دنیا میں پہلی بار بیک وقت پیدا ہونے والے سات بچے اب کیسے ہیں؟

دنیا میں پہلی بار بیک وقت پیدا ہونے والے سات بچے اب کیسے ہیں؟

ایک وقت میں سب سے زیادہ بچے جنم دینے (جو سب زندہ بھی بچ گئے) کا ریکارڈ نادیہ سلیمان نامی ایک امریکی یہودی خاتون کے پاس ہے جنھوں نے جنوری 2009 میں 8 بچوں کو بیک وقت جنم دیا جو سب زندہ بھی بچ گئے۔
ان سے پہلے یہ ریکارڈ امریکا کی ہی بوبی میککوفی کے پاس تھا جنہوں نے نومبر 1997 میں 7 بچوں کو جنم دیا اور پہلی بار یہ ایسے 7 بچے تھے جو زندہ بچ گئے اور ایک ساتھ پرورش پاکر اب 22 سال سے زیادہ کے ہوچکے ہیں۔
امریکی ریاست آئیووا سے تعلق رکھنے والے کینی اور بوبی میککوفی کی پہلے ایک بیٹی تھی اور وہ بس ایک اور بچے کے خواہشمند تھے، مگر اس کوشش کے نتیجے میں انہیں بہت بڑا سرپرائز ملا۔

وہ فریٹلیٹی ٹریٹمنٹ کروا رہے تھے ایک معمول کے چیک اپ کے دوران الٹرا ساﺅنڈ سے انکشاف ہوا کہ ان کے ہاں 7 بچوں کی پیدائش ہورہی ہے،

‘میں نے اپنی بیوی کو فون کیا اور الٹرا ساﺅنڈ اسکین کے بارے میں معلوم کیا، تو اس کی آواز عجیب سی ہوگئی اور جو اس نے کہا مجھے سمجھ نہیں آیا، میں نے اسے کہا کہ صاف الفاظ میں بتائے تو اس کا جواب تھا 7، اس لمحے مجھے بس یہ خیال آیا کہ آخر اتنے بچوں کو کیسے کھلائیں گے اور ان کی ضروریات کیسے پوری کریں گے، پھر میں نے کہا کہ نہیں، نہیں، نہیں، نہیں، کیا تم سنجیدہ ہو؟’

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کچھ جینین کو ختم کروا دیا جائے تاکہ دیگر بچوں کے بچنے کا امکان پیدا ہوسکے، مگر بوبی نے تمام بچوں کی پیدائش کا فیصلہ کیا۔

ماہرین کے مطابق 3 بچوں کی پیدائش میں بھی ایک صحت مند بچے کا امکان 50 فیصد ہوتا ہے جبکہ لگ بھگ 50 فیصد کے قریب جڑواں یا اس سے زائد بچوں کی پیدائش کی کوشش اسقاط حمل پر ختم ہوتی ہے۔

ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ وہ بچ نہیں سکیں گی مگر انہوں نے 21 نومبر 1997 کو 4 لڑکوں اور 3 لڑکیوں کو جنم دیا، جن کی پیدائش مقررہ وقت سے 9 ہفتے قبل آپریشن کے ذریعے ہوئی، وہ ہسپتال میں 2 ماہ تک رہے۔

بچوں کی گھر آمد کے بعد ماں کو ان کی پرورش کے لیے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوا کیونکہ ان بچوں کو روزانہ خوراک کی 42 بوتلوں اور 52 ڈائیپرز کی ضرورت پڑتی تھی۔ آغاز میں رشتے داروں نے ان کی بہت مدد کی اور ہر وقت ان کے پاس کوئی نہ کوئی موجود ہوتا تھا۔

اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے اس خاندان کو مدعو کرکے مبارکباد دی جبکہ این جی اوز نے اس خاندان کو 2 سال کے لیے ڈائیپرز، بہت زیادہ خوراک، ایک بڑا گھر اور آئیووا کے کسی بھی کالج میں مفت تعلیم کی ضمانت دی۔
اس خاندان سے ایک اور امریکی صدر جارج بش نے بھی خصوصی طور پر ملاقات کی تھی۔

ان 7 میں سے 2 بچے دماغی فالج کا شکار تھے اور ان کی متعددد سرجریز ہوئیں جن کے نتیجے میں اب وہ کسی کی مدد کے بغیر چل سکتے ہیں۔

جب بچے کچھ بڑے ہوئے تو وہ ماں باپ کی مدد کرنے لگے ‘بچیاں کچن میں بہت زیادہ مدد کرتیں، انہیں کھانا پکانے میں دلچسپی تھی اور کھانے کے قابل بنا بھی لیتی تھیں، جبکہ لڑکے لان سے پتے صاف کردیتے یا گاڑی کو دھو دیتے’۔

جب بچے 10 سال کے ہوئے تو ہر ہفتے 11 لیٹر دودھ، 6 پیکٹ سریلز اور بہت زیادہ بریڈ کی ضرورت پڑتی جبکہ ان کے گھر میں 2 اوون ، 2 مائیکرو ویو اوون، 2 ڈش واشر، 2 واشن مشینیں اور ڈرائیرز تھے. گھر کے احاطے میں سبزیاں اگائی جاتیں۔
سب بچے تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے، جن میں سے 4 نے یونیورسٹی کا رخ کیا، ایک کالج گیا جبکہ ایک نے فوجی کیرئیر کا انتخاب کیا ۔
اب کینی اور بوبی ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں منتقل ہوگئے ہیں اور 7 کمروں والا گھر جہاں ان کے بچے پلے بڑھے، نوجوان ماﺅں کی مدد کرنے والے ایک ادارے کو دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں