مریم نواز کی اپنی ہی پارٹی کو سنگین دھمکی،

اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین 15 جنوری 2020) :مریم نواز کی اپنی ہی پارٹی کو سنگین دھمکی، مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ یہ کہا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں مجھے بھی ملک سے باہرنکال لیا جائیگا، سب لندن میں لطف اندوز ہورہے ہیں اور مجھے زباں بند کیا گیا ہے، اگر مجھے باہر نہ بھیجا گیا تو اپنی زبان کھول دونگی۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہےکہ پاکستان مسلم لیک ن کی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیر خارجہ کو ٹیلیفون کیا جس میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے پر مجھ سے نہیں پوچھا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ اتنی بھی کیا جلدی تھی کہ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں سے مشاورت بھی اس کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جو موجودہ صورتحال ہے، میں آپ سے سینئر کارکن ہوں اورآپسے مشورہ کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ سینئر صحافی نے بتایا کہ خواجہ آصف کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے پر حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ لندن سے آیا تھا۔اسکے بعد مریم نوازنے لندن میں یہ فون کیا جس پر مریم نواز کی انکی بڑوں نے سرزنش کی اور کہا کہ جو بڑوں کا فیصلہ ہے اس سے تسلیم کیا جائے۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ یہ کہا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں مجھے بھی ملک سے نکال کیا جائیگا، سب لندن میں لطف اندوز ہورہے ہیں اور مجھے زباں بند کیا گیا ہے، اگر مجھے باہر نہ بھیجا گیا تو اپنی زبان کھول دونگی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی تھی۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کی مریم نواز کی درخواست پر لاہور ہائیکور ٹ نے حکومت سے 7 دن میں جواب طلب کر لیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت بتائے کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلے میں تاخیر کیوں کی گئی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔درخواست پر سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی گئی تھی۔ مریم نواز کے وکلاء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مریم نواز کے والد بیرون ملک زیر علاج ہیں ۔ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے سات دن دیئے گئے تھے تاہم چار ہفتوں کے بعد بھی وفاقی کابینہ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے متعلق فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اب حکومت کا خط ملا تھا جس میں انہوں نے نام ای سی ایل سے نکالنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت 21جنوری تک ملتوی کردی تھی ۔ واضح رہے وفاقی حکومت کی جانب سے رہنمامسلم لیگ ن و سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم اور رانا ثنا ء اللہ کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔ نجی ٹی وی پر جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ رہنمامسلم لیگ ن کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ رہنما مسلم لیگ ن جاوید لطیف اور وقار احمد کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کئے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں