ماڈل کورٹ نے قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا، مفتی عبد القوی سمیت دیگر ملزمان بری

اڈل کورٹ نے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیق نے گذشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ ملزم وسیم قندیل بلوچ کا بھائی تھا۔ جبکہ مقدمے میں نامزد مفتی عبد القوی سمیت دیگر ملزمان کو کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔عدالت نے مفتی عبد القوی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ اس حوالے سے مفتی عبد القوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کا دن ہے، آج انصاف کی فتح ہوئی ۔ آج کا دن تاریخی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ باقی ملزمان کو شک کی بنا پر بری کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کوئی شہادت نہیں آئی۔عدالت نے میرے خلاف شہادت نہ ہونے پر مجھے بری کیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز ماڈل کورٹ ملتان کے جج عمران شفیع نے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزمان کے وکلا اور پراسیکیوشن کے دلائل مکمل ہونے پرمقدمہ کا فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔اس موقع پر ملزمان وسیم ، مفتی عبدالقوی ، اسلم شاہین، ظفر حسین ، عبدالباسط اور حق نواز عدالت میں پیش ہوئے تھے ۔
گواہوں کے بیانات پر ملزمان کے وکلا نے دلائل دیئے جن میں غیرت کے نام پر قتل کی دفعہ کا اطلاق ، واقعہ کا عینی شاہد نہ ہونے اور والدین کے راضی نامہ پر بحث کی گئی جبکہ پراسیکیوشن نے دلائل میں ملزم کے اقبال جُرم ، غیرت کے نام پر قتل ناقابل راضی نامہ ہونے پر بحث کی۔ قبل ازیں مقتولہ قندیل بلوچ کے والدین نے بیٹوں کو معاف کرنے اور بری کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی تھی ۔
قندیل بلوچ کے والد عظیم بلوچ نے بیان حلفی جمع کرواتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ میرے بیٹوں کو باعزت بری کیا جائے۔ عدالت میں جمع کروائے جانے والے بیان حلفی کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل میں غیرت کی کہانی بنائی گئی جو حقائق کے خلاف ہے ۔ انہوں نے بیان حلفی میں کہا کہ قندیل قتل کا مقدمہ 15 جولائی 2016ء کو درج ہوا جبکہ غیرت کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 میں ہوئی، غیرت کے قانون 311 میں ترمیم بعد میں ہوئی لہٰذا اس کیس پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ 345 کے تحت ملزمان کو بری کیا جائے۔
لیکن عدالت نے قندیل بلوچ قتل کیس میں قندیل کے والد کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ ماڈل قندیل بلوچ کو 16 جولائی 2016ء کی شب ملتان کے علاقہ مظفر آباد میں قتل کر دیا گیا تھا ۔ معروف سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کو کو ملتان میں ان کے آبائی گھر میں قتل کیا گیا تھا جس کے بعد قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جو تقریباً تین سال تک چلا۔ مقدمہ میں کم و بیش 130 پیشیاں ہوئیں۔ جس کے بعد آج قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں