شادی کرنی ہے تو آن لائن ہو جاﺅ

مستقبل کے بچوں کے والدین آن لائن ملاقات کریں گے
شادی ایسا بندھن ہے جس میں تقریباً ہر مرداور عورت نے بندھنا ہی ہوتا ہے مگر یہ ایک ایسا مشکل کام بھی ہے کہ جس پر کئی سال لگ جاتے ہیں اور بندہ اس کو انجام نہیں دے پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہر کسی کو پرفیکٹ رشتہ چاہیے ہوتا ہے لڑکے والوں کی فرمائشوںکی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے جبکہ لڑکی والوں کی ڈیمانڈز بھی کم نہیں ہوتیں۔ بس ایسے ہی پھر لڑکی کولڑکا نہیں ملتااور لڑکے کو لڑکی نہیں ملتی۔شادی کے چکر میں سرگرداں اس دور میں ایک حیران کن تحقیق سامنے آئی ہے کہ اب رشتے بھی آن لائن طے پایا کریں گے ۔آج دنیا کا آدھے سے زیادہ بزنس آن لائن ہی ہوتا ہے لہٰذا اب شادیاں بھی آن لائن ہی ہوا کریں گی۔آن لائن شاپنگ تو دنیا بھر میں مقبول ہے اب ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے آدھے سے زائد جوڑے شادی کے لیے آن لائن ملاقات کریں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے امریکی ایحار منی اور ایمپریل بزنس کالج نے ایک تحقیق کی ہے جس کے مطابق 2035 میں دنیا کے آدھے سے زائد جوڑے شادی کے لیے آن لائن ملاقات کریں گے۔اس ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ لندن میں 2037 میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین وہی ہوں گے جن کا آپس میں رابطہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہوا ہوگا۔ایحارمنی برتھ پروجیکشن نے قومی ادارہ شماریات سے رپورٹ کے لیے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے کہ کس طرح انٹرنیٹ سماجی میل جول یا رابطوں کو تبدیل کررہا ہے۔ڈیٹا کے مطابق تقریباً ایک تہائی (32 فیصد) تعلقات وہ ہوں گے جن کا آغاز 2014 سے 2019 تک آن لائن ہوگا۔رپورٹ کے مطابق 2004 سے 2015 تک آن لائن رابطوں سے بننے والے تعلقات صرف 19 فیصد تک ہی موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں