پاکستان مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تاریخی تقریر تیار کرنے والے نوجوان ذوالقرنین چھینہ نے چند روز قبل اردو پوائنٹ سے خصوصی گفتگو میں پاکستانی کوششوں سے متعلق بتایا

وزیراعظم عمران خان نے کل اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کی جس نے پاکستان سمیت دنیا پر سحر طاری کر دیا۔وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر پر تفصیلی گفتگو کی اور مودی کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا۔عمران خان پاکستان سے جو تقریر لے کر گئے اسے وہاں پاکستانی مشن میں موجود ایک ہونہار نوجوان ذوالقرنین نے ترمیم کر کے دوبارہ تیار کیا۔ذوالقرنین نے نہ صرف پاکستان کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو بھی تقریریں لکھ کر دیتے ہیں۔ ذوالقرنین چھینہ نے چند روز قبل خصوصی گفتگو میں مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ہٹانے سے متعلق پاکستان کی کوششوں سے متعلق بتایا تھا کہ سلامتی کونسل نے 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر اجلاس بلایا،ذوالقرنین چھینہ نے کہا کہ بھارت بہت عرصے سے یہ کہتا آ رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تاہم سلامتی کونسل کا اجلاس اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ بھارت کا اندورنی معاملہ نہیں ہے۔کشمیر بین الاقوامی طور پر منطور شدہ متازع مسئلہ ہے اور اس کے اندر بہت سارے فریق ہیں۔اور اس اجلاس سے کچھ دن قبل اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسمئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی قراراداروں سے متعلق حل ہونا چاہئیے۔یہاں پاکستان نے یہ بات اٹھائی کہ کشمیر کا مسئلہ دراصل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔اور پاکستان نے بھی سلامتی کونسل کے سامنے یہی کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ وہاں کی عوام کی خواہش کے مطابق حل ہونا چاہئیے۔پاکستان نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بلانے کے لیے تمام رکن ممالک کی حمایت لازمی ہوتی ہے اور یہ اجلاس 15ممالک کی حمایت کے بعد ہی بلایا گیا جو کہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ذوالقرنین چھینہ نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر پاکستانی دفتر خارجہ نے بہت محنت کی جب کہ وزیراعظم عمران خان نے کئی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کی جب کہ پارلیمنٹ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔اور وزیراعظم کی ان تمام کوششوں کے بعددنیا پر مسئلہ کشمیر اجاگر کیا۔گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے تمام 22 اضلاع سے کرفیو ہٹا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں