کی بحالی کیلئے خصوصی اقدامات لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں ان کمپنیوں کو ٹیکس مراعات ملیں گی جو نئی ملازمتیں فراہم کیے جائیں گے۔حفیظ شیخ نے کہاکہ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کیلئے نجی شعبے کی خدمات حاصل کیں جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ میرا پیغام ہے کہ مشکلات کے دن ختم ہونے والے ہیں،ایک سال میں معاشی استحکام کے بعد تیز رفتار معاشی ترقی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف پر لوگوں کو دو طرح کی شکایت ہے،پہلی یہ کہ معلوم نہیں کیا طے ہوا؟دوسری یہ کہ پروگرام کی شرائط بہت سخت ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تنقید صرف وہ کریں جو پہلے آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ اپنی آمدن کے مطابق اخراجات کرو،ناقص اداروں کو بند کر دو،سارے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط ایک طرح کی ہوتی ہیں۔عمر ایوب نے کہاکہ ملک بھر میں صنعتی اداروں کیلئے کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ ایمنسٹی جیسی اسکیم پر آئی ایم ایف کی رضامندی نہیں ہوتی،اسکیم کا مقصد لوگوں کو سہولت دینا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ ایمنسٹی اسکیم میں اثاثہ جات ظاہر کرنا لازم ہے۔ چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ موجودہ حکومت نے بے نامی قانون کے رولز جاری کیے۔ انہوں نے کہاکہ بے نامی اکاؤنٹس کیخلاف یکم جولائی سے ایکشن لیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ 28 ممالک سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کا ڈیٹا آیا۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں ضروری تھا کہ ایک موقع دیا جائے کہ لوگ درستگی کر سکیں،ٹیکس دھندہ کو حراساں کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہاکہ ملک میں خلیفہ ریفائنری میں اس سال نومبر تک کام شروع ہو گا،منصوبے پر 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ متبادل ذرائع توانائی میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں میں 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ کے مطابق حکومت کو روزگار پیدا کرنے کا ذمہ دار سمجھنے کے بجائے نجی سیکٹر کو اس جانب پابند کریں گے کہ وہ زیادہ سے زیادہ روزگار دیں اور حکومت نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی کمپنیوں کو مختلف ٹیکس میں چھوٹ دے گی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں بہت ساری ایسی شاہرائیں اور سڑکیں ہیں جن کی تعمیر کے لیے نجی سیکٹر سے مدد لیں گے، حکومت سڑکوں پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے کاموں پر خرچ کرے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق کچھ بتایا نہیں جارہا اور پھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شرائط بہت سخت ہیں، اگر بتایا نہیں جارہا تو پھر انہیں یہ کیسے پتہ چل گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام سخت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف سے پروگرام مکمل ہونے تک اس کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مشکل خطے میں رہتے ہیں،ملک کی عزت اور دفاع پہلی چیز ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کی عزت اور دفاع کیلئے ہر قربانی دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی پائیدار ترقی کیلئے مشکل فیصلے کیے جائیں گے،اس پر تمام لوگ متفق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں حکومت اپنے ایکشن سے اپنی رضا دکھا دیگی۔چیئر مین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا کہ بے نامی ایکٹ کے تحت اثاثے ضبط اور سزا ہو سکتی ہے، بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ کاروباری افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ ہمارا بنیادی فلسفہ کاروباری افراد کا اعتماد ہر حال میں بحال کرنا ہے، کاروباری طبقے کو ٹیکس ادائیگی کیلئے سہولیات دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں