خواتین کے جنسی مسائل عورتوں کو چاہیے کے اپنی جنسی مغالطوں کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ مردوں کے بھی جنسی مسائل سیکھیں تا کے اپنی ازدواجی زندگی کا بھرپور لطف لے سکیں-

خواتین کے جنسی مسائل
عورتوں کو چاہیے کے اپنی جنسی مغالطوں کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ مردوں کے بھی جنسی مسائل سیکھیں تا کے اپنی ازدواجی زندگی کا بھرپور لطف لے سکیں-
مردوں کی طرح عورتیں بھی بہت سے جنسی مغالطوں کا شکار ہوتی ہیں- جس کی وجہ سے وہ اپنی شادی شدہ زندگی بھرپور طریقے سے نہیں گزر پاتیں-
کیونکہ ہمارے ہاں عورتوں کو اتنی معاشرتی آزادی حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے جنسی مسائل سمجھ نہیں پاتیں اور مغالطوں کا شکار ہو جاتی ہیں- اور بیچاری سری زندگی اصلی ازداوجی زندگی کا لطف نہیں لے پاتیں- اور شرم کی وجہ سے اپنے شوہروں سے بھی شکوہ نہیں کرتیں –
1 : حیض Menses
ہر بالغ عورت یا لڑکی کے رحم میں سے ہر ماہ کچھ خون آتا ہے جسےmenses کہتے ہیں- عام طور پر 10 سے 12 سال کی عمر کی لڑکی کو menses آ جاتے ہیں- ہر مہینے یا 28 دن بعد menses آتے ہیں- اگر ایک دو دن آگے پیچھے ہو جائیں تو بھی کوئی مسلہ نہیں ہوتا- یہ کوئی تکلیف دہ چیز نہیں ہوتی menses آنے سے پہلے کمر میں جو بوجھ محسوس ہوتا ہے اور پیٹ میں درد ہوتا ہے یہ ایک صحتمند عورت کی نشانی ہے- اس سے ہر مہینے رحم کی صفائی ہو جاتی ہے- اور چہرہ پر رونق ہو جاتا ہے- menses کے دوران بلکل بھی نہانا نہیں چاہیے ورنہ اس سے لیکوریا جیسی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے- باز عورتیں اسے ناپاکی سمجھتے ہوۓ فورا نہانا چاہتی ہیں لیکن آپ دیکھیں کہ اگر آپ نہ بھی لیتی ہیں تو ناپاکی تو پھر بھی جاری ہے- اس لیے اس میں احتیاط کرنی چاہیے-
2 : مباشرت intercourse
مباشرت کرنا کوئی بری بات نہیں ہے (میاں بیوی کے درمیان ) اور نہ ہی یہ عورت کے لیے کوئی تکلیف کا سبب ہے- البتہ یہ تو بہت پر لطف چیز ہے- ابتدا میں کچھ عورتوں کے لیے یہ عمل تھوڑا تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن بعد میں نارمل اور لذّت آمیز ہو جاتا ہے- ملاپ سے پہلے آرگیزم (انتہاے لذّت) حاصل کرنا بہت ضروری نہیں ہے- بہت سی عورتیں انتھاے لذّت حاصل نہیں کر پاتیں لیکن ان کی زندگی بہت خوش گوار ہوتی ہے- مباشرت اور بچے کی پیدایش میں مرد اور عورت کا ایک ہی وقت میں انزال ہونا ضروری نہیں ہے- مرد کی طرح عورتیں بھی سیکس سے لطف اندوز ہوتی ہیں- اور مرد ہمیشہ ایسی عورت کو پسند کرتا ہے جو سیکس میں اس کا ساتھ دیتی ہے-
مباشرت کی کثرت عورت کے لیے کسی بھی طرح نقصان دہ نہیں ہے- چاہے کتنی ہی بار کیا جائے- اور ہر بار کا انزال عورت کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے- لیکوریا صرف فرج یعنی عورت کی شرم گاہ کے infection کی وجہ سے ہوتا ہے- اور menses ختم ہو جانے پر عورت کی سیکس کی خواھش ختم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے- عورت آخر تک سیکس سے لطف اندوز ہو سکتی ہے-
شادی کی بنیاد یا شادی کا مقصد مباشرت ہے لیکن نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ بلکہ خواتین بھی اس کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں اکثر لوگوں یہاں تک کہ خواتین کو بھی نہیں پتا ہوتا کہ مباشرت یعنی داخل کرنے کی اصل Exact جگہ کون سی ہے جس کی وجہ سے میاں بیوی دونوں ہی اکثر اوقات مباشرت سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے- بلکہ خواتین تو کم علمی کی وجہ سے مباشرت کو خود پر مسلّط کر کے اسے اپنے لیے تکلیف دہ بنا لیتی ہیں- حالانکہ ان میں تو لطف ہی لطف ہے تکلیف کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے-
ہاں بعض اوقات نئی دلہنوں کے لیے تھوڑی تکلیف کا سبب ہوتا ہے لیکن بعد میں ان کے لیے بھی بہت لطف ہے- تکلیف صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کے کچھ خواتین جنسی عمل یا مباشرت کو اچھا نہیں سمجھتیں اور جب شوہر ان کے پاس آتا ہے تو خوف کی وجہ سے ان کے جسم میں اکڑاؤ آ جاتا ہے اور ان کا جسم تن جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی فرج vagina کے لب بہت زیادہ تناؤ میں آ جاتے ہیں اور جب دخول کا عمل ہوتا ہے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے اگر خواتین اپنی اس خامی پر قابو پا لیں تو وہ نہ صرف خود بھرپور لطف حاصل کر سکتی ہیں بلکہ اپنے خاوند کے لیے بھی لطف کا سبب بن سکتی ہیں- اور شوہر ہمیشہ ایسی بیوی کو پسند کرتا ہے جو جنسی عمل میں اس کا بھرپور ساتھ دے- اور اسلام کے مطابق اگر بیوی اپنے شوہر کے ساتھ تعاون نہ کرے تو وہ گناہ گار ہوتی ہے-
مباشرت کی اس تھوڑی سی تکلیف سے بچا جا سکتا ہے جو اکثر خواتین نے خود اپنے اوپر مسلط کر رکھی ہے- اگر خواتین مباشرت کے وقت اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں تو انہیں مباشرت میں تکلیف نہیں ہوتی- عام طور پر شروع کی چند مباشرتوں میں تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے لیکن یہ تکلیف اس تکلیف سے بھی کم ہوتی ہے جو زیور کی شوقین عورتوں کو ناک اور کان چھیدواتے وقت ہوتی ہے-
جنسی لحاظ سے مرد اور عورت میں بہت فرق پایا جاتا ہے- مرد ذرا سے جنسی اشتعال سے فورا مباشرت کے لیے تیار ہو جاتا ہے- پھر جیسے ہی مرد جنسی اشتعال میں آتا ہے تو فورا جنسی عمل کے ذریے منزل Discharge ہو کر سکون حاصل کرنا چاہتا ہے- لیکن اگر وہ جنسی اشتعال کے بعد بیوی کے تعاون نہ کرنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے منزل Discharge نہ ہو سکے تو وہ شدید تناؤ میں آجاتا ہے- جھنجھلاہٹ اور تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے- اگر مرد کو بیوی کے عدم تعاون کی وجہ سے بار بار اس مشکل سے گزرنا پرے تو مرد کے دل میں بیوی کے لیے نفرت آ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں یا تو مرد مکمل طور پر بیوی کو نا پسند کرنے لگتا ہے یا جزوی طور پر نا مرد ہو جاتا ہے- یا پھر دوسری عورتوں کی طرف مائل ہو کر گناہ کی دلدل میں پھنس جاتا ہے-
اسی لیے ہمارا اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بھی شوھر اپنی بیوی کو اپنے پاس بلاے تو فورا اس کے پاس اگر وہ نہیں جائے گی تو فرشتے ساری رات اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے- دونوں کی جنسی تیاری میں بھی بہت فرق ہے مرد صرف 2 سے 3 منٹ کے جنسی اشتعال سے مباشرت کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور دو تین منٹ میں ہی منزل Discharge ہو جاتا ہے- جبکہ عورت کو مرد سے دس گناہ زیادہ وقت لگتا ہے منزل ہونے میں- عورت کو جنسی سکون کے حصول کے لیے کم از کم تیس منٹ کے جنسی کھیل foreplay کی ضرورت ہوتی ہے- اور اصل مباشرت کا طریقہ بھی یہی ہے-
مرد اور عورت کے جنسی حصول کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں- مرد جلد از جلد اپنے جنسی ہیجان کو خارج کرنا چاہتا ہے جب کہ عورت آہستہ آہستہ جنسی لذت میں اضافے کو بہت پسند کرتی ہے-
دونوں کی جنسی خواھش میں بھی بہت فرق ہوتا ہے مرد کی عموما 18 سے 24 سال تک جنسی خواھش عروج پر ہوتی ہے- جبکہ عورت کی جنسی خواھش 20 سے 40 سال تک بہت زیادہ ہوتی ہے- کسی وقت مرد اور کسی وقت عورت کی جنس خواھش زیادہ ہوتی ہے اس کا سہی اندازہ لگانا کچھ مشکل ہوتا ہے- جب کام کا زیادہ بوجھ عورت پر ہو تو اس کی جنسی خواھش کم ہو جاتی ہے جب کہ مرد سارا دیں باہر رہ کر عورتوں کو دیکھتا ہے تو اس کے جنسی ہیجان میں اضافہ ہو جاتا ہے اسی طرح مختلف اوقات میں دونوں کی جنسی خواھشات بدلتی رہتی ہیں- اسی لیے ضروری ہے کے عورت اس میں مرد کی مکمل مدد کرے ورنہ گناہ گار ہو گی-
عورت کو شادی کے شروع میں مباشرت کی زیادہ خواھش نہیں ہوتی جب کہ مرد کو بہت خواھش ہوتی ہے- اور شادی کے درمیانی دور میں عورت کو زیادہ خواھش ہوتی ہے اور مرد کو کم- مرد عام طور پر sex کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ عورت کو romance پسند ہوتا ہے کیونکہ اسے آرگیزم حاصل کرنے کے لیے مباشرت سے 20 سے 30 منٹ کا foreplay درکار ہوتا ہے- اور مرد کو صرف دو تین منٹ میں ہی سکون حاصل ہو جاتا ہے- اس لیے چاہیے کے مرد بیویوں کی اس خواھش کا ضرور خیال رکھیں اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو بیوی کو سکون حاصل نہیں ہو گا اور اس کی طبیعت چڑ چری ہو جائے گی-
تاہم اس بات پر تمام ماہرین متفق ہیں کے مرد انزال چاہتا ہے اور جو بیویاں اپنے شوہر کا اس لحاظ سے خیال رکھتی ہیں یعنی انھے sex میں بھرپور ساتھ دیتی ہیں تو ایسی عورتوں سے شوہر بہت محبّت کرتا ہے- لہذا عورت کو اپنے شوہر کی بھرپور محبّت حاصل کرنے کے لیے اسے بھرپور sex مہیا کرنا ہو گا- گھریلو جھگڑوں کی ایک بری وجہ عورت کا مرد کو بھرپور sex مہیا نہ کرنا ہے- مرد ان عورتوں کے شیدائی ہوتے ہیں جو سیکس میں ان کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں اور کبھی انکار نہیں کرتیں-
ہمارے ہاں کی تقریبا سری خواتین سیکس میں بھرپور کردار ادا نہیں کر پاتیں کبھی سیکس میں پیھل نہیں کرتیں اور تو اور سیکس کے دوران بلکل ساکت زندہ لاش کی طرح پڑی رہتی ہیں جو کرنا ہوتا ہے مرد ہی کرتا ہے اور یہاں تک کے سیکس میں اپنے لطف کا اظہار بھی نہیں کرتیں- ان کا خیال ہوتا ہے اگر وہ سیکس میں اپنا لطف و سرور ظاہر کریں گی تو ان کا شوہر ان کو بعد چلن سمجھے گا اور ان سے محبّت نہیں کرے گا جب کہ حقیقت بلکل اس کے الٹ ہے مرد ہمیشہ اس عورت کو پسند کرتا ہے جو یہ ظاہر کرواے کے وہ اپنے شوھر کے ساتھ سیکس میں بھرپور لطف اور مزہ لے رہی ہے-
عموما خیال کیا جاتا ہے سیکس کی زیادتی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے- جو عورتیں حلال طریقے سے یعنی اپنے شوہروں کے ساتھ زیادہ سیکس کرتی ہیں ان میں دل کی بیماریاں بہت کم پیدا ہوتی ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہمارے ہاں مردوں کی نسبت بہت کم عورتیں دل کی بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں- اس لیے یہ خیال بلکل غلط ہے کہ سیکس سے سحت پر برا اثر پڑتا ہے-
دوسری طرف سیکس مرد کے لیے بھی بہت مفید ہے ( حلال طریقے سے ) یہ مرد کے testosterone کے لیول کو برقرار رکھتا ہے جس سے مرد کی جنسی عمل کرنے کی طاقت آخری امر تک بھی باقی رہتی ہے-
آخر میں صرف ایک بات نئی نویلی دلہنیں اپنے شوہر کے ساتھ گزارے ہوۓ قیمتی لمحات دوسروں کو یا اپنی سہیلیوں کو بتا دیتی ہیں اسلام میں اس کی بلکل گنجایش نہیں ہے اور یہ حرام کام ہے اور اگر اس بات کا علم شوھر کو ہو جائے تو وہ کبھی دوبارہ اپنی بیوی پر عتبار نہیں کری گا

اپنا تبصرہ بھیجیں