مچھر کالونی پاکستان کا وہ علاقہ جہاں تعلیم سرے سے ہی موجود نہیں ہے. حکومت سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے

خصوصی رپورٹ
میرری اعوان کراچی
آج آپکو ایک ایسے علاقے کے لوگوں کی کچھ کہانیاں بتاتے ہیں جو کراچی کے ایک بڑے شہر کے اندر واقع ہےمچھر کالونی کراچی کے اندر موجود کیماڑی ٹاون کے قریب ایک کچی پسماندہ آبادی ہے جو کہ محمدی سوسائٹی اور مچھر کالونی کے نام سے جانی جاتی ہے مچھیرے الفاظ سے ہی اسکا نام مچھر کالونی پڑا تھا کیونکہ یہ ماہی گیروں کی آبادی کہلائی جاتی ہے 1960 ،سے ہی یہاں پر بنگالی برمی اور پختون آباد ہیں دس لاکھ کی اس بستی میں بنگالیوں کی تعداد کثرت سے پائی جاتی ہےیہاں پر موجود لوگوں کے لیے اپنی زندگی دوسرے لوگوں کے مقابل گزرنا کافی مشکل ہے جوں جوں گندا نالہ خشک ہوتا گیا وہاں لوگ آباد ہوتے گئے .گندے نالے کے اوپر موجود یہ بستی جو کہ لاوارث کہلائی جاتی ہے ۔کیونکہ یہاں پر موجود لوگوں کے لیےنہ ہی روزگار کے کوئی مواقع موجود ہوتے نہ کہ صحت نہ ہی تعلیم نہ کوئی اسپتال جہاں پر بے روزگاری کا سوال آتا ہے تو انکے لیے سب سے بڑا الیمہ تو یہ ہےماہی گیروں کی اس بستی میں موجود آباد اج تک اپنی شنا خت سے ہی محروم ہیں حکومت کی طرف سے انکو پاکستانی تسلیم نہی کیا جاتا انکو نادرا سے شناختی کارڈ نہی بنا کر دئیے جاتے کہی لوگ تو بیس بیس سال سے اس کے لیے کوشش کر رہے اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی بنا پر انکے آنے والی نسلوں کو بھی بہت دھکے کھانے پڑھتے انکے بچوں جے ب فارم نہی بنتے برتھ سرٹیفئکیٹ نہ ہونے کیوجہ سے انکو اسکول میں داخلہ نہی ملتا حکومت کی اس ایک غفلت سے وہ اپنی ساری زندگی محرومیوں میں گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
پھر مجبورا”یہ لوگ ماہی گیری کا کام ہی کرتے ہیں اس کالونی میں موجود کہی لوگوں نے چھوٹے چھوٹے کارخانے قائم کیے ہوئے جو کہ انکا ذریعہ معاش ہے کچھ گھرانے تو غربت کے تلے اپنی زندگی روند رہے ہوتے
انکو معلوم ہوتا ہے نہ ہی انکو کوئی شناخت ملنی نہ ہی روزگار تو انکے بچے بھی اپنے بڑوں کیطرح اپنی زندگی ان محرومیوں کیساتھ گزار دیتے انکے کم عمر بچے اور بچیاں اپنے بنیادی تعلیم کے وقت کو محنت مشقت میں وقف کر دیتے انکی تعلیم حاصل کرنے کی عمر ان کارخانوں کی نظر ہو جاتی جہاں اس مہنگائی کے دور میں انکو بارہ کلو کی ایک بالٹی جہنگوں کی صفائی ستھرائی چالیس روپئیے مقرر کر کے ادا کی جاتی تعلیم یہاں سرے سے ہی موجود نہی ہے بہ مشکل ہی کوئی شخص میڑک پاس ملے گا
نہ ہی اس بستی میں موجود کوئی ایسا ادارہ ہے نہ کوئی سرکار کی طرف سے مدد جو اس لاوارث بستی میں آباد مکینوں کے لیے کام کریں یا ان لوگوں جو ایک جگہ مجمعے کی شکل میں جمع کر کے انکی آگاہی کے لیے ورک شاپ کروائی جائے.
یہاں پر جیسے ہی لڑکا یا لڑکی کی عمر بارہ سال سے اوپر کی ہوتی تو انکی شادی کروا دی جاتی ارلی چائلڈ میرج کی روک تھام کے لیے کام۔ کیا جائے اسکول قائم کیے جائیں یہاں پر آباد بچوں کو مختلف کھیلوں کیطرف لے کر جایا جائے تاکہ انکی سماجی حیثیت اور صلاحیتں بڑھیں عورتوں کو منصوبہ بندی کی پلاننگ بتائے جائیں عورتیں بھی غربت اور اپنے خاندان کے لیے مرد کے شانہ بشانہ مزدوری کرتی انکا آدھا وقت کارخانوں کی نظر ہو جاتا حکومت کو چاھیے کہ ان مکینوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے
ںوٹ. میرری اعوان معروف سوشل ایکٹوسٹ، بلاگر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں