طلاق آخری آپشن ہے مگر آپشن ہے۔ خدارا اسے اتنا بھی غلیظ اور ممنوعہ تصور نہ کریں کہ آپ کی اپنی زندگی رل کر رہ جائے

طلاق آخری آپشن ہے مگر آپشن ہے۔ خدارا اسے اتنا بھی غلیظ اور ممنوعہ تصور نہ کریں کہ آپ کی اپنی زندگی رل کر رہ جائے۔ آپ کو جینے کا حق ہے، خوش رہنے کا حق ہے، مسکرانے کا حق ہے۔ اسے خود سے نہ چھینیں۔ اگر آپ کا پارٹنر آپ کو وقعت دینے کو تیار نہیں یا اس کا مزاج یا عادات کسی صورت آپ کو قبول نہیں۔ تو خود کو چند ماہ یا سال دو سال کی ڈیڈ لائن دیں۔ اس ڈیڈ لائن کے دوران اپنے رشتے میں رنگ بھرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ نرم گفتگو سے سختی تک اور بستر الگ کرنے سے میرج کونسلنگ تک ہر طریقہ جس کی شریعت و عقل اجاذت دے، آزما لیں۔ مگر اگر پھر بھی یہ محسوس ہو کہ اس پارٹنر کے ساتھ زندگی مسلسل ذہنی کرب یا جبری سمجھوتہ بنی رہے گی تب طلاق لے کر اپنی زندگی کو موقع دیں۔ طلاق کا مقصد ہی یہ ہے کہ دو افراد اگر تمام تر کوشش کے باوجود زندگی ساتھ نہیں گزارنا چاہتے تو علیحدگی اختیار کرلیں۔ ایسی صورت میں طلاق دینا یا لینا گناہ قطعی نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے۔ اس دنیا کے دارالامتحان میں ہم ایک ہی بار آئے ہیں، ہمارے اہداف کچھ اور ہیں۔ اسے بلاوجہ کی ازدواجی اذیت یا مسلسل ٹارچر کی نظر نہیں ہونے دینا ہے۔
۔
یہ سوچ کر بچے پیدا کرتے رہنا کہ بچوں کے بعد لائف پارٹنر کا رویہ بدل جائے گا؟ ایک بہت بڑا رسک ہے، جسے لینا زندگی بھر کا پچھتاوہ بن سکتا ہے۔ افزائش نسل ضرور کریں مگر اس سے پہلے زیادہ اہمیت اپنے ازدواجی تعلق کو بہتر بنانے کو دیں۔ اگر بچہ ہوگیا ہے تب بھی یہ دیکھیں کہ کیا واقعی ساتھ رہتے رہنا بچے کی تربیت کیلئے بہتر ثابت ہورہا ہے؟ اگر بچے کی تربیت کیلئے ساتھ رہنا بہتر لگتا ہے تو پھر پوری طرح ایک دوجے سے سمجھوتہ کرکے چلیں۔ یہ نہ کریں کہ طلاق تو نہ دی نہ لی مگر گھر کے ماحول کو جہنم بنائے رکھا۔ مشاہدہ یہ ہے کہ بیشمار جوڑے بچہ ہونے کے بعد بھی آپس میں کتے بلی کی طرح لڑتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ذلیل کرتے رہتے ہیں۔ نفسیاتی و جسمانی ٹارچر کرتے رہتے ہیں۔ اس سب میں بچے کی شخصیت بری طرح کچلی جاتی ہے۔ شائد وہ بچہ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد زیادہ بہتر پرورش پاسکتا تھا مگر اس طلاق کے نہ ہونے نے اس کے وجود کو مسخ کرکے رکھ دیا۔ اگر طلاق آخری آپشن بن گیا ہے تو ہمیشہ اسلامی تعلیمات کے مطابق صرف ایک طلاق دیں یا لیں۔ اس سنجیدہ ترین صورتحال کے دوران آپ دونوں کو سوچنے کا خوب موقع مل سکے گا۔ جس میں اپنی اپنی انا کے جال سے نکل کر خوداحتسابی کا موقع بھی حاصل ہوگا۔ اس دورانیئے کے بعد ایک سلیم العقل یہ جان لے گا کہ اس رشتے کا ممکنہ مستقبل کیا ہے؟
۔
====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: طلاق کے فقہی مسائل مجھ طالبعلم سے نہ پوچھیں بلکہ کسی اچھے فقہی عالم سے دریافت کریں)

اپنا تبصرہ بھیجیں