روزہ رکھنا قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور کرونا وائرس سے بچاو کے امکانات بڑھ جاتے ہیں دوران روزہ جسم میں نئے مدافعتی سیلوں کی پیدائش عمل میں آتی ہے، یہ نئے سیل وائرسوں کا زیادہ بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: برطانوی ڈاکٹر عامر خان

برطانوی ڈاکٹر عامر خان کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنا قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور کرونا وائرس سے بچاو کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، دوران روزہ جسم میں نئے مدافعتی سیلوں کی پیدائش عمل میں آتی ہے، یہ نئے سیل وائرسوں کا زیادہ بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں مقیم ڈاکٹرز عامر خان کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے انسان کی قوت مدافعت مزید بہتر ہو جاتی ہے۔
روزہ رکھنے کے بعد جسم کو دن کے مخصوص حصے میں خوراک نہیں ملتی، تو جسم توانائی کی بچت کا کام شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل سے تباہ ہو جانے والے مدافعتی سیلوں کی حالت بہتر ہو جاتی ہے، اور پھر یہ سیل نئے مدافعتی سیلوں کی پیدائش کا باعث بنتے ہیں۔ اس عمل سے بننے والے نئے مدافعتی سیل اس قدر طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ کسی بھی وائرس کا بہتر اور موثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عامر کہتے ہیں کہ روزے کے انسانی جسم اور صحت پر پڑنے والے اثرات جاننے کیلئے کئی ریسرچز کی گئی ہیں۔ ریسرچرز نے مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کی جانب سے رکھے جانے والے روزے پر بھی تحقیق کی ہے۔ ماہرین کی یہی رائے ہے کہ 12 گھنٹے یا زائد وقت کیلئے کھانے پینے کے پرہیز سے انسان کی قوت مدافعت کے نظام پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ پوری دنیا میں رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان اور کئی ممالک میں ہفتے کے روز پہلا روزہ رکھا گیا، جبکہ کئی ممالک میں گزشتہ روزپہلا روزہ رکھا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں