عائشہ گلالئی کا سیاسی مستقبل۔۔۔! عائشہ گلالئی بچپن سے سیاست تک کی کہانی

عائشہ گلالئی کا سیاسی مستقبل۔۔۔!
تحریر عامر شہزاد اعوان
کئی سال پہلے ایک اخبار نے مہران شاہ کی نو سالہ بچی پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اخبار میں جو لکھا تھا وہ کئی سال بعد درست ثابت ہوا اخبار نے لکھا تھا بظاہر ہر انسان ایک دوسرے سے مماثلت رکھتا ہے رنگ ڈھنگ ناک نقشہ کے اعتبار سے بھی ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اگر قابلیت ذہانت کو پرکھا جائے تو کچھ ذہین لوگوں کی ماجودگی کا احساس دوسروں کو ہو جاتا ہے یہ لوگ نمایاں رہتے ہیں یہ قدرت کی عطا کی ہوئی قابلیت کو استعمال کر کے ایسا کچھ کر دیکھاتے ہیں جو دوسرے نہیں کر سکتے ایسی ہی ایسی ہی شخصیت کی مالک مہران شاہ کی رہنے والی نو سالہ عائشہ گلالئی وزیر ہے جس نے اپنی شعلہ بیانی سے بڑی بڑی عمر کے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اُس وقت عائشہ گلالئی وزیر چھٹی جماعت کی طالبہ تھی اس کے والد شمس القیوم وزیر ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ میں انسٹرکٹر تھے والدہ بھی ایک سکول میں ٹیچر تھیں نو سال کی عمرمیں عائشہ نے PTV کے کئی پروگرامز میں شرکت کی اور مقابلے جیتے۔ وہ اردو انگلش اور پشتو تقریر یکساں مہارت رکھتی تھی یہ پہلی پی ٹی وی پر پشتو نیوز کاسٹر تھی عائشہ بے نظیر بھٹو شہید کے عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے کے انداز سے بہت متاثر تھیں اور مستقبل میں وہ بے نظیر کی طرح تقریر کرنا چاہتی تھیں۔والدین اس کی رہنمائی کرتے تھے والدہ تقریر لکھ کر دیتی والد پروڈکشن کرواتے۔ عائشہ گھر کے لان میں موجود اینٹوں کو مخاطب کر کے اپنی ریاضیت کرتیں تھی۔ عائشہ گلالئی وزیر نے ایک سال میں دو جماعتیں پاس کر کے بھارت کے اس لڑکے کا ریکارڈ بھی توڑا جس نے 14سال کی عمر میں میڑک کیا تھا وہ اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل بن کر امن کی بحالی کے لیے کام کرنا چاہتی تھی نو سال کی عمر میں وہ تین بار ناظرہ قران پاک مکمل کر چکی تھی بے شمار احادیث اسے زبانی یاد تھیں وقت گزرتا گیا عائشہ بھی دن رات محنت کرتی رہی عائشہ گلالئی نے پشاور یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشن میں بی ایس کیا ایم اے پولیٹیکل سائنس قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا زمانہ طالبعلمی میں وہ پی ایس ایف فاٹا کی صدر بنیں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید عائشہ گلالئی وزیر کو اپنی بیٹی سمجھتی تھیں بے نظیر شہید کو عائشہ گلالئی پر بہت اعتماد تھا یہی وجہ ہے کہ الیکشن میں دو ٹکٹ دیے قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی لیکن بد قسمتی سے کم عمری کی وجہ سے عائشہ گلالئی عام انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں۔بے نظیر کی شہادت سے بعد آصف علی زرداری نے بینظیر شہید کے ساتھیوں کو کھڈے لائن کر کے اپنا گروپ بنا لیا پیپلز پارٹی کے نظریاتی ورکر دور ہو گئے عائشہ گلالئی نے پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ، عائشہ گلالئی اور اس کی ٹیم نے ناصر باغ لاہور میں بہت بڑا جلسہ کیا جس سے پرویز مشرف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا یہ وہی باغ ہے جہاں ذولفقار علی بھٹو نے پہلا جلسہ بھی ناصر باغ میں کیا تھا ۔ آل پاکستان مسلم لیگ جب منظم نہ ہو سکی تو عائشہ گلالئی نے پرویز مشرف سے درخواست کی کہ وہ کسی اور پارٹی میں شامل ہونا چاہتی ہیں شاید کبھی ایسا ہوا ہو کہ پارٹی رکن کسی اور پارٹی میں شمولیت کے لیے اجازت طلب کرے یہ بہت مہذب طریقہ ہے سیاست زاتی مفاد کے لیے نہیں ہونی چاہیے نہ ذاتی تعلق سیاست کی نظر ہونا چاہیے پرویز مشرف جانتے تھے کی عائشہ ایک ذہین اورقابل سیاسی ورکر ہیں وہ سیاسی طور پر ایکٹو ہونا چاہتی ہیں اسکے لیے ضروری ہے پارٹی منظم ہو جو ہم اپنی پارٹی منظم کرنے میں ناکام رہے ہیں پرویز مشرف کی اجازت سے عائشہ گلالئی نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمران خا ن فوجی اپریشن کے خلاف وزیرستان کی طرف مارچ کر رہے تھے فوج اور دفاعی اداروں کو پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے گالم گلوچ کیا کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ یہ ایجنسیاں کتے کو بھی وزیر اعظم بنا دیتی ہیں جس دن عائشہ گلالئی کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبر میں نے پڑھی مجھے بہت حیرانگی ہوئی کیونکہ عائشہ مکمل مزہبی اور مشرقی مزاج رکھتی ہے جبکہ تحریک انصاف کا ماحول بہت مختلف ہے ہے میں نے اپنے دوستوں کو اسی د ن یہ کہہ دیا دیکھنا ایک دن عائشہ گلالئی کا پارٹی سے پھڈا ہو گا وہ اس جماعت میں زیادہ عرصہ نہیں رہے گی میرے دوستوں خیال تھا کہ عائشہ گلالئی کوئی اتنی بڑی شخصیت نہیں کہ کسی پارٹی میں شامل ہونے یا چھوڑ جانے سے فرق پڑے۔ عائشہ گلالئی نے پارٹی کے لیے دن رات کام کیا اُن دنوں روزانہ بم دھماکے ہو رہے تھے سیاسست دان ڈر کے مارے جمعہ تک پڑھنے مسجد نہیں جاتے تھے، جب بھی کہیں دھماکہ ہوتا عائشہ گلالئی سب سے پہلے پہنچتی تھیں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں بھی شرکت کرتیں تھیں عائشہ گلالئی کی بہن ماریہ طور پکئی انٹرنیشنل سطح ُپر کھیل میں پاکستان کا نام روشن کر چکی تھی اسے دہشت گرد دھمکیاں دے رہے تھے اسے روزانہ گاڑی بدل بدل کر گھر سے باہر نکلنا پڑتا تھا ۔ یہ وقت عائشہ کی فیملی کے لیے مشکل ترین وقت تھا، 2013کے انتخابات میں عائشہ گلالئی تحریک انصاف میرٹ پر ایم این اے منتخب ہوئیں ِ۔ پارٹی کے ورکر اپنے ہر مسلہ کو لے عائشہ گلالئی کے پاس جاتے تھے کیونکہ صوبائی حکومت ان ورکر کے مسائل حل نہیں کر رہی تھی۔ خیبر پختون خواہ میں کرپشن عروج پر تھی ملین ٹری منصوبہ میں تو کمال ہو گیا، جب کبھی اس کی تفصیل آئے گی قوم کے ہوش اُڑ جائیں گے، لوگ میٹرو وغیرہ بلکل بھول جائیں گے، عائشہ ہر جلسہ اور پارٹی میٹنگ میں اپنے والد، بھائی کے ساتھ شرکت کرتی تھیں باقی تمام لوگ جلسوں میں عمران خان کے ساتھ ہیلی کیپٹر میں جاتے تھے دعوت ہونے کے باوجود عائشہ گلالئی ہر جگہ اپنی گاڑی پر شرکت کرتیں تھیں وہ شروع سے تنہائی پسند ہے زیادہ بات چیت پسند نہیں کرتی، ایک دن لکی مروت میں جلسہ تھا لوگ پنڈال سے جانے لگے جب عائشہ گلالئی نے اپنے جب اپنے مخصوص انداز پشتو میں تقریر شروع کی تو لوگ رک گئے انہوں نے خوشدلی سے تقریر سنی، عمران خان نے اس پر عائشہ گلالئی کی بہت تعریف کی۔ عائشہ گلالئی نے پرویز خٹک کی کرپشن کے حوالے سے ثبوت پیش کیے تو عمران خان نے نظر انداز کر دیئے عمران خان کی معلوم نہیں مجبوری ہے لیکن یہ سچ ہے کہ وہ پرویز خٹک سے ڈرتے ہیں، عمران نے عائشہ گلالئی کو ایک غیر اخلاقی میسج کیا عائشہ گلالئی نے نے عمران خان کوبہت سخت جواب دیا شاید وہ اس کی توقع نہیں کر رہے تھے عمران خان کا پہلی بار کسی مختلف سوچ رکھنے والی عورت سے واسط پڑا تھا۔ ساری زندگی عمران کی قسمت نے اُس کا ساتھ دیا اس لیے وہ غلط فہمی کا شکار تھے۔ اسے لگتا تھا کہ سب عورتیں ایک جیسی ہیں، وہ یہ سمجھنے میں غلطی کر گیا کہ ؎عائشہ گلالئی کے لیے پارٹی عہدہ یا ٹکٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے پاکستان کی مقبول ترین لیڈر بے نظیر شہیدنے عائشہ گلالئی کو بیٹی کا درجہ دیا ہوا تھا عائشہ گلالئی کے لیے عہدے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے عائشہ گلالئی کے والد اور بھائی نے عمران خان سے ملاقات کی تو عمران نے بات کا رخ موڑنے کی کوشش کی کہ میں تو ویسے کہہ رہا تھا کہ اس کو شادی کر لینی چاہیے وغیرہ۔عمران کے پاس اپنی غیر اخلاقی حرکت کا جواب نہیں تھا کچھ عرصہ خاموشی رہی پھر عمرا ن کی طرف سے میسجز آنا شروع ہو گئے۔ عائشہ گلالئی پارٹی میٹنگ میں شرکت نہیں کر رہیں تھی حالانکہ وہ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کی ممبر تھی عائشہ گلالئی کو پارٹی کے اس فیصلے سے بھی اختلاف تھا جس میں عمران خان نے کچھ صحافیوں اور اینکرز کی کردار کشی اور مخالفین کو گالم گلوچ کا حکم اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو دیا تھا۔عمران خان بے نظیر شہید کے بارے نازیبا گفتگو کرتے تھے بے نظیر شہید نے عائشہ گلالئی کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا اس عمران خان کے اس عمل سے تکلیف ہوتی تھی عمران خان اس چیز کی خود ٹریننگ دیتے تھے عمران خان کا خیال تھا نوجوان گالم گلوچ پسند کریں گے ایسا کرنے سے میں نوجوانوں میں مقبول ہوں گا اور مخالفین پر ہمارا دباؤ بنا رہے گا۔ پشاور کے لوگ اپنے مسائل لے کر عائشہ گلالئی کے پاس آتے تھے عائشہ وفد کے ساتھ عمران خان سے ملاقات کرتیں تھیں۔ عائشہ گلالئی پریس کانفرنس اور پارٹی چھوڑنے کے اعلان سے دو دن پہلے پشاور کے کارکنان کے ساتھ بنی گالا گئیں تھیں۔ جس میں اس نے پرویز خٹک کی کرپشن کے ثبوت بھی عمران خان کو دیئے لیکن عمران خان نے اس پر توجہ نہیں دی۔ عائشہ گلالئی نے پارٹی چھوڑنے کے فیصلہ کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ قوم کو آگاہ کر دے کہ یہ ٹولہ نہ صرف مالی کرپشن کرتا ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی کرپٹ ہے۔ تحریک انصاف نے عائشہ گلالئی کی پریس کانفرنس سے بعد اس پر الزام لگایا کہ وہ پارٹی ٹکٹ چاہتی تھی پارٹی نے انکارنے کر دیا اس لیے وہ اب غیر اخلاقی الزام لگا رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے لوگوں کے پاس عائشہ گلالئی کے سوالوں کا جواب نہیں تھا اس لیے پارٹی ٹکٹ کا الزام لگایا گیا تحریک انصاف کے ٹکٹ حصول کی خاطر عمران خان کے خوشامدیوں نے بڑھ چڑھ کر عائشہ گلالئی کی کردار کشی کی نہ صرف عائشہ گلالئی بلکہ عالمی سطح ُ پاکستان کا نام روشن کرنے والی کھلاڑی ماریہ طور پکئی کے خلاف شوشل میڈیا کو استعمال کیا گیا۔ ٹھیکدار کو آگے کیا گیا جس نے عائشہ گلالئی پر لاکھوں روپے کرپشن کا الزام لگایا۔ کاروباری لوگ ہمیشہ حکومت کے ساتھ اچھے تعلق رکھنے کے لیے پاپڑ بیلتے ہیں یہ ٹھیکدار عمرا ن خان کی توجہ چاہتا تھا عائشہ گلالئی کے خلاف چھوٹے لوگوں کو قومی میڈیا پر آنے کا موقع ملا کسی نے ٹکٹ کے لیے کسی نے ٹھیکے لینے کے لیے عمران خان کے حق میں عائشہ گلالئی کے خلاف پریس کانفرنسز کیں۔ ان لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کی وجہ شہرت کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولنا ہے ان لوگوں کا منشور ہے جان اللہ کو دینی ہے اور جھوٹ عمران خان کے لیے بولنا ہےیہ موصوف آج کل وزیر ہیں ہمیشہ کی طرح آج بھی جھوٹ بولتے ہیں رانا ثنااللہ کا کیس ہمارے سامنے ہے کلمہ پڑھ کرہرپریس کانفرنس ویڈیو ثبوت کا ذکر کرتے رہے لیکن عدالت میں پیش ہیں نہیں کرسکے۔ خیر بات عائشہ گلالئی کی ہو رہی تھی سوال یہ کیا جاتا ہے کہ عائشہ گلالئی نے ثبوت نہیں دیے۔ تو ان کے لیے جواب یہ ہے کہ ثبوت عدالت میں دیے جاتے ہیں یا اگر کوئی کمیٹی کوئی کمیشن بنتا تو اس میں وہ ثبوت دیتی۔ ایسا کوئی کمیشن نہیں بنا جہاں وہ ثبوت پیش کرتی۔ یہ کسی ترقی یافتہ ملک کی بات ہوتی تو الیکشن سے پہلے اس کیس کا فیصلہ ہوتا تاریخ میں بہت سے واقعات گزرے ہیں جب سیاست دان پر الزام لگتا ہے وہ عہدہ چھوڑ دیتے ہیں الزامات کا سامنا کرتے ہیں ملزم اگر سچا ہو تو وہ الزام لگانے والے کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجتا ہے ہمارے ملک میں عدالتی نظام اتنا اچھا نہیں ہے کہ کسی طاقتور کو سزا دے ٰیہاں توطاقت ور کو بچانے کے لیے فرشتے آجاتے ہیں۔ اول کیس نہیں چلنے دیا جاتا اگر چل جائے تو سانحہ ساہوال کیس کی طرح ویڈیو ثبوت جیسے ٹھوس شواہد کے باوجود جج شک کا فائدے دے کر بری کر دیتے ہیں۔ عائشہ گلالئی کا مقصد قوم کو صرف آگاہ کرنا تھا یہ تبدیلی نہیں لائی جا رہی بلکہ مُلک کی مالی اور اخلاقی تباہی ہے قوم اس سے بچ جائے۔ عمران خان میں اگر اخلاقی جرات ہوتی تو وہ ہتک عزت کا کیس کرتے ۔عائشہ گلالئی پر ایک یہ بھی الزام ہے کہ اس کو ن لیگ نے اسے عمران خان کے خلاف استعمال کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو عائشہ گلالئی نواز شریف کو ذہنی مریض جیسے القابات نہ دیتیں۔کہ نواز شریف کا ذ ہنی علاج ہونا چاہیے اپنے اداروں خلاف باتیں کرتا ہے وہ تو زرداری اور نواز شریف کو چور پکارتی رہتی ہے نہ ہی اس نے کبھی نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے کبھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے میں سمجھتا ہوں سیاست میں اس حد تک نہیں جانا چاہیے اختلاف کرنا چاہیے لیکن نواز شریف بہت بیمار ہیں اگر اس کی تیماداری کر دی جائے
اس کے کارکنا ن اور پارٹی لیڈرشپ سے اس کی صحت کے ھوالے نیک خواہشات کا اظہار کیا جائے تو نہ تو ملک کے خزانے کو نقصان ہوگا نہ اسطرح کرنے سے وہ غدار ہو جائے گی۔ عائشہ گلالئی سمیت تمام سیاست دانوں کو نواز شریف کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ مقابلہ سیاسی میدان میں کیا جائے،نواز شریف پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی جج کی ویڈیو اور وزیر داخلہ اور ترین صاحب کا بیا ن نواز شریف کی بیگناہی کے لیے کافی ہے۔ یہ بات اس بات کا ثبوت ہے کہ عائشہ گلالئی کو کسی نے استعمال نہیں کیا نہ اس نے کسی پارٹی شمولیت اختیار کی اس کے مطابق یہ سارے اندر سے آپس میں ملے ہوئے ہیں سب چور اور نالائق ہیں اس لیے اس نے اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی بنیاد رکھی اور الیکشن میں حصہ لیا۔ وہ دلیراورپڑھی لکھی سیاستدان ہے ہر فیصلہ خود کرتی اپنے ایمان پر کرتیں ہیں نہ کہ ذاتی مفاد کے لیے ہے نہ اسے کوئی مرعوب کر سکتا ہے عائشہ گلالئی کو الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی اس شکست کی بہت سی وجوہات ہیں اول عائشہ گلالئی کے پاس حرام کا پیسہ نہیں تھا جس سے وہ ووٹ خرید لیتی وہ ابھی پی ایچ ڈی کی طالبہ ہے اپنے والد کی پینشن سے اخراجات ادا کرتی ہے۔ اس نے اپنی پارٹی کی بنیاد الیکشن سے دو ماہ پہلے رکھی اس کے پاس نہ ٹیم تھی نہ وہ پارٹی آرگنائز کرنے کا وقت۔جو لوگ الیکشن میں اس کے ساتھ تھے الیکشن سے چند دن پہلے زلفی بخاری نے ان کو خرید لیا ۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ووٹ اس کا ہے جس کے ساتھ دو چار ڈبل کیبن ڈالے پر مسلح گارڈز ہوں وہ جاگیر دار ہو صنعت کار ہو۔ ایک دو اس پر قتل کے کیس ہوں تو یہ اضافی خوبی سمجھی جاتی ہے دانا کہتے ہیں پاکستان میں الیکشن جیتنے کے لیے ووٹ اور سوٹ(ڈنڈا) ہونا بہت ضروری ہے۔عائشہ گلالئی ان دونو ں خوبیوں سے محرم ہے اور نہ وہ کسی ATMکو پارٹی میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ مڈل کلاس پڑھے لکھے لوگ سیاست میں حصہ لیں۔ یہ بات تو عمران خان بھی کرتا تھا لیکن اسے دوستوں نے سمجھایا کہ کہ ایسا ممکن نہیں ہے طاقت ور حلقوں سے رابطہ مضبوط ہونا کامیابی کی شرط ہے یہ نظام چلانے والے حقیقی لیڈر شپ کے سخت مخالف ہیں یہ کرپشن نہ بھی ثابت ہو تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر بھی چھٹی کروادیتے ہیں ۔حقیقی لیڈر ہمیشہ مڈل کلاس سے آیا ہے امارات کبھی بھی لیڈر پیدا نہیں کر سکتی۔ ان حالات میں سیاست کرنا بہت مشکل ہے عائشہ گلالئی کی سوچ قابل تحسین ہے لیکن اس نظام میں وہ اچھا رزلٹ حاصل نہیں کر سکتی۔عائشہ گلالئی کے بارے مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہ اپنی پڑھائی PHDکرنے کے لیے بیرون ملک جا رہی ہے ایسے بہت سے پاکستانی ہیں جن کی ہم قدر نہ کر سکے لیکن جب وہ بیرون ملک گئے توکامیاب ہوئے کئی لکھاری ادیب شاعر اور سائنسدان شامل ہیں۔پھر وہاں مستقل ٹھہر گئے مجھے ایسا لگ رہا کہ اگر عائشہ گلالئی بیرون ملک جائے گی تووہاں کا سیاسی ماحول اور ہمارے منفی ر وئیے کی وجہ سے شاید مستقل سکونت اختیار کر لے گی۔ اور پاکستان ایک قابل لیڈر حقیقی لیڈر نصیب نہ ہو سکے گی وہ کیا فیصلہ کرتی ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن مجھے یقین ہے عائشہ گلالئی ایک دن بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔ جب پرندہ اڑنے کی ٹھان لے تو ہوا کو راستہ دینا پڑتا ہے۔ میرا اسے مشورہ ہے کہ وہ PHDکے لیے بیرون مُلک جائے پھر واپس آئے اور کسی ایسی سیاسی پارٹی سے اتحاد یا اسے جوائن کرے جو اس کے نظریات کے قریب ہو۔ ملک کی خدمت کرنے کے لیے کسی پارٹی کا سربراہ ہونا ضروری نہیں کوئی تھنک ٹینک بھی تو ہو سکتا ہے جو اپنی قیادت کو مفید مشورے دے۔عائشہ گلالئی جیسے ذہین لوگ کو کسی جلسے جلوس کی قیادت نہیں بلکہ ایسے منصوبوں کی سربراہی کرنی چاہیے جو ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے اسمبلی ہونا چاہیے جہاں وہ ایسے قوانین بنائے جس عام آدمی کے مسائل کم ہوں اسے اب ایک بڑا اور مشکل فیصلہ کرنا چاہیے کسی ایسے فورم کاممبر بن جانا چاہیے جو ملک کی خدمت کا عزم اور تجربہ رکھتے ہوں
عامر شہزاد اعوان
بلاگر۔سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں