مرد سیکس کے دوران کون سی بڑی غلطیاں کرتے ہیں ؟

بدقسمتی سے سیکس کا لفظ سنتے یا پڑھتے ہی لوگ بے چین سے ہو جاتے ہیں
جیسا کہ گزشتہ مضمون ميں بھی باور کرایا گیا کہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اکثر مردوخواتین کو سیکس کے بارے ميں ابتدائی معلومات یا تو دوستوں سے ملتی ہیں یا پھر سستی کتب و رسائل ، آج کے دور ميں انٹرنیٹ اس کا سب سے بڑا ماخذ ہے ۔ گندی فلموں سے لے کر مباشرت کے عمل بارے معلومات تک آپ کو ہر شے تقریباً دنیا کی ہر بڑی زبان يں عام مل جائے گی ۔ اکثر غیر شادی لڑکے اور لڑکیاں اپنی شہوت پوری کرنے کے لیے لائیو سیکس اور ٹیلی فونک سیکس کا بھی سہارا لیتے ہیں ۔ درحقیقت یہ ایک سمندر سے بھی زیادہ وسیع موضوع ہے جس کا احاطہ کئی مضامین ہی کرسکتے ہیں ۔ یہی وجہ سے کہ ہم نے اردو ٹپس پوائینٹ کے صفحات اس کے لیے مختص کیے ہیں تاکہ مرحلہ وار سیکس موضوعات کا احاطہ کیا جاسکے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے ہاں کسی غیر عورت سے سیکس کا تصور تک نہیں اس لیے ان تمام مضامین کو میاں بیوی کے تعلقات یا ازدواجیات کے زیرعنوان پیش کیا جائے گا ۔ یہ مضمون بھی اپنے گزشتہ مضمون کا تسلسل ہے ، شادی کے بعد مرد کو اپنی بیوی کے جسم کے بارے ميں کیسی غلط فہمیاں ہوتی ہیں اور ذرا سی غلطی عورت کے جسم کو کیسا ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے، یہ سب اس مضمون میں بیان کیا جائے گا ۔
پاکستانی معاشرے کا المیہ
پاکستانی معاشرے کا المیہ ہے کہ میاں بیوی کا سسٹم شروع کرنے سے پہلے ہی بہت سے مرد اور خواتین بھی دافتر اور اسکول کالجز ميں طرح طرح کے سیکس تجربات سے گزرتے ہیں ۔ کہیں کسی کو جنسی ہراسگی کا سامنا ہوتا ہے تو کہیں کوئی کسی کی چکنی چپڑی باتوں ميں آکر یا اس کی شخصیت سے مرعوب ہو کر اپنا جوہر خاص اس کے ہاتھ لٹوا چکی ہوتی ہے ۔ مرد تو بالخصوص شادی کے بعد کسی دوسری عورت کے ساتھ ماضی میں ہوئے تجربے کی بنیاد پر مان کر چلتے ہیں کہ سیکس کے دوران خاتون کو کس بات سے مزہ ملے گا اور اسے کیا کرنا چاہئےیا پھر عوعورت کو کس طرح خودسپردگی کی حالت پر لایا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ؟ مردوں کی یہی سب سے بڑی بھول ہے۔ وہ عورت کے جسم کو تو پا لیتے ہیں لیکن اس کی نفسیات کو سمجھنا بھول جاتے ہیں ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ نناوے فیصد مرد شادی کے فوری بعد کا عرصہ بس اپنی جنسی بھوک مٹانے ميں ہی گزار دیتے ہیں ، انھیں سیکس کا درست طریقہ آتا ہی نہیں ، اور جب وہ تجربہ پا لیتے ہیں تب تک ان کے تین چار بچے ہوچکے ہوتے ہیں اور رات کا اکثر وقت انھیں چپ کروانے اور دودھ پلانے ميں گزر جاتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی پارٹنر کے جسم سے بھرپور مزا اٹھانے اور اس کے جذبات کو سیراب کرنے کے لیے لیے آپ سیکس ٹیکنیک سے خوب اچھی طرح واقف ہوں ۔ آئیے آپ کو اس بارے ميں مزید بتاتے ہیں.
اکثر مرد تو یہ سوچ کر ہی پھولے نہیں سماتے کہ انہیں سیکس کے بارے میں کچھ زیادہ ہی علم ہے۔ یقین جانیے بسا اوقات عورت کو مرد سے زیادہ علم ہوتا ہے ، وہ اسے بتا سکتی ہے کہ کس حصے پر ہاتھ لگانے سے اسے زیادہ مزا آتا ہے لیکن وہ شرم و حیا کے باعث بتا نہیں پاتی چہ جائیکہ مرد اسی کے کردار پر شک نہ کرنے لگ جائے ۔
خواتین کی جسمانی ساخت کے بارے ميں غلط فہمیاں
زیادہ ترمرد یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انھیں پتا ہے کہ اندام نہانی ميں انگلی ڈال کر جی اسپاٹ کو چھونے سے وہ عورت کو جلدی سیکس کے لیے تیار کر سکتے ہیں اس لیے وہ سیکس ميں ماہر بھی ہیں ۔ یا د رکھیے عورت کے جسم میں ’جی سپاٹ‘ یعنی وہ حصہ جو عرف عام میں شہوانی جذبات ابھارنے کا باعث بنتا ہے،اس کے مقام کا وجود یا تعین محض وہم یا خام خیالی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات تو مرد اس پوشیدہ حصہ کی کھوج ميں عورت کو اندر سے کھرچ کھرچ کر زخمی بھی کر دیتے ہیں ۔ اس وقت تو شاید عورت کو لطف و انبساط کی کیفیات میں درد کا احساس نہ ہو لیکن بعدازاں یہ اس کے لیے سنگین جنسی پیچیدگی کا موجب بن سکتا ہے ، لہٰذا احتیاط کیجیے ۔ اندام نہانی ایک حساس مقام ہے ، یہاں کچھ ہی اوپر پیشاب کے انخلا کا سوراخ بھی ہے ۔ آپ کی ذرا سی بے احتیاطی یا جنسی عجلت آپ کی پارٹنز کو زندگی بھر کا روگ لگا سکتی ہے ۔
عورت کی چھاتیاں
سینے کے ابھار بھی ایسا ہی مقام ہیں جن کے بارے ميں مرد حضرات نے شدید غلط فہمیاں پال رکھی ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ موٹے اور بڑے ابھار عورت کے سیکسی ہونے سے زیادہ اس کے کردار ميں ہلکا ہونے کی دلیل ہیں ۔ خال خال ہی کسی کنواری عورت کے سینے کے ابھار بڑے بڑے ہوں گے ، لیکن بیشتر یہ تب ابھرتے ہیں جب ان ميں یا تو دودھ بھرا ہو یا چبد روز پیشتر کسی مرد نے سیکس کے دوران ان کو چوما چاٹا یا دبایا ہو ۔ کنوری اور بالکل فٹ لڑکیوں کے ابھار نارمل ہوتے ہیں اور ٹین ایج ميں تو ان کو گیند کی طرح ہونا چاہیے ، نوک کے بغیر ۔ یاد رکھیے ایک غیر شادی عورت کے نپلز اسی وقت ابھرتے اور نوکیلے ہوتے ہیں جب وہ صحبت کے لیے تیار ہو چکی ہو یا اس کے جذبات ابھرے ہوئے ہوں ۔ جب ایک عورت لگاتار اس تیاری کے عمل سے گزرتی ہے تو اس کے نپل مستقل طور پر پر باپر کو نکل آتے ہیں اور ان کی رنگت بھی بدل جاتی ہے ۔ شادی کے بعد ہر مرد ہی یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ نپلز کو نوچتا ، بھنبھوڑتا اور ابھار دباتا ہے ، ظاہرہے اس سے دونوں کو مزا تو آتا ہے لیکن ساتھ ہی عورت کی چھاتیاں اپنی ظاہری جاذبیت بھی کھو دیتی ہیں ۔ ان میں موجود گلینڈز اگر گلٹی کی شکل اختیار کر لیں تو یہ مکمل طور پر سخت پتھر جیسے ابھار ميں بدل جاتے ہیں ۔ اگر ان گلٹیوں کو نکلوا دیں تو چھاتی اپنا وجود کھو دیتی ہے ، ورنہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے بریسٹ کینسر کے آشتہار دیکھ دیکھ کر عورت خود کو اسی کا مریض تصور کر لیتی ہے ۔ یوں یہ ایک مفسیاتی پے چیدگی بن جاتی ہے ۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنی پارٹنر کے جسم کے اس حصے کو نرمی سے دبائیں ، لو بائیٹس سے پرہیز کریں ، نپلز کو چوستے ہوئے زیادہ زور سے نہ کھینچیں کہ کون ہی رسنے لگے وغیرہ وغیرہ۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان نپلز کی نوک انتہائی حساس ہوتی ہے ، مرد کا اسے اپنی زبان کی نوک سے ٹچ کرنا ہی کافی رہتا ہے ۔ اس کے بعد نپلز کے گرد بنے برائون یا سیاہ دائروں کی باری آتی ہے ، ان پر ہلکے ہلکے دانے سے بنے ہوتے ہیں ۔ ان دانوں پر زبان پھیرنے سے عورت بعض اوقات اس قدر جلد منزل ہو جاتی ہے کہ دل ہی دل ميں اپنے مرد کو دعائیں دینے لگتی ہے ۔ لہٰذا جسم کے ان حصوں پر ترس کھائیے ، عورت آپکی ہے ، آپ نے ہی اسے بعد ميں بھی جنسی آسودگی کے لیے استعمال کرنا ہے ، اس لیے ایسا برتائو کیجیے کہ وہ تادیر قابل استعمال حالت میں رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں