وہ اپنے ماتھے پہ جب بھی لکیر کھینچتا ہے ادا شناس بتاتے ہیں تیر کھینچتا ہے .

شاعر توقیر احمد
وہ اپنے ماتھے پہ جب بھی لکیر کھینچتا ہے
ادا شناس بتاتے ہیں تیر کھینچتا ہے
یہ بائیں سمت کی دھک دھک سے لگ رہا ہے مجھے،
دلِ گرفتہ کی بیڑی اسیر کھینچتا ہے!
کوئی نہ کوئی صحیفہ سبھی کو کھینچے مگر،
ہمیں شروع سے دیوان ِمیر کھینچتا ہے
اے دنیا اس پہ تو مت ہنس! کہ تیرا سود و زیاں ،
بڑے خلوص سے اک بے ضمیر کھینچتا ہے
میں دیکھتا ہوں کہ اپنی ہر اک صدا کے ساتھ،
عجب طرح کی مشقّت فقیر کھینچتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں