ملک ریاض عام سے ٹھیکدار سے ترقی کی بلندیوں تک کیسے پہنچے ،ان کی کامیابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ پہلی بار حقیقت عوام کے سامنے آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’سو فیصد کامیابی کا واحد نسخہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ملک ریاض ٹھیکیدار تھے تو یہ پہلے اپنے منافع کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے اور پھر اپنا حصہ گھر لے کر جاتے تھے‘ یہ آج بھی ہر سال 68 کروڑ روپے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ملک میں 110 دستر خوان چل رہے ہیں‘ یہ ان دستر خوانوں میں ایک لاکھ لوگوں کو روزانہ کھانا دیتے ہیں‘ ملک میں ریاست کے دستر خوان بند ہو گئے لیکن ان کے دستر خوان 12 سال سے چل رہےہیں‘ یہ درجنوں چیریٹی ہسپتال چلا رہے ہیں‘ سینکڑوں میٹھے پانی کے کنویں ہیں‘ ہزاروں طالب علموں کی فیسیں ہیں‘ یہ روز دو خاندانوں کو مفت گھر دیتے ہیں اور ملک میں سب سے زیادہ کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ بھی اس شخص نے کرائے‘ اللہ کے ساتھ یہ شراکت داری ہے جس نے آج تک ان کا کاروبار بند ہونے دیا اور نہ ان کی گروتھ رکی‘ یہ آج بھی کہتے ہیں سپریم کورٹ نے مجھے 470 ارب روپے جرمانہ کیا‘ میں یہ بھی ادا کر دوں گا کیوں کہ اس میں بھی اللہ حصے دار ہے‘ اللہ یہ بھی پورا کر دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں