رکی پونٹنگ نے کیوں کہ تین ورلڈ کپ جیتے تھے اور یہ عمران خان سے بڑا کپتان تھا(اللہ میری گستاخی معاف فرما دے)، لہٰذا میرا خیال ہے پونٹنگ کو صرف وزارت عظمیٰ تک محدود نہیں رہنا چاہیےوزیراعظم کے ساتھ ساتھ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف آسٹریلیا کا عہدہ بھی پونٹنگ کے پاس ہونا چاہیے لیکن افسوس پونٹنگ ایک بزدل کرکٹر ہے، ہمار کپتان جلد بتائے گا ملک کرکٹ کی طرح چلایا جا سکتا ہے، پڑھئیے جاوید چودھری کا آج کالم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یہ صبح شام کینگروز کو کھانا کھلاتا ہے‘ گھوڑوں کو نہلاتا اور ٹہلاتا ہے‘ گالف کھیلتا ہے‘ نیشنل کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرتا ہے ‘ مچھلیاں پکڑتا ہے اور شام کسی ریستوران‘ کسی پب میں گزار کر گھر جا کر سو جاتا ہے‘ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں بھی اس کی بہت کم خبریں آتی ہیں‘یہ عوام میں بھی کم دکھائی دیتا ہے اور محفلوں اور پارٹیز میں بھی نظر نہیں آتا‘ یہ ایک خاموش‘ مطمئن اور مسرور زندگی گزار رہا ہے۔۔۔۔سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’بطور سزا ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔یہ کون ہے؟ یہ رکی پونٹنگ ے‘ دنیا کا بہترین کپتان اور دنیا کا شان دار بیٹسمین‘ رکی نے آسٹریلیا کو تین ورلڈ کپ دیے‘ یہ 1999ءکے ورلڈ کپ میں کھلاڑی کی حیثیت سے شامل تھا جب کہ آسٹریلیا نے 2003ءاور 2007ءکے ورلڈ کپ اسکی کپتانی میں جیتے تھے‘ کرکٹ کی تاریخ میں متواتر ورلڈ کپ جیتنے والے صرف دو کپتان گزرے ہیں‘ ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ (1975ءاور 1979ءکے ورلڈ کپ جیتے) اور رکی پونٹنگ‘ آسٹریلیا کے اس کپتان نے کرکٹ میں متعددورلڈ ریکارڈ بھی بنائے‘ 18 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کی‘ 21 سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا‘ 168 ٹیسٹ میچ کھیلے‘ ساڑھے تیرہ ہزار سکور بنائے‘ 375 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 14 ہزاررنز بنائے‘ آسٹریلیا کو بطور کپتان77 ٹیسٹ میں سے 48 ٹیسٹ جتوائے‘ کپتان کی حیثیت سے 228 ون ڈے میچز کھیلے اور 164 جیتے گویاون ڈے اور ٹیسٹ میچز ملا کر رکی پونٹنگ نے بطور کپتان کرکٹ میں سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں ۔آج تک کوئی کپتان ٹیسٹ اور ون ڈے میں اتنی فتوحات حاصل نہیں کر سکا چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں رکی پونٹنگ کرکٹ کی تاریخ کے شان دار کھلاڑی اور کام یاب ترین کپتان تھے لیکن یہ عظیم کھلاڑی 17 سال کی شان دار کام یابیوں کے بعد یوں چپ چاپ ریٹائر ہو جائے گا اور یہ باقی زندگی کینگروز کی پرورش‘ گھوڑوں کی مالش اور گالف کورسز میں ضائع کر دے گا۔یہ بات عقل میں نہیں آتی‘آپ ذرا غور کیجیے رکی پونٹنگ نے تین ورلڈکپ جیتے ‘یہ متواتر دو ورلڈ کپس کا فاتح کپتان تھا‘ یہ دنیا کے مضبوط ترین اعصاب کے مالک کھلاڑیوں میں بھی شمار ہوتا ہے اور یہ جارحانہ کھیل کا ایکسپرٹ بھی تھا اور کریز سے باہر نکل کر حریف کو دن میں تارے دکھا دینا رکی پونٹنگ کا کمال تھا چناں چہ دنیا کے اتنے شان دار کھلاڑی کا کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی گزارنا ٹیلنٹ کی توہین ہے۔پونٹنگ کو چاہیے یہ سیاسی جماعت بنائے‘ آسٹریلیا کے 80 فیصد ووٹرز ”کرکٹ لورز“ ہیں‘ یہ ان سے ووٹ لے‘ دو تہائی اکثریت حاصل کرے اور آسٹریلیا کا وزیراعظم بن جائے‘ پونٹنگ نے کیوں کہ تین ورلڈ کپ جیتے تھے اور یہ عمران خان سے بڑا کپتان تھا(اللہ میری گستاخی معاف فرما دے) لہٰذا میرا خیال ہے پونٹنگ کو صرف وزارت عظمیٰ تک محدود نہیں رہنا چاہیے ۔وزیراعظم کے ساتھ ساتھ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف آسٹریلیا کا عہدہ بھی پونٹنگ کے پاس ہونا چاہیے لیکن افسوس پونٹنگ ایک بزدل کرکٹر ہے‘ یہ خان کی طرح بہادر نہیں ورنہ یہ بھی آج پوری دنیا کو لیڈ کر رہا ہوتا‘ یہ بھی امریکا‘ یورپی یونین اور چین کو کورونا کنٹرول کے طریقے بتا رہا ہوتا‘ اللہ تعالیٰ ہمارے کپتان کو لمبی عمر عطا کرے‘وہ وقت جلد آئے گا جب ہمارا کپتان پوری دنیا کے کپتانوں کو بتائے گا کرکٹ میں ایک خان آیا تھا اور اس نے ثابت کر دیا تھا ملک بھی کرکٹ میچ کی طرح چلائے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں