دعا منگی نے اغوا کاروں کا ٹھکانہ شناخت کر لیا دعا منگی اور بسمہ کو ایک فلیٹ میں رکھا گیا،دونوں کے اغوا کا مرکزی ملزم پولیس کا سابق افسر نکل

دو روز قبل دعا منگی اور بسمہ اغوا کیس میں تحقیقاتی اداروں کو بڑی کامیابی ملی تھی۔اغوا برائے تاوان کی دونوں وارداتوں میں ملوث گروہ کا سراغ لگا یاگیا تھا۔شہر میں موجود دو اغوا کاروں کے تین ٹھکانے بھی تلاش کیے گئے۔شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اغواکاروں کے گروہ کا سرغنہ پولیس اہلکار ہو سکتا ہے۔
دعا منگی اور بسمہ اغوا کیس میں ہونے والی اہم پیش رفت سے معلوم ہوا کہ واقعی مبینہ اغواکار سابق پولیس افسر ہے اور اس کے کچھ ساتھی بھی شامل ہیں۔تفتیشی و تحقیقاتی اداروں نے شب و روز کی محنت کے بعد وہ فلیٹ بھی معلوم کر لیا ہے جہاں دونوں لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد رکھا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق سابق پولیس افسر آغا منصور کے ملازمین کو حراست میں لیا جا چکا ہے جنہوں نے ابتدائی تفتیش میں لڑکیوں کو اغوا کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ آغا منصور کے گروہ میں چار سے پانچ دیگر ملزمان بھی شامل ہیں۔پولیس سمیت دیگر تفتیشی ادارت مبینہ ملزم کی تلاش میں چھاپے مار رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دو لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد کلفٹن بلاک ون کے ایک فلیٹ میں رکھا گیا تھا۔جس فلیٹ میں مغویان کے بور پر دعا منگی اور بسمہ رہ رہی تھیں انہیں اس فلیٹ کی تصاویر دکھائی گئی تو انہوں نے کمروں کی شناخت کر لی۔
ملزم کی تلاش کے لیے چھاپوں کا سلسلہ پورے صوبے میں پھیلا دیا گیا۔خیال رہے کہ دعا منگی کو 20لاکھ روپے تاوان ادا کر کے بازیاب کروایا گیا تھا۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی نے پولیس ٹیم کو ابتدائی بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہاتھا کہ حارث اور میں چائے ماسٹر سے اٹھ کر ٹہلنے نکلے تھے کہ اچانک 2 افراد نے مجھے پکڑا اور گاڑی میں ڈال دیا اس دوران شور ہونے لگا تو اچانک گولی چلنے کی آواز آئی ، گاڑی میں ڈالنے کے بعد ملزمان نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی کو گھماتے رہے اور مجھے تین بار دوسری گاڑیوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔
۔دعا منگی نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ وقت کا اندازہ نہیں کہ ملزمان نے کتنی دیر تک مجھے گاڑی میں گھوماتے رہے۔تفتیشی ٹیم کو دئیے گئے بیان میں دعا منگی نے کہاکہ میں نے کسی شخص کا چہرہ نہیں دیکھا بس کھانا کھاتے وقت میری آنکھوں سے پٹی ہٹادی جاتی تھی۔دعا منگی نے کہا کہ جب بھی کھانا دیا جاتا تھا تو کوئی دوسرا شخص بول رہا ہوتا تھا، میرے ہاتھ پائوں باندھ کر کانوں میں ایئرفون لگادئیے جاتے تھے جبکہ اغوا کاروں نے مجھ پر کوئی تشدد نہیں کیا ،اغوا کاروں نے مجھے ایک شاپنگ مال کے قریب چھوڑا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں