مجھے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں وہ پوری ہوتی نظر آرہی ہیں،مولانا فضل الرحمن کا آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پرمعنی خیز ردعمل،حیرت انگیز دعویٰ کردیا

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کے مجھے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں وہ پوری ہوتی نظر آرہی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کی رہائش گاہ پر ان کے صاحبزادے رکن سندھ اسمبلی سید فرخ شاہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس پر تبصرہ نہیں ہونا چاہئیے اور یہ عدالت کے احترام کا تقاضہ بھی ہے کہ ہم اس حوالے سے احتیاط سے کام لیں جو باتیں کی جارہی ہیں وہ سب عدالت بھی دیکھ رہی ہے اور بہتر ہوگا کہ حتمی رائے بھی خود عدالت دے ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں غیر منتخب اور جعلی حکمران ہوں جنہیں نہ حق حکمرانی ہو اور نہ طرز حکمرانی آتا ہو تو ملک تنزلی کی طرف جاتا ہے ملک پر اس وقت مہنگائی کا جو ہاتھی سوار کیا گیا ہے اس سے بچنے کا ایک ہی واحد راستہ ہے کہ ملک میں فوری طور پر ازسر نو صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور یہ تمام اپوزیشن کا حتمی مطالبہ بھی ہے جس کے لیے تحریک کا آغاز کیا ہے دو روز قبل اسلام آباد میں ہونے والی اے پی سی میں تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبے کو تقویت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ نیب کے ذریعے سیاستدانوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے ہم اس کو کسی طور احتساب سے تعبیر نہیں کرتے اس طریقے سے ہم کسی غیر منتخب جعلی حکمرانی کو تسلیم نہیں کریں گے خورشید شاہ سے ایک زمانے سے تعلق ہے وہ اس وقت علیل ہیں اور بنیادی بات ہے کہ انہیں بھی سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے میری دعا ہے کہ اللہ جلد حالات میں تبدیلی لائے تاکہ ملک میں معمول کی جمہوری سیاست شروع ہو اور انتقام کی سیاست کا خاتمہ ہو قبل ازیں مولانا فضل الرحمن نے خورشید شاہ کے صاحبزادے فرخ شاہ سے ملاقات کی ملاقات کے دوران فرخ شاہ نے خورشید شاہ کی صحت کے حوالے سے انہیں آگاہ کیا جس پر جے یو آئی سربراہ نے تشویش کا اظہار کیا اس موقع پر جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں