سمیرا سلیم کاجل اسلام آباد

سوچا نہ تھا ایسا ہو گا
گھر میں تنہا بیٹھا ہو گا

شکوہ کیسا اس سے کرنا
کاموں میں وہ الجھا ہو گا

آگ جلائی ہے جو اُس نے
خود بھی اس میں جلتا ہو گا

پُونَم سا وہ دلکش چہرہ
کیسا اُجلا اُجلا ِہو گا

سرخی، لالی، جوبن پر ہے
دیکھو سورج ڈھلتا ہو گا

ایک نظر ہے اُس نے ڈالی
بخت کا تارا چمکا ہو گا

مَیں ہوں تڑپی اس کے بِن تو
وُہ بھی ایسے تڑپا ہو گا

بادل، بارش، برکھا رُت میں
مستی مِیں وہ بھیگا ہو گا

دِن بھر مجھ کو خط لکھ کر وہ
شب بھر خود ہی پڑھتا ہو گا

اُس کے دَر پر بندے ہوں گے
جو بھی ربّ کا بندہ ہو گا

باتیں اس کی تم مت چھیڑو
سَب مِیں اُس کا چرچا ہو گا

اتنی خوش ہو، اے دیوانی
چہرہ اُس کا دیکھا ہو گا

کل جو تم نے دیکھا کاجؔل
کتنا سُندر سَپنا ہو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں