نازیبا ویڈیوز اپلوڈ کرنے میں پاکستان کا دوسرا نمبر گزشتہ سال کے آخری تین ماہ میں پاکستانیوں نے 5 لاکھ ویڈیوز اپلوڈ کیں،نمائندہ فیس بک سحر عطاری

انٹرنیٹ معلومات حاصل کرنے کا جدید ذریعہ ہے۔دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا شخص کسی بھی چیز سے متعلق معلوما ت بہت آسانی سے حاصل کر لیتا ہے۔یہی وجہ سے ہے کہ دنیا کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے۔کچھ دن قبل فیس بک کی ایشیاء کی ٹیم کی پاکستانی پارلیمانی ٹاسک فورس سے ملاقات ہوئی جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں نازیبا ویڈیوز کی اپلوڈنگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ گزشہ سال کے آخری تین مہینوں میں پاکستان سے 5 لاکھ ویڈیوز اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے بعد پاکستان کادنیا بھر میں دوسرا نمبر تھا۔ نمائند ہ فیس بک سحر عطاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پارلیمانی ارکان کو بچوں اور خواتین پر تشدد اور زیادتی کے معاملات کی روک تھام کے لئے کام کرنا چاہیئے کیونکہ اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے ہی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آتی ہیں۔ پاکستان میں زیادتی اور تشدد کے قوانین پر عمل کرنے کی بہت ضرورت ہے، ان قوانین پر عمل نہیں کیا جا رہا، یہی وجہ ہے کہ 90 دنوں میں 5لاکھ ویڈیوز اپلوڈ ہوئیں ہیں جس کے بعد پاکستان کا نازیبا ویڈیوز اپلوڈ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دوسرا نمبر تھا۔پاکستان میں ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں بچوں یا خواتین سے زیادتی کے بعد ان کی نازیبا ویڈیوز بنا کر سوشل انہیں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے مشیر اور چارٹر اکاونٹنٹ کا گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کر کے ان کی ویڈیوز اپلوڈ کی ہیں۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہی فیس بک ایشاء کی نمائندہ سحر عطاری نے پاکستانی پارلیمانی ارکان سے ملاقات میں بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں نازیبا ویڈیوز کی اپلوڈنگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ گزشہ سال کے آخری تین مہینوں میں پاکستان سے 5 لاکھ ویڈیوز اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے بعد پاکستان کادنیا بھر میں دوسرا نمبر تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں