پاکستان میں خدمات دینے پر افغان خاتون ڈاکٹر کے چرچے پاکستان میں اس وقت اگرچہ 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں جن میں سے 15 لاکھ مہاجرین حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں جب کہ اتنے ہی مہاجرین غیر رجسٹرڈ بھی ملک میں موجود ہیں

اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں عام پاکستانی شہری بھی متاثر ہیں، وہیں یہاں رہنے والے افغان مہاجرین بھی متاثر ہوئے ہیں اور ملک بھر میں مہاجرین کی کیمپس میں مسائل سر اٹھانے لگے ہیں۔

پاکستان بھر میں تقریبا افغان مہاجرین کے 52 کیمپس ہیں جن میں رجسٹرڈ مہاجرین آباد ہیں، تاہم ان کیمپس کے علاوہ بھی پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں افغان مہاجرین آباد ہیں افغان مہاجرین پاکستان میں جہاں مزدوری کرتے ہیں، وہیں کئی افغان مہاجرین کاروبار بھی کرتے ہیں اور کچھ افغان مہاجرین اچھی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اب پاکستان میں اچھے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہیں اور ایسے مہاجرین میں صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دینے والی ایک افغان خاتون بھی ہیں، جو مشکل کی اس گھڑی میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ (یو این) کے یورپی یونین (ای یو) سے تعلق رکنے والے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ پاکستان میں رہنے والی افغان مہاجر ڈاکٹر سلیمیٰ رحمٰن پنجاب کے شہر راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ یو این ایچ سی آر یورپین افیئرز کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ سلیمیٰ رحمٰن راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں غریب مریضوں کو علاج کی معاونت فراہم کر رہی ہیں ساتھ ہی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ ہسپتال افغان مہاجرین سمیت مقامی افراد کو بھی علاج کی مناسب سہولیات فراہم کرتا ہے۔

ٹوئٹ کے مطابق ہولی فیملی ہسپتال کو یو این ایچ سی آر پاکستان اور یورپین ایڈ مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

عالمی ادارے کی ٹوئٹ میں ڈاکٹر سلیمیٰ رحمٰن کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں اور انہیں ایک تصویر میں ساتھی ڈاکٹرز کے ساتھ علاج کرتے ہویے دیکھا جا سکتا ہے۔

یو این ایچ سی آر یورپین یونین افیئرز کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے کے بعد کئی افراد نے مہاجر ڈاکٹر کی تعریفیں کیں اور انہیں پاکستان کے ایک ہسپتال میں خدمات سر انجام دینے پر سلام پیش کیا۔

متعدد افراد نے ڈاکٹر سلیمیٰ رحمٰن کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ جس طرح پاکستان ان مہاجرین کا خیال رکھ رہا ہے، اسی طرح مہاجر ڈاکٹر بھی پاکستان کا خیال رکھ رہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں