شوہر نے 21 سالہ بیوی پر ظلم کی انتہا کر دی چہرے پر گرم استریاں لگائیں،شیشے کے وار کیے، خاوند کے دوست بدترین تشدد کے بعد متاثرہ لڑکی کو گاڑی میں ڈال کر میکے گھر کے باہر پھینک گئے

ایک اور بنت حوا شوہر اور سسرالیوں کے تشدد کا نشانہ بن گئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ظلم کی انتہا ہو گئی۔ایک اورلڑکی خاوند کے بدترین ظلم کا شکار ہو گئی۔یہ افسوسناک واقعہ لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن کی رہائشی خاتون کے ساتھ پیش آیا۔خاوند نے اپنی بیوی کے چہرے پر گرم استریاں لگائی اور شیشے کے وار کیے۔بتایا گیا ہے کہ 21 سالہ سُنبل کی شادی ڈیڑھ سال قبل اپنے پھوپھی زاد سے ہوئی۔ذاتی رنجش کی وجہ سے لڑکی پر اس کی ساس نندوں اور خاوند نے بدترین تشدد کیا۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ تشدد کے بعد اس کے خاوند کے دوست اسے گاڑی میں ڈال کر میکے گھر کے باہر پھینک گئے۔متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ میرے سسرالیوں نے میرے سر پر کلہاڑیوں کے وار کیے۔ساس نے کمر پر لوہے کے راڈ مارے۔پولیس نے تاحال شوہر کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ انہوں نے لڑکی پر تشدد کرنے والے شوہر اور سسرالیوں کے خلاف تھانے میں درخواست تو دی ہے لیکن پولیس نے تاحال کوئی کاروائی نہیں کی۔انہوں نے حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے۔خیال رہے میاں بیوی میں لڑائی تو عام بات ہے لیکن اکثر حوا کی بیٹیاں ایسی بھی ہیں جو سسرال جاتے ہی تشدد کا شکار بن جاتی ہیں۔نارووال میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جہاں نئی نویلی دلہن پر سسرال میں عرصہ دراز تنگ کر دیا گیا۔ نارووال کے رہائشی محمد افضل نے اپنی بیٹی کی شادی قریبی گاؤں میں اپنے بھانجے سے کی تھی۔شادی کے کچھ عرصہ تک تو معاملات ٹھیک رہے۔تاہم اس کے بعد معمولی باتوں پر ہونے والے جھگڑے شدت اختیار کر گئے،27 رمضان المبارک کی رات مبشرہ کی والدہ گلناز بی بی نے اپنے داماد برہان کو فون کیا اور بیٹی سے بات کروانے کے لیے کہا جس پر اس نےجواب دیا کہ آپکی بیٹی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ وفات پا چکی ہے۔ہمبشرہ کو تدفین سے قبل غسل ان کی والدہ اور بہنوں نے دیا۔ماں اور بہنوں پر مبشرہ کے جسم پر تشدد کے نشانات دیکھ کر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔تاہم لوگوں کی موجوگی کی وجہ خاموش رہے جس کے کچھ عرصہ بعد ہی لڑکی کے اہل خانہ نے وکلاء سے مشورہ کیا اور بعدازاں علاقہ مجسٹریٹ کو قبر کشائی کے لیے درخواست دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں