عورتوں کے محافظ مردوں سے چند سوالات اور گزازرشات

بشکریہ ہم سب
ثنا بتول درانی
مارچ کا مہینہ شروع ہو گیا ہے عورت مارچ کا چرچا ہے۔ ایک طرف وہ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ یہ بلاتفریق صنف برابری کا سوال ہے تو دوسری جانب وہ ہیں جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ ایسی کم عقل مخلوق کو انسان کہنا ہی غلط ہے۔ تو کیسی برابری اور کہاں کے حقوق۔ ایسے میں ایک جماعت چند نعرے لے کے اٹھی ہے۔ ”مرد عورتوں کے محافظ ہیں۔ “ سوال یہ ہے کہ کون سے مرد وہ مرد جن کی وجہ سے عورتیں گھر سے باہر کیا گھر کے اندربھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ وہ مرد جن کے خوف سے آپ اپنی بہن، بیٹی، بیوی کو سو پردوں میں چھپاکے رکھتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں باپ، بھائی اور شوہر عورتوں کے محافظ ہیں۔ تویہی باپ بھائی شوہر دوسری عورتوں کے لیے اس قدر خطرناک کیوں ہیں کہ آپ ہی بتا رہے ہیں ان سے بچ کے رہو، کون سی تربیت اور اخلاقیات ہے جو یہ دوغلی تعلیم دیتی ہے کہ گھر کی عورت تو قابل احترام ہے اس کے علاوہ ہر غیر محرم رشتہ گوشت کی دکان یے کہ اسے دیکھتے ہی رالیں ٹپکانے لگو۔
دوسرا نعرہ ہے ”آپ کیا بننا پسند کریں گی ایک اشتہار پہ ایک خوبصورت چہرہ یا قوم کی معمار؟ “ مطلب پہلے عورت کو سیکچوئیلی اوبجیکٹیفائی کردیا اور کہہ دیا کہ اس کی اوقات ہی یہی ہے کہ بس زیادہ سے زیادہ اشتہار کا ایک حسین چہرہ ہو۔ اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں ہو سکتی نہ سوچ سکتی ہے، نہ سمجھ سکتی ہے، نہ معشیت میں حصہ دار ہو سکتی ہے، نہ کسی اورشعبے میں کام کر سکتی۔ ہاں البتہ یہی عقل سے پیدل مخلوق بچے پال کے قوم کی معمار بن سکتی ہے۔ ارے ایسی مخلوق کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل تھما رہے ہو وہ کیا قوم کی تعمیر کرے گی وہ بے چاری تو بس تمہاری ہوس پوری کر دے کافی ہے۔ تیسرا نعرہ ہے ”بے حیائی کی سر پرستی بند کرو“ یہ جو دن رات ریپ ہوتے ہیں۔ چھ ماہ کی بچی سے لے کرقبر میں پڑی خاتون تک کی بے حرمتی کی جاتی ہے یہ بے حیائی نہیں۔ عورت پہ گھریلو تشدد بے حیائی نہیں ہے۔ اس پہ ذہنی تشدد کرنا اس پہ تیزاب انڈیلنا، اس کی تذلیل کرنابے حیائی نہیں ہے۔ ہاں اس پہ احتجاج باقاعدہ بے حیائی ہے۔ اس شعور کی ترویج کہ یہ سب غلط ہے اسے غلط سمجھیں بے حیائی ہے۔ یہ جو مسلسل استحصال ہے اسے ختم کریں یہ بے حیائی ہے۔
ادھر ایک اور جماعت کے راہنما ہیں جن کے خیال میں میرا جسم میری مرضی بہت ہی غلط ڈیمانڈ ہے۔ قصور ان کابھی نہیں جس نے ساری زندگی عورت کے جسم کو جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا ہو وہ یہی سمجھ سکتا ہے کہ اس مطالبے کا مطلب یہ یے کہ عورت صرف مرضی کے سیکس کی بات کر رہی ہے۔ ذرا سی دماغ کی کھڑکی کھولیں تو اس کا مطلب ہے کہ عورت پہ کوئی زور زبردستی نہیں کر سکتا۔ وہ اگر محنت کرتی ہے اپنی کوشش سے کماتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی اسے ان چاہ چھو نہیں سکتا، تیسرا یہ کہ اس کے لباس پہ اعتراض کا آپ کوویسے کی کوئی حق نہیں ہے جیسے آپ کے لباس پہ اعتراض کا کسی کو اختیار نہیں۔ یہ مخالفت، یہ جذباتی باتیں ہمارے سماج کا خاصا ہیں۔ ہمارا ایک نفسیاتی مسئلہ ہے کہ ہم حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ سچائی کیا ہے۔ عورتوں کا استحصال ہمارے معاشرے کا خاصا ہے پہلی بات آپ تسلیم تو کریں کہ ایسا ہو رہا ہے پھر اس کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ لیکن آپ تو ماننا ہی نہیں چاہتے۔ بس بحث برائے بحث اور گندگی کو قالین کے کونے میں چھپانے کی عادت جو ہوئی۔ چھپا لیجیے گندگی چھپ سکتی ہے تعفن اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے اپنی بیماری کو تسلیم کیجئے علاج بھی مل جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں