پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں خود مختار کشمیر کی حامی صحافیوں اور قوم پرستوں کے مظاہرے: ’72 سال سے ہمیں غلام رکھا ہوا ہے، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں خود مختار کشمیر کی حامی تقریباً دو درجن سے زیادہ تنظیموں کا اتحاد پیپلز نیشنل الائنس (پی این اے) اور دیگر صحافی تنظیمیں آج بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی مظفر آباد میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ پیر کے روز پی این اے کے کارکنوں نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے مظفرآباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا۔خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں کے مطابق اس احتجاج کا مقصد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر و گلگت بلتستان پر مشتمل آزاد و خودمختار اسمبلی کے قیام سمیت اس کو بااختیار بنا کر ریاست جموں و کشمیر کی تمام اکائیوں کی مکمل آزادی کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔منگل کو پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام مظفرآباد میں منعقد ہونے والے ان مظاہروں کا آغاز ایک احتجاجی مارچ کی صورت میں ہوا تھا اور یہ مارچ خورشید حسن خورشید سٹیڈیم سے شروع ہوا۔مارچ کے شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جموں و کشمیر کو خودمختار ریاست بنائے جانے کی حمایت میں مطالبے درج تھے۔ مارچ کے شرکا آزادی اور آئینی حقوق دیے جانے کے حق میں نعرے بھی لگاتے رہےمارچ میں شامل پی این اے کی ایک کارکن سیدہ رفیقی کا کہنا تھا کہ ’ہم احتجاج اس لیے کر رہے ہیں کہ ہمیں غلام رکھا ہوا ہے۔ 72 سال سے ہم ادھر بھی غلام ہیں، ادھر بھی غلام ہیں۔ ہم اپنی آزادی کے لیے نکلے ہیں، ہم اپنی خود مختاری کے لیے نکلے ہیں۔ ہمیں آزاد کرو۔ ہماری جو مجاہد فورس پاکستان کے پاس ہے وہ واپس کرو۔ ہم کشمیر پر خود حکومت کریں گے، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، نہ ہندوستان کی یہ پاکستان کی۔‘
تاہم جیسے ہی شرکا نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی جانب جانا شروع کیا تو انھیں پولیس کی بھاری نفری نے کشمیر یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے باہر سی ایم ایچ روڈ پر آگے بڑھنے سے روک دیا۔اس موقعے پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوا جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق زخمی افراد کو کو شیخ زید ہسپتال میں منتقل کیا گیا جبکہ دوسری جانب ایک شخص خورشید عباسی نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے مظاہرین پر شیلنگ کی جس سے مبینہ طور پر ان کے چچا اور ایک بزرگ راہگیر قاضی اسلم عباسی آنسو گیس کے شیل لگنے سے ہلاک ہوگئے۔شیخ زید اسپتال کے ڈی ایم ایس نعمان بٹ نے کہا کہ بزرگ راہگیر پہلے سے دل کے عارضہ میں مبتلا تھے، پوسٹمارٹم کے بغیر یہ کہنا کہ وہ شیل کے دھوئیں سے ہلاک ہوئے درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا بزرگ احتجاج کے دوران ادھر موجود تھے بھی کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ لواحقین نے بزرگ راہگیر کا پوسٹ مارٹم کرنے سے منع کر دیا تھامظاہرین پر پولیس کی شیلنگ کے بعد جہاں متعدد مارچ شرکا زخمی ہوئے وہیں متعدد کو پولیس نے گرفتار بھی کیا ہے۔ان گرفتاریوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مختلف افواہوں کا بازار گرم ہو گیا اور اگلے روز دارالحکومت مظفر آباد میں خودمختار کشمیر کے حامی شہری شہر بھر کے مختلف علاقوں میں باہر نکل آئے اور سڑکوں کو ٹریفک لیے بند کر دیا۔چہلہ کے مقام پر مظاہرین نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو بھی روک دیا۔ پولیس نے ایک مرتبہ پھر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث سڑکیں ایک مرتبہ پھر میدان جنگ بن گئیں۔منگل کی شام کو پیپلز نیشنل الائنس کے سربراہ راجہ ذولفقار نے مقامی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی جس کے دوران انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ پُرامن احتجاج کر رہے تھے جبکہ ڈی ایس پی ریاض مغل کے کہنے پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ انھوں نے پولیس پر الزام لگایا کہ انھوں نے ایک سو کے قریب کارکنوں کو زخمی کیا اور چالیس سے زائد افراد کو گرفتار کر رکھا ہے۔ انھوں نے ان واقعات کی ساری ذمہ داری چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس پر عائد کی۔اسی دوران پولیس راجہ ذولفقار کو گرفتار کرنے سنڑل پریس کلب مظفرآباد کے اندر پہنچ آئی جس پر صحافیوں نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا تو پولیس نے ایک مرتبہ پھر صحافیوں پر دھاوا بولا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے دو صحافی زخمی ہوگئے۔اس کے بعد صحافی تنظیموں نے بھی بینک روڈ پر مرکزی شاہراہ بند کر کے کئی گھنٹوں تک احتجاج کیا۔سنٹرل پریس کلب کے صدر طارق نقاش نے صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا شیوہ نہیں کہ وہ سڑک بند کریں اور لوگوں کو تکلیف میں ڈالیں مگر آج قانون کے رکھوالوں نے خود قانون شکنی کی اور ریاست کے بڑے صحافتی ادارے کے تقدس کو پامال کیا اور صحافیوں پر حملہ آور ہوئے جس نے ہمیں آوٹ آف باکس جا کر احتجاج کرنے پر مجبور کیا۔اسی دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے پریس کلب کے صدر طارق نقاش سے فون پر رابطہ کیا اور انصاف کے لیے ان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی جس پر صحافی تنظیموں نے احتجاج عارضی طور پر بدھ کے روز تک موخر کردیا۔صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور اس واقعے میں ملوث افسران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔سنڑل پریس کلب کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق مطالبات کی منظوری تک قانون ساز اسمبلی سمیت حکومتی سرگرمیوں کی کوریج نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے واقعے میں ملوث افسران کی خدمات وفاق کو واپس دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ادھر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر پولیس کے لاٹھی چارج پر وزیر اطلاعات کی جانب سے استعفے اور اس کی منظوری کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔وزیراعظم فاروق حیدر خان کے ترجمان راجہ وسیم کے مطابق وزیراعظم کو ذاتی طور پر اس واقعے پر افسوس ہے اور انھوں نے انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ اس واقعہ پر پولیس کے اعلیٰ حکام نے اپنا موقف دینے سے گریز کیا۔
بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں