پاکستان میں بغیر سفارش اور رشوت کے بھی افسر سے صرف ایک قدم پیچھے کی سرکاری نوکری چھ ماہ سے ایک سال کی محنت کے بعد حاصل کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں بغیر سفارش اور رشوت کے بھی افسر سے صرف ایک قدم پیچھے کی سرکاری نوکری چھ ماہ سے ایک سال کی محنت کے بعد حاصل کی جا سکتی ہے۔
جی پاکستان میں شائد یہ واحد ایسی نوکری ہے جس کی بھرتی بعد از انٹرمیڈیٹ گریڈ 14 میں اور گریجویشن کے بعد گریڈ 16 سے شروع ہوتی ہے۔
یہ نوکری حاصل کرنے کے بعد سے ہی نوکر کو افسر کے بعد افسر کہا جانے لگتا ہے مگر کچھ سالوں کے بعد گریڈ بڑھ کر 17 ہوجاتا ہے اور عہدہ بڑھ کر کبھی پرسنل اسسٹنٹ تو کبھی سپرٹنڈنٹ کا کہلاتا ہے۔
تنخواہ تو ویسے بھی بھرتی ہوتے وقت ہی باقی اسٹاف کے مقابلہ زیادہ ہوتی ہے نوکری کے دس بارہ سال کے بعد تو تنخواہ ڈیڑھ لاکھ ماہانہ کے قریب پہنچ جاتی ہے، اور اگر ادارہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ جیسا ہو تو تنخواہ شروع ہی ایک لاکھ سے ہوتی ہے۔۔۔

اس نوکری سے میری مراد اسٹینو گرافر ہے، یعنی وہ شخص جو تیزی سے بولے جانے والے جملوں کو علامات کی زبان میں تحریری شکل میں لے آتا ہے۔
اور پھر
علامتوں سے لکھی جانے والی اس تحریر کو دوبارہ سے بولی جانے والی زبان میں خوبصورت تحریری شکل میں پیش کرتا ہے۔۔۔

اس فن کو اسٹینو گرافی کہتے ہیں۔
علامات کی یہ زبان شارٹ ہینڈ کہلاتی ہے، جن دنوں ٹیپ ریکارڈر ایجاد نہیں ہوٸے تھے اس وقت شارٹ ہینڈ میں تقاریر کو تحریر کرکے محفوظ کرلیا جاتا تھا رفتہ رفتہ اس زبان نے ترقی کی اور پھر یہ دفاتر میں استعمال کی جانے لگی۔
ایک جج فیصلہ بولتا جاتا ہے۔ اسے تحریر کرنے والا اسٹینو گرافر ہوتا ہے جج اس فیصلہ کو پڑھ کر صرف دستخط کرتا ہے۔
آپ کے سامنے جتنے بھی فیصلے لکھے آتے ہیں وہ سب کسی اسٹینو گرافر کے تحریر کردہ ہوتے ہیں جج صرف فیصلہ بول کر یا کسی اہم فیصلہ کو رف لکھ کر اسٹینو کو دے دیتا ہے۔۔
ایسے ہی تمام سرکاری کاغذات یا نوٹی فیکیشنز جو روز آپ کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہیں وہ تحریر کرنے والا کوئی نہ کوئی اسٹینو گرافر ہی ہوتا ہے۔

بعض اوقات اسٹینو گرافر کی غلطی اور بغیر پڑھے افسر کا دستخط کردینا سی ایس ایس افسروں کی انگریزی پر سوالیہ نشان اٹھا دیتا ہے۔۔۔
شارٹ ہینڈ کی ایک شکل جسے سر آئزک پٹمن نے ایجاد کیا پاکستان سمیت دنیاں بھر میں مستعمل ہے۔
میرے وہ دوست جو اس وقت میٹرک کر رہے ہیں اور میٹرک کے بعد سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو میرا مشورہ ہے کہ وہ میٹرک میں انگریزی زبان پر بھرپور توجہ دیں میٹرک کے بعد سواٸے ایف اے کے اور کچھ نہ کریں۔
ایف اے میں انگریزی گرائمر، رموز و اوقاف، املا، وغیرہ پر بھرپور توجہ دیں اور ساتھ ساتھ کسی استاد سے شارٹ ہینڈ سیکھنا شروع کردیں ایف اے کے دو سالوں میں اگر آپ نے بلا ناغہ روزانہ دو گھنٹے شارٹ ہینڈ کی مشق کرلی تو آپ بی اے میں داخلہ لینے سے پہلے سرکاری نوکری حاصل کرلیں گے۔۔۔
شارٹ ہینڈ مسلسل مشق کا دوسرا نام ہے جس دن مشق رکی سمجھ لیجیے اس دن سے آپ کی اسپیڈ گھٹنا شروع۔
شارٹ ہینڈ اسپیڈ سے مراد فی منٹ لکھے جانے والے الفاظ ہیں تیز ترین شارٹ ہینڈ کی رفتار 120 ڈبلیو پی ایم ہوتی ہے یعنی ساٹھ سیکنڈ میں ایک سو بیس الفاظ کو لکھنا: عمومًا اتنی اسپیڈ کی مانگ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے لیے مانگی جاتی ہے عام اداروں یا عدالتوں میں 60 سے 80 لفظ فی منٹ کی مانگ کی جاتی ہے۔۔
اسٹینو گرافر کی کرسی ہر ادارہ میں خالی رہتی ہے کیونکہ عام لوگ شارٹ ہینڈ سے ڈرتے ہیں یقین جانیں یہ صرف ڈر ہے میں حادثاتی طور پر ڈی کام میں شارٹ ہینڈ کا مضمون دو سال پڑھ چکا ہوں سیکنڈ ایئر میں 100 کی رفتار تک لکھنا سیکھ گیا تھا اور پہلے سال ہی 100 میں سے 97 نمبر حاصل کر لیے تھے۔
اگر مجھ جیسا نالائق یہ کر سکتا ہے تو پھر آپ کیوں نہیں ؟
شارٹ ہینڈ کی اسپیڈ کے ساتھ 40 لفظ فی منٹ کمپیوٹر پر ٹائپنگ اسپیڈ بھی مانگی جاتی ہے، جو شخص چالیس کی رفتار سے ٹائپنگ سیکھ جاتا ہے اس کے لیئے کلرک کی نوکری حاصل کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے کیونکہ کلرک کی نوکری کے لیے عموماً پچیس سے پینتیس الفاظ فی منٹ رفتار کی مانگ کی جاتی ہے۔۔

وہ دوست جو اس وقت شارٹ ہینڈ کر رہے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ دل لگا کر محنت کریں اگر وہ “نیو کورس” اور “سیون ہنڈرڈ” کی مشقیں کر چکے ہیں تو بجاٸے “پی ایل ڈی” کرنے کے اخبار “دی نیشن” یا “دی نیوز” سے مشق شروع کردیں ان دونوں اخباروں کی انگریزی آسان ہوتی ہے اس کے بعد ڈان سے مشق کریں۔
عموماً طلبہ ڈان سے مشق نہیں کرتے اور بعد ازاں مشکل اٹھاتے ہیں ڈان سے مشق کرنا لازمی ہے کیونکہ افسران مقابلہ کے امتحان کی تیاری کے دوران ڈان کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے ان کی انگریزی پر ڈان کی لکھی انگریزی کی بہت گہری چھاپ پڑ جاتی پے۔۔۔
میرے بہت سے ہم جماعت اور دوست مختلف اداروں میں اسٹینو گرافی کر رہے ہیں ایک دوست جس نے ڈی کام میں داخلہ اس لیے لیا تھا تاکہ وہ اپنی کزن سے محبت کی شادی کر سکے ساتھی طلبہ اس کا مذاق اڑاتے رہے مگر آج وہ ایک ادارہ میں بغیر رشوت اور سفارش کے اسٹینو بھرتی ہو کر شادی کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے اور مذاق اڑانے والے آج بھی کنوارے اور نوکری کی تلاش میں سرکرداں ہیں۔۔۔
شارٹ ہینڈ جہد مسلسل اور دلچسپی کا نام ہے جو شخص چھ ماہ رات سونے سے قبل اور صبح اٹھنے کے فوری بعد شارٹ ہینڈ کی ایک ایک گھنٹہ مشق کرتا ہے یقین جانیں چھ ماہ کے بعد وہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاٸے گا۔
انسان کے لیئے کوئی کام مشکل نہیں ہوتا جب تک وہ اسے مشکل نہ سمجھے شارٹ ہینڈ کو آسان سمجھ کر آگے بڑھیں آسانی ہی آسانی ہوگی۔۔۔
قرآن کہتا ہے(مفہوم) ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ تو پھر ہمیں بھی اللہ پر توکل کرکے آگے بڑھنا چاہیے، کامیابی ہمارے قدم چومے گی ان شاء اللہ۔۔۔
(اسامہ شرافت)

اپنا تبصرہ بھیجیں