پشتون تحفظ موومنٹ: گلالئی اسماعیل کے والد کہاں ہیں؟

پاکستان سے حال ہی میں امریکہ فرار ہونے والی پشتون تحفظ موومنٹ کی حامی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان کے والد کو ’نامعلوم افراد نے چند گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ایف آئی اے کے حوالے‘ کر دیا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر جمعے (آج) کو میرے والد کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو پھر ہمارے وکلا ان کی گمشدگی کے بارے میں مقدمہ بھی درج کروائیں گے اور عدالت میں اس حوالے سے حبس بے جا کی پٹیشن بھی دائر کی جائے گی۔’ یاد رہے کہ گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر محمد اسماعیل جمعرات کی دوپہر پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔۔گلالئی اسماعیل نے کہا کہ ان کے والد کی گمشدگی کے خلاف سنیچر کو واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس کا انعقاد امریکہ میں مقیم پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن کریں گے۔گلالئی اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی ان کے والد کو پشاور ہائی کورٹ کے سامنے سے نامعلوم افراد اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ ان کے والد کو جمعہ کو پشاور ہائیکورٹ پیش کر دیا جائے گا تاہم انھوں نے خدشہ ظاہر ہے کہ ان کے والد پر ایف آئی اے کی جانب سے کوئی نیا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے’جب میرے والد کو پشاور ہائی کورٹ کے باہر سے اٹھایا گیا تو ان پر کوئی مقدمہ نہیں تھا، انسدادِ دہشت گردی کے جس مقدمے میں وہ عدالت پیش ہوئے تھے اس میں وہ پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایف آئی اے شاید سائبر کرائم قوانین کے تحت ان پر کوئی نیا مقدمہ بنائے۔’
والد کی گمشدگی کے حوالے سے مقدمہ درج نہ کروانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ خود تو امریکہ میں ہیں اور اس معاملے میں ان کا انحصار وکلا پر ہے، جنھوں نے مقدمہ درج نہ کروانے کا مشورہ دیتے ہوئے عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کا کہا تھا۔پروفیسر اسماعیل کے وکیل شہاب خٹک نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف کالعدم تنظیموں میں رقوم تقسیم کرنے کے حوالے سے ایک مقدمہ درج ہے جس کے سلسلے میں وہ جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ آئے ہوئے تھے۔وکیل شہاب خٹک نے کہا کہ انھیں دوسرے وکلا دوستوں سے معلوم ہوا کہ پروفیسر اسماعیل ہائی کورٹ کی عمارت سے جونہی باہر نکلے تو اس دوران وہاں گیٹ کے قریب پہلے سے موجود چند نامعلوم افراد انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔انھوں نے کہا کہ انھیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ نامعلوم افراد کون تھے اور کس مقصد کے تحت پروفیسر اسماعیل کو پکڑ کر لے جایا گیا ہے۔اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت کا موقف جاننے کے لیے ان کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمد اسماعیل گذشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ وہ جمعرات کو خصوصی طور پر پیشی کے لیے پشاور ہائی کورٹ آئے تھے۔
یاد رہے پروفیسر اسماعیل کی صاحبزادی گلالئی اسماعیل کو پاکستان سے امریکہ جانے سے قبل کئی مقدمات کا سامنا تھا۔ ان میں بیشتر مقدمات پی ٹی ایم کے جلسوں میں شرکت کرنے، حکومتی اور سکیورٹی اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے پر بنائے گئے ہیں۔تاہم عدالتی ریکارڈ کے مطابق ان کے خلاف این جی او کی رقم مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں میں تقسیم کرنے کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا جس میں ان کے والدین بھی نامزد ہے۔
پروفیسر اسماعیل کئی بار اس مقدمے کے سلسلے میں عدالتوں میں پیش ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے مذکورہ مقدمے کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً ٹویٹس بھی کرتے رہے ہیں۔انھوں نے 17 اکتوبر کو ٹوئٹر پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ‘ کچھ لوگوں نے آدھی رات کے وقت کوشش کی کہ مجھے اٹھاکر لاپتہ افراد میں شامل کر دیں۔’ادھر پروفیسر اسماعیل کی ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے سے دن دہاڑے لاپتہ ہونے کے واقعے پر سیاسی جماعتوں اور قوم پرست سیاستدانوں کی طرف سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں الزام لگایا ہے کہ پروفیسر اسماعیل کو پشاور میں عدالت سے واپسی پر ‘سکیورٹی اداروں’ نے غیر قانونی طورپر اٹھایا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی پروفیسر اسماعیل کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر گلالئی اسماعیل کے خلاف کوئی کیس ہے تو اس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے جبکہ ان کے والد کو بے بنیاد کیس میں گرفتاری نے ایف سی آر کی یاد تازہ کر دی ہے۔پروفیسر اسماعیل کی عمر تقریباً ستر سال کی لگ بھگ ہے۔ وہ مختلف سرکاری کالجوں میں اردو کے مضمون کے پروفیسر رہے ہیں۔ ان کے چھ بچے ہیں جن میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ پروفیسر اسمعیل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے تمام بچے اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں
بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں