قصور کے بعد نارووال میں مدرسے کے قاری کی بچوں سے زیادتی، بچے نے ویڈیو بیان میں سب کچھ بتا دیا

قصور کے بعد نارووال میں مدرسے کے قاری نے بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بچے نے اپنے ویڈیو بیان میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ بچے نے کہا کہ وہ مدرسے میں پڑھتا ہے اور اسے اس کے استاد نے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔روز قبل بھی قاری نے بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بچے نے اس کے بعد تنگ آکر اپنے والدین کو ساری بات بتا دی جس کے بعد انہوں نے قانون سے انصاف کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب لاہور رحیم یار خان پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے چونیاں اور قصور میں ماؤں کو گودیں اجاڑنے والے مبینہ ملزم سجاد کو مقامی زمیندار کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خون کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے حاصل کر لیے گئے، ابتدائی تفتیش میں ملز م نے اعتراف جر م کر لیا ۔تفصیلا ت کے مطابق چونیاں واقعہ میں پولیس کو بڑی کامیابی مل گئی ہے، ملزم تھانہ کوٹ سمابہ کی حدود امین آباد کے علاقے میں مقامی زمیندار محمد حنیف کے گھر میں چھپا ہوا تھا، گزشتہ رات خفیہ اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ۔ ملزم سجاد مقتول فیضان کے قتل کے بعد پولیس کارروائیوں سے بچنے کے لیے فرار ہوا، مبینہ ملزم سجاد احمد کو پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ لاہور میں آر پی او شیخوپورہ رینج کے دفتر منتقل کر دیا گیا ہے جہا ں ملزم سجا د نے ابتدائی تفتیش میں بچوں سے زیادتی کا اقرار کرلیا ہے سجا د کے والد محمد حسین نجی کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ ہے۔36 سالہ شہزاد 4 بچوں کا باپ اور ٹریکٹر ڈرائیور ہے۔ بچے کی لاش اور باقیات کی بھی ایک اور ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور نے اطالاع دی تھی۔دو روز قبل سجا د کے والد نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر شکوک کا اظہار کیاتھا۔والد محمد حسین نے بتایا کہ بیٹا بچوں سے زیادتی کے کئی واقعات میں ملوث ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں