وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غیر ملکی جریدے الجزیرہ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ٹام حسین نے خبردار کیا ہے کہ آنیوالے ہفتوں میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے

انہوں نے لکھا ہے کہ جب پاکستان میں اموات بڑھیں گی تو ہمسائیہ ملک چین اور ایران میں پھیلنے والی وباء پر قابو پانے میں ناکامی کاالزام عمران خان اور اس کی حکومت پر عائد ہو گا۔

کورونا وباء کو کنٹرول کرنے کے لیے فیصلہ کن انداز میں فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ کی قیمت عمران خان کو بھگتنا پڑسکتی ہے۔

ابتدا ء میں اس بڑھتے بحران کا درست انداز میں جواب دینے میں سستی کا مظاہرہ کیا گیا، 17 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی ہوئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ حکومت جنوری سے اس وباء کو مانیٹر کر رہی تھی لیکن 12 مارچ کو پہلے کورونا کیس کے منظر عام پر آنے تک حکومتی سطح پر کوئی ایمرجنسی مشاورت نہیں کی گئی۔ خاص طور پر اپوزیشن کے زیر کنٹرول سندھ کی صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص کی جس سے ایران سے آنیوالے ہزاروں زائرین کی مناسب طریقے سے اسکریننگ اور قرنطینہ نہ کرنے کی وفاقی حکومت کی ناکامی کا انکشاف ہوا۔

اگر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ صوبائی دارالحکومت کراچی میں کورونا کے پہلے کیس کی تشخیص کے بعد ایرانی زائرین کی تلاش میں پہل نہ کرتے تو ایک کروڑ 80 اسی لاکھ آبادی کا شہر کراچی، چین کا شہر ووہان ثابت ہو سکتا تھا۔ اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی صحت سے متعلقہ حکام کو متاثرہ زائرین کے حوالے سے الرٹ نہیں کیا گیا۔

جب عمران خان نے اس موضوع پر خطاب کیا تو وہ مضحکہ خیز حد تک تقدیر پرست نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کا پھیلاؤ ناگزیر تھا لیکن خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ بیماری ہلکے سے فلو کی طرح محسوس ہوتی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے وباء کو روکنے کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے آپشن کو بھی رد کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غریب افراد کی روزی کا ذریعہ روزانہ آمدنی ہے، لاک ڈاؤن کی صورت میں وہ بھوکے رہ جائیں گے۔

وزیراعظم کی اس بات نے ملک کو کورونا وباء سے بچنے کے لیے واضح سمت اپنانے کے احساس سے محروم کر دیا۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مختلف لائحہ عمل اپنانے لگیں۔

سندھ حکومت نے فوری طور پر شٹ ڈاؤن کا فیصلہ کیا تاہم دوسری صوبائی حکومتوں نے اسکولوں کی بندش اور دکانوں کے اوقات کار کم کرنے جیسے اقدامات اٹھائے۔ اس سنگین صورتحال میں ملکی سطح پر اسپتالوں کو وباء کی تیاری اور طبی عملہ کے لیے حفاظتی سامان کی فراہمی جیسی کوششیں دکھائی نہیں دیں۔ حتیٰ کہ حکام کی جانب سے اس وباء کیلئے عوامی آگاہی مہم بھی شروع نہ کی گئی۔

اب ان حالات میں پاکستان کی طاقتور ملٹری کے پاس عوامی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں رہا تھا۔

23مارچ، یوم پاکستان پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے صوبائی حکام کی مدد کے مطالبے کے جواب میں ملک بھر میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کر دیا۔

یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ پاکستان ملٹری اپنا صبر کھو بیٹھی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت ذمہ دارانہ قیادت کا کردار نبھانے سے انکار کر دیا جب ملک کو سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت تھی۔

24مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں کئی ٹی وی اینکرز نے وزیر اعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ فوج کی مدد قبول کرنے کے بجائے، جس نے انہیں 2018ء میں اقتدار دلانے میں مدد کی، عمران خان نے تنقید کا جواب سختی سے دیا۔

25مارچ کو پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کی ویڈیو کانفرنس کے دوران، وزیر اعظم عمران خان نے سندھ حکومت کے صوبہ میں شٹ ڈاؤن کے نفاذ کی مخالفت کی۔ نتیجتاً قیادت کے خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی رہنماؤں نے جمعہ اور دیگر مذہبی اجتماع منسوخ کرنے سے انکار کر دیا، اس بات نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر وباء پھیلنے کی راہ پر گامزن کر دیا۔

31مارچ کو عمران خان دوبارہ میڈیا کے ذریعے عوام سے مخاطب ہوئے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں زیادہ نوجوان آبادی ہے جس کی وجہ سے یہاں کورونا وباء کے اثرات دوسرے ممالک کی نسبت مختلف ہوں گے۔ اس موقع پر بھی انہوں نے ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ پر سوالات اٹھا دیے۔

اس صورت حال میں فوج کا پیمانہ لبریزہوچکا تھا،یکم اپریل کو وفاقی اور صوبائی رہنماؤں کی ایک اور ویڈیو کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ عمومی طور پر ڈریس یونیفارم میں مطمئن چہرے کے بجائے تھکاوٹ کا شکار نظر آئے۔ اس اجلاس کی جاری کی گئی سرکاری ویڈیو میں آرمی چیف چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار لیے کابینہ کی جانب دیکھتے نظر آئے۔

اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے بجائے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عوامی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کا اطلاق اب 14 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔ جب کہ فوج کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل حمود خان کورونا وباء کے حوالے سے قائم کیے گئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے انچارج ہوں گے۔

کورونا وباء پر قابو پانے کے بعد طاقتور فوج کی مداخلت، خان انتظامیہ کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت کی ناقص گورننس،خاص طور پر معاشی معاملات کو خراب کرنے سے تنگ آ کر فوج نے گزشتہ موسم خزاں میں اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کیے۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر جیل سے رہائی کے بعد مختلف جماعتوں کے سیاستدانوں کے درمیان ہونیوالی بات چیت کہ وزیر اعظم عمران خان کو کس طرح ہٹایا جاسکتا ہے پر عوامی گفتگو کا تیزی سے آغاز ہوا ہے۔

اس وقت سے میڈیا میں عمران خان حکومت کی مدت کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ایران سے کورونا وباء کے پھیلاؤ کی وجہ سے نامور تجزیہ کار وں نے یہ محسوس کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ عمران خان حکومت کو گورننس کی بہتری کے لیے وقت دینے پر تیار تھے۔

یہ نظریہ اس وقت واضح طور پر تبدیل ہو چکا ہے جب فوج نے خان کی نااہلی کی وجہ سے کورونا وباء سے متعلق قائم کنٹرول سنٹر کا چارج سنبھالا ہے۔ حکومتوں کے خاتمے کی تاریخ دینے میں مشہور،اردو کالم نگار سہیل وڑائچ نے لکھا ہے کہ عمران خان کے پاس جون تک وقت ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ صلاحیتوں کو بہتر کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ معاملات سنبھالنے میں ناکام رہے تو اس کے نتیجہ میں پر تشدد سیاسی تبدیلی آسکتی ہے۔

اس پیغام کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ فوج اب عمران خان کی کوتاہیوں کا ذمہ اپنے سر لینے کو تیار نہیں، اس وقت جبکہ پاکستان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، وبا اور ان کا سیاسی کیرئیر آپس میں جڑ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں