ٹھرکی بابوں کا دل تو بچہ ہے جی

ڈاکٹر فرزانہ کوکب
عشق واقعی بری بلا ہے۔صرف نکما ہی نہیں کرتا بلکہ اندھا اور اگر پکڑے جانے کے ڈر سے محبوبہ کے کمرے سے چھلانگ لگانی پڑ جائے تو لولا لنگڑا بھی کر دیتا ہے۔لیکن پھر بھی عشق ہے کہ زورا زوری چمٹ ہی جاتا ہے وہ بھی آسیب کی طرح۔اب مرزا غالب نے یونہی تو یہ کہتے ہوئے ہار نہیں مانی تھی کہ
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
اور پھر پکی عمر کا عشق تو ویسے بھی کہتے ہیں” دو آتشہ “ہو جاتا ہے۔اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چراغ بجھنے سے پہلے پورے زور سےبھڑکتا ہے۔اور یہ قضیہ بھی اپنی جگہ کہ اس سارے تماشے کو عشق کہا بھی جا سکتا ہے یا نہیں ۔ لیکن بھئ بہت سے پکی بلکہ بڑی عمر کے مردوں اور خاص طور پر عمر رسیدہ سیاستدانوں کے اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں سے عشق اور شادیوں کے قصے آئے دن سننے،پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔کہیں “ساٹھے “سٹھیا جاتے ہیں اور کہیں “سترا “بترا جاتے ہیں ۔اسی(80) سال والے بھی امید لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ شاید کوئی بچی ہنسے تو پھنسے”.ویسے مثل ایسے ہی مشہور نہیں کہ”چھٹتی نہیں ہے مونہہ سے یہ کافر لگی ہوئی”.عشق کا جادو اور عورت کا نشہ بھی تو بقول کسے سر چڑھ کے بولتا ہے۔اب ہوش و خرد سے بھی ہاتھ دھوئے بغیر چارا نہیں۔تبھی تو نہ عزت کی پروا نہ عہدے کی۔دولت تو ویسے بھی ایسے معاملات میں ہاتھ کا میل ٹھہری۔بلکہ صورت حال کچھ یوں ہوتی ہے
“جو بچا تھا،وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں”ایسے میں جگ ہنسائی کی پروا بھی کون اورکیوں کرے۔کم سن خوب رو محبوبہ کا حصول تو بڑھتی عمر کا اولین مقصد رہ جاتا ہے۔کہ بقول شاعر”اور کیا دیکھنے کو باقی ہے”لیکن جناب آج کے دور کی لڑکیاں بھی تو کم سنی میں ہی بہت ہوشیار ہو جاتی ہیں۔بعض تودولت مند اور اونچےعہدے والے بابوں کی نام نہاد محبوبائیں بن کر ان کی دولت اور عہدے کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتی ہیں اور اپنے ہم عمر عاشقوں بلکہ محبوبوں کو بھی ان سارے فائدوں میں برابر کا شریک کرتی ہیں اور انہیں بھی خوب مزے کراتی ہیں۔ایسے تو نہیں کہتے نا”ہان نوں ہان پیارا ہوندا اے”.ایک ٹین ایج بچی نے ابھی کچھ دن پہلے ہی مذاق اڑانے کے انداز میں ہنستے ہوئے بتایا کہ” ہم کہیں بھی جائیں لڑکے ہم لڑکیوں کو اتنا نہیں دیکھتے جتنا یہ بڈھے انکل ہمیں گھورتے ہیں۔یہ بابے تو بہت ہی “ٹھرکی” ہوتے ہیں۔اب ٹھرکی بابوں کا بھی کیا زور کہ ان کا”دل تو بچہ ہے جی”۔تو محبوبہ پھر بچی ہی ہوگی نا۔
پھر یہ بابےکچھ طبی حوالوں سے بھی اپنی ضرورت اور مجبوری کو کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ کہا جاتا کہ ہر عورت ایک خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل جیسی ہے اور مردوں کو بالعموم”فروٹ چاٹ”ہی پسند ہوتی ہے۔اب بڑھاپے میں تو پھلوں کے ضرورت اور بڑھ جاتی ہے صحت اور طاقت کی بحالی کے لئے۔حالانکہ ان کا یہ کہنا ہے
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کےاس سفرنےتومجھکونڈھال کردیا
اب ان بڑھاپے کی دہلیز کو چھوتے “ٹھرکی بابوں”کو کون سمجھائے کہ بزرگو پھل سبزیاں بھی توآج کے دور میں خالص نہیں رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں