عورت سوشل میڈیا پہ بھی آزادی کا سانس نہیں لے سکتی؟ ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ آپ فیس بک پر اپنے معمول کے مطابق مصروف ہوں، کہ اچانک میسنجر کال نوٹیفکیشن دکھانے لگے، جہاں کوئی ان جان سیدھا وِڈیو کال کر ڈالتا ہے

آمنہ سویرا
ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ آپ فیس بک پر اپنے معمول کے مطابق مصروف ہوں، کہ اچانک میسنجر کال نوٹیفکیشن دکھانے لگے، جہاں کوئی ان جان سیدھا وِڈیو کال کر ڈالتا ہے۔ آپ کال مسترد کرتے ہیں، تو بھی متواتر پیغامات کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ یہاں تک کہ لغو، فحش اور انتہائی غیر شایستہ پیغامات اور تصاویر کہ جن کا ذکر کرنا بھی یہاں مناسب معلوم نہیں ہوتا، ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ بھولے سے اپنی کوئی تصویر شیئر کر بیٹھیں تو ذو معنی تبصرے، یا آپ کسی سوشل میڈیا کے کسی فورم میں کسی دوست کے ساتھ محو گفتگو ہیں اور کوئی دوسرا سیاق وسباق کو سمجھے بغیر صرف توجہ لینے کو درمیان میں آ ٹپکے گا۔ اس چلن پر اعتراض کیا جائے تو جواب میں گھٹیا جملے لکھے جائیں گے۔ سمجھ لیا گیا ہے کہ کوئی خاتون جیسے کسی اور سے بات چیت کر رہی ہے، سبھی کا حق ہے کہ وہ ان کو اسی طرح ٹریٹ کرے۔

یہ سب معمولی اور عمومی مسائل ہیں۔ سنگین مسئلہ تب بنتا ہے، جب آپ کو پتا چلے کہ کہیں کسی نے آپ کی تصویر کو بنا اجازت استعمال کیا ہے یا پھر آپ کی نجی معلومات تک رسائی کی کوشش کی ہے۔ اس مایوسی اور کوفت کا اندازہ کیجیے، جب بظاہر پڑھے لکھے، اپنے تئیں سلجھے ہوئے افراد اس طرح کی شرم ناک حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ سب لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گزشتہ دنوں مجھے ایسی ہی اذیت سے گزرنا پڑا، جب کسی نے بتایا کہ میری تصویر کسی نے اپنی وال پہ انتہائی نا مناسب کیپشن دے کے شیئر کی ہے۔ جس نے یہ جرم کیا، وہ میری فرینڈ لسٹ میں بھی نہیں ہے، تو پھر میری تصویر تک اس کی رسائی کیسے ہو گئی؟ میرے رابطہ کرنے پر موصوف نے معذرت کرتے کہا، وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کس کی تصویر ہے، وہ تو یونھی دل لگی کر رہے تھے۔ گویا آپ جسے نہیں جانتے، اس کی عزت سر بازار نیلام کرنے کی اجازت ہے؟

سوشل میڈیا بشمول فیس بک، وٹس ایپ، ٹوِٹر، انسٹا گرام وغیرہ اب ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان اپلیکیشن کی مدد سے جہاں ہمارے سماجی رابطوں کے انداز و طریقہ کار میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں، وہیں ہماری روز مرہ زندگی میں اس کے منفی اور مثبت اثرات کی جھلک بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسمارٹ فون میں دست یاب باہمی رابطوں کی تیز ترین اپلیکیشنیں جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کررہی ہیں وہیں اِن جدید ذرائع ابلاغ سے جڑے نت نئے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں اور ہمارے معاشرے میں جہاں عمومی آداب و اخلاق کا مسئلہ زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی ان کی چھاپ دیکھی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا سے جڑے مسائل میں سے سب سے حساس اور پوری دنیا میں تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ آن لائن ہراسمنٹ اور ذاتی معلومات کے افشا ہونے کا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف امریکا میں 18 سے 29 برس کے 65 فی صد انٹرنیٹ صارفین کو آن لائن ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں بھی انٹرنیٹ سے جڑے جرائم کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اِس حوالے سے وفاقی تفتیشی ادارے (FIA) کی رپورٹ کے مطابق 15-2014ء میں آن لائن ہراسمنٹ کے کل 3 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے، ان میں اکثریت کا نشانہ خواتین بنیں۔ ڈیٹا رائٹس فاؤنڈیشن کی آن لائن ہراسمنٹ پر شایع شدہ تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استمعال کرنے والی 40 فیصد خواتین صارفین کو کسی نا کسی طرح سے ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آن لائن ہراسمنٹ کا سب سے زیادہ شکار فیس بک صارف خواتین بنیں جب کہ بلاگ، کمنٹس، چیٹ گروپس اور واٹس ایپ میسیجز کے ذریعے بھی قابلِ افسوس تعداد میں ہراسمنٹ کی شکایات سامنے آئیں۔

اب کیا کیجیے، عوام کو اتنی سی اخلاقیات کون سکھائے کہ آپ سوشل میڈیا پر کسی خاتون (یا مرد) کی تصویر لے کے “میم” بناتے ہیں، نا مناسب کیپشن دیتے ہیں، کسی کا سر کسی کے دھڑ پہ لگا کے اپنی طرف سے کوئی نئی ایجاد کر رہے ہوتے ہیں، تو اس سے پہلے یہ سمجھیے کہ آپ کسی کی زندگی کو مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ کوئی عورت جس کی تصویر لے کے آپ یہ کرتب دکھاتے ہیں، وہ اپنے بھائی، باپ، شوہر کو کیسے سمجھائے کہ اس کا اس میں کوئی دوش نہیں ہے! اور پھر یہ بھی ہے کہ ایک عورت جسے سوشل میڈیا پر بھی سانس لینے کی آزادی نہیں، وہ اس گھٹن سے بھر پور معاشرے میں اور سانس لینے جائے بھی تو جائے کہاں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں