شمال کی وادیاں پہاڑ اور پیڑ مجھ کو بلا رہے ہیں .شاعرہ نِیلم ملک

شمال کی وادیاں پہاڑ اور پیڑ مجھ کو بلا رہے ہیں
کہ شہر کا شور، سازشیں اور سراب جی کو جلا رہے ہیں

یہ بات سن کر تو جانیے دل کی جھیل بھی مسکرا اٹھی ہے
جو ہَنس ہجرت کیے ہوئے تھے وہ لوٹ کر پھر سے آ رہے ہیں

میں جھیل سیف الملوک سے جا کے عشق اپنا بیاں کروں تو
وہ مسکرا کر جواب دے گی، کئی مرے مبتلا رہے ہیں

یہ کس نے نیلا سا کینوس لا کے سامنے میرے رکھ دیا ہے
یہ کس کے فنکار ہاتھ بادل سے اس پہ منظر بنا رہے ہیں

نہ تھا وہ جوہر شناس پہلے کہ ہم میں ایسی دمک نہیں تھی !
جو ہم پہ اب وہ نگاہ اٹّھی تو اس میں ہم جگمگا رہے ہیں

نِیلم ملک

اپنا تبصرہ بھیجیں