پروفیسرکی خواہش پوری نہ کرنے پرپرچے میں باربار فیل کیا جارہا ہے: پشاور یونیورسٹی کی طالبہ

پشاور یونیورسٹی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ نے پروفیسر پر الزام لگایا ہے کہ غیراخلاقی خواہش پوری نہ کرنے پر انکو مسلسل فیل کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں طالبہ نے پروفیسرکے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر کی ہے۔ پشاورہائیکورٹ نے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کو بار بار پرچہ میں فیل کرنے کے خلاف دائر رٹ پر پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور متعلقہ پروفیسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ طالبہ نے استاد پر غیر اخلاقی خواہش کا مطالبہ پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اس وجہ سے انہیں مسلسل فیل کیا جا رہا ہے جس پر جسٹس اشتیاق ابرہیم نے ریمارکس دیئے کہ ایسا کرنا اختیارات کے غلط استعمال میں آتا ہے ایسے کیسز کو ہم پھر نیب کو بھیجیں گے کہ ان کے خلاف انکوائری کریں۔ کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ درخواست گزارہ کے وکیل عالم خان ادینزئی نے عدالت کو بتایا کہ انکی موکلہ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ آف پشاور میں زیر تعلیم ہے، انکے میٹرک سے گریجویشن تک بورڈ کے تمام امتحانات میں نمبرزاے گریڈ میں آئے ہیں، ڈیپارٹمنٹ کے سال اول کے سالانہ امتحان میں بھی اس نے اے گریڈ کے مارکس حاصل کئے تھے اور ڈیپارٹمنٹ میں پوزیشن ہولڈر تھی تاہم فائنل میں داخلہ لینے کے بعد ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف کسی طالبہ نے تحریری شکایت کی تھی کی وہ اس کو حراساں کرتا ہے اوراس کاشک درخواست گذارہ پرکیاگیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شکایت پرڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ پروفیسر کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جس کے بعد درخواست گزارہ پر شبہ ظاہر کیا گیا اور انکی موکلہ کو مبینہ طورپرجنسی ہراساں بھی کیاگیا تاہم طالبہ کی جانب سے انکار پر انکی موکلہ کو فائنل امتحان میں ڈویلپمنٹ آف اکنامکس کے پرچہ میں بار بار فیل کیا جا رہا ہے حالانکہ اس خاتون کا تعلیمی ریکارڈ بہترین ہے اور بورڈ کے ہر امتحان میں انہوں نے اچھے نمبر حاصل کئے ہیں مگر ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر زاتیات پر اتر آئے ہیں اور انکی موکلہ کو جان بوجھ کر فیل کیا جا رہا ہے جو کہ زیادتی ہے۔ انہوں نےعدالت کو یہ بھی بتایا کہ لڑکی کا کوئی بھائی نہیں ہے اور وہ اپنے گھر والوں کی آخری امید ہے کیونکہ اس کے والد عمر کے اس حصے میں بھی اس کی تعلیمی اخراجات برداشت کررہے ہیں اور انہیں معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے انکی پوری فیملی اس کے فیل ہونے سے پریشان ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ طالبہ کو ڈیپارٹمنٹ کے رحم کرم پر نہ چھوڑا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے جس پر جسٹس اکرام اللہ نے ریمارکس دیئے کہ انٹرویوز میں کیا کیا ہوتا ہے ہمیں سب پتہ ہے جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ ایسا کرنا اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد وائس چانسلر یونیورسٹی اف پشاور اور اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے اگلی سماعت پر لڑکی کا پرچہ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اگست تک کیلئے ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں