راولپنڈی میں کم عمر لڑکی مبینہ زیادتی کے نتیجے میں حاملہ، چار ملزمان گرفتار

بشکریہ بی بی سی
راولپنڈی پولیس نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ راولپنڈی پولیس کی جانب سے بی بی سی کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ایس پی راول مظہر اقبال کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کا میڈیکل چیک اپ کروایا جا رہا ہے اور گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی آٹھ ماہ کی حاملہ ہے۔ انھوں نے تھانہ رتہ امرال میں اپنے محلے کے چار افراد کے خلاف اپنی بیٹی کا ریپ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کروایا ہے
ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ لڑکی کے والد سرکاری ملازم ہیں اور وہ صبح سویرے گھر سے چلے جاتے ہیں اور شام کو گھر لوٹتے ہیں۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس جون میں محلے کے ایک لڑکے نے ان کے گھر داخل ہو کر انھیں کہا کہ کوئی سودا سلف منگوانا ہو تو بتا دیا کریں تاہم ان کے انکار پر وہ چلے گئے۔ اس کے کچھ دن بعد اسی لڑکے نے مبینہ طور پر انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ لڑکی کا الزام ہے کہ کچھ مزید دن گزرنے کے بعد اسی لڑکے نے اپنے ایک دوست کے ساتھ ان سے زیادتی کی۔ ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کا یہ بھی بیان میں الزام ہے کہ محلے کے چار افراد جن میں ایک ادھیڑ عمر ہمسایہ بھی شامل ہے نے انھیں آنے والے دنوں میں دھمکی دے کر ان کے گھر میں داخل ہونے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان پر پستول بھی تانا تھا اور انھیں بدنام کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں تھیں۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’ملزمان متذکرہ کے زبردستی زنا کے نتیجے میں میں حاملہ ہو گئی ہوں، میں نے عزت کی خاطر اور ڈر سے پہلے کسی کو نہیں بتایا اب حاملہ ہو جانے پر میں نے ساری بات اپنے والد کو بتائی ہے جو اب مجھے آپ پولیس کے پاس لے کر آئے ہیں۔ دعوے دار ہوں قانونی کارروائی کی جائے۔‘ بی بی سی سے گفتگو میں لڑکی کے والد نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کی وفات دو برس پہلے ہو چکی ہے اور دوسری بیوی ان سے ناراضگی کی وجہ سے کئی ماہ تک اپنے میکے میں رہی اس دوران ان کے بچے گھر پر اکیلے رہ رہے تھے۔ بچی کے والد کے مطابق ابھی ان کی بیٹی آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں جبکہ انھیں بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا پتہ حمل کے چھٹے ماہ اس وقت چلا جب پیٹ میں درد کی شکایت پر وہ انھیں ہسپتال لے کر گئے اس سے پہلے میں اسے معدے کا مسئلہ سمجھتا رہا اور اس دوائی بھی دی۔
’الٹراساؤنڈ کی رپورٹ آنے کے بعد ڈاکٹر نے مجھے بلایا اور بتایا کہ آپ کی بچی چھ ماہ کی حاملہ ہے۔‘بچی کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سکول نہیں جاتی تاہم مدرسے جایا کرتی تھیں۔بی بی سی سے گفتگو میں بچی کی پھوپھو نے بتایا کہ اس تمام عرصے میں ان کی چند بار بچی سے ملاقات ہوئی تاہم انھیں ایسا کبھی محسوس نہیں ہو سکا کہ بچی حاملہ ہیں۔’بچی بہت ڈی ہوئی اور خوفزدہ ہے۔ ہم اس کا پرائیوٹ ہسپتال میں علاج کروا رہے ہیں۔‘لڑکی کے والد کا الزام ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے والوں میں ایک ادھیڑ عمر مرد کے علاوہ دو اٹھارہ سالہ لڑکے اور ایک 14 سالہ لڑکا شامل ہے اور تمام ملزمان نے تھانے میں اعتراف جرم کیا ہے۔لڑکی کے والد کہتے ہیں کہ انھیں ملزمان کے خاندانوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی سکیورٹی کے لیے پریشان ہیں اور انھیں حواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے کسی ادارے میں رکھنا چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں