سپارہ پڑھانے والے شخص کی بچے کے ساتھ بیٹھ کر غیر اخلاقی حرکات سوشل میڈیا پر ویڈئو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مذکورہ شخص کو حراست میں لے لیا

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے صارفین کو شدید غم و غصہ میں مبتلا کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک بزرگ شخص کو بد فعلی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔مذکورہ شخص بچے کو قرآن پاک پڑھا رہا ہے جب کہ ساتھ وہ غلیظ کام جاری کیے ہوئے ہے۔اس سے قبل بھی کئی اسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں مدرسے جانے والے طالب علموں کے ذیادتی کی جاتی ہے۔علاوہ ازیں کچھ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جن میں مدرسے یا سکول کے اساتذہ کو بچوں پر شدید جسمانی تشدد کرتے دیکھا گیا تاہم آج وائرل ہونے والی ویڈیو نے بے شرمی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ویڈیو سے بظاہر لگتا ہے کہ مذکورہ شخص بچے کے گھر آ کر قرآن پاک پڑھا رہا ہے۔تاہم ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگراپنے گھر کے اندر بھی بچے محفوظ نہیں ہیں تو پھر گھر سے باہر کیا حالت ہوتی ہو گی؟۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مذکورہ شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔تاہم یہ ویڈیو والدین کے لیے ایک پیغام ضرور چھوڑ رہی ہے کہ چاہے بچہ جہاں بھی ہو اس کے ارد گرد رہنے والے لوگوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئیے۔سوشل میڈیا پر بچے کے ساتھ بیٹھ کر بدفعلی کرنے والے شخص کو ایک سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں ہیں۔۔مذکورہ شخص کی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی یہ معاشرہ بدنام ہے۔اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے اردگرد رہنے والے لوگوں پر بھی نظر رکھیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ قصور میں چار بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والا شخص خود بھی بچپن میں اپنے استاد کے ہاتھوں اس ظلم کا شکار ہو رہا ہے۔جب بچوں کو بچپن سے یہ سب دیکھنے کو ملے گا تو پھر وہ سیدھے راستے پر کیسے آئیں گے۔ایسے میں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہیں بچوں کے والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ کچھ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں بچوں کے ساتھ گھر کے اندر ہی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں