عالمی یوم استاتذہ

خصوصی تحریر عامرشہزاد اعوان
ڈاکٹر عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے استاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا کلاس میں اگر آپ نے میری حوصلہ افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حقدار نہ بنتا،میری نظر میں نوبل انعام کی ا ہمیت آپ کے ایک روپیہ سے بھی کم ہے،
قارئین !
ہر سال دنیا میں 5 اکتوبر کو عالمی یوم استاتذہ منایا جاتا ہے استاد کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے سمینارز تقریبات اور کانفرنسس ہوتی ہیں ِ
ٓاستاد نظام تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے جب تک ان کے حالات کار بہتر نہیں ہوں گے ان سے اچھی کارکردگی کی امید نہیں کی جا سکتی ایک خوشحال استاد ہی صحت مند تعلیمی ماحول دے سکتا ہے استاتذہ کو کم از کم اتنے وسائل مہیا کیے جائیں وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں اگر استاد مالی لحاظ مضبوظ ہو گا تو وہ مزید تعلیم کے ذریعے اپنی قابلیت میں اضافہ کر سکے گا۔ ہمارے ملک میں استاتذہ بہت مشکلات کا شکار ہیں،ان کو وہ سماجی مرتبہ حاصل نہیں جس کے وہ مستحق ہیں ہم ہر جگہ یورپ کو ترقی کی مثال دیتے ان ترقی یافتہ ممالک میں جو استاد کا مقام ہے اس کا اندازآپ اس وقعہ سے کر سکتے ہیں اشفاق صاحب لکھتے ہیں روم (اٹلی) میں میرا چالان ہو گیا مصروفیات کے باعث ٖفیس ٹائم پر ادا نہ کر سکا کورٹ جانا پڑا جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے وجہ پوچھی میں نے کہا پروفیسر ہوں
مصروف ایسا رہا کہ وقت نہ مل سکا
اس سے پہلے کہ میں کہ میں بات پوری کرتا جج نے کہا
A teacher is in court
سب کھڑے ہو گئے اور مجھ سے معافی مانگ کر چالان کینسل کر دیا اس روز میں قوم کی ترقی کا راز جان گیا، دوسری طرف ہمارے ہاں سوچ اس بہت مختلف ہے ایک سابق آئی جی پنجاب جن کا تعلق جھنگ سے تھا سو ل سروس جوائن کرنے سے پہلے وہ سکول میں ٹیچنگ کرتے تھے ایک دن بس میں سفر کر رہے تھے راستے میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی اسی بس پر سوار ہوئے، بس کنیکٹر نے کہا کہ آپ صاحب کے لیے سیٹ چھوڑ دیں!
میں سکول ٹیچر ہوں گریڈ سولہ میں وہ کانسٹیبل ہے ساتویں گریڈ میں میں سینئر ہوں سابق آئی جی (جو اس وقت ٹیچر تھے)نے جواب دیا
بس کنیکٹر نے جواب دیا جناب آپ بھی پولیس میں بھرتی ہو جاتے ہم کیا کریں آپ مہربانی کر کے سیٹ دے دیں
اسے اس توہین سے احساس ہوا کہ وہ غلط پروفیشن کا انتخاب کر چکا ہے اگر وہ پولیس میں ہوتا تو اس معاشرے میں اس کا مقام اونچا ہوتا دوسرے سال اس نے سی ایس ایس پاس کر کے پولیس جوائن کر لی پھر وہ آئی جی پنجاب بھی بنے چند ایک لوگ اپنے شوق کی وجہ سے ٹیچنگ کی طرف رخ کرتے ہیں زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے جو دوسرے کسی شعبہ میں کامیاب نہیں ہو سکے توٹیچنگ کی طرف آ گئے ہیں
آسان الفاظ میں جیسے کوئی اور کام نہیں ملتا وہ ٹیچنگ میں آ جاتا ہے زرخیز دماغ (قابل لوگ) دوسرے شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں نظام تعلیم تباہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے نہ ملک میں کوئی ریسرچ ہو رہی ہے نہ کوئی تبدیلی آ رہی ہے اس طرف توجہ دینا ہو گی استاتذہ کے لیے استاد کو عزت دیں اس جاب کو پرکشش بنائیں آنے والی نسل کو قابل ترین لوگوں کے زیرسایہ تیار کریں آج اپنے استاد سے ملیں اس کے لیے تحفہ لیں جائیں اپنے استاد سے روشن مستقبل کی دعا لیں

ُ

اپنا تبصرہ بھیجیں