کتنا رنگیلا تھا محمد شاہ رنگیلا؟

12 مئی 1739 کی شام۔ دہلی میں زبردست چہل پہل، شاہجہان آباد میں چراغاں اور لال قلعے میں جشن کا سماں ہے۔ غریبوں میں شربت، پان اور کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے، فقیروں، گداؤں کو جھولی بھر بھر کر روپے عطا ہو رہے ہیں۔آج دربار میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ کے سامنے مغلیہ سلطنت کے 13ویں تاجدار محمد شاہ بیٹھے ہیں، لیکن اس وقت ان کے سر پر شاہی تاج نہیں ہے، کیوں نادر شاہ نے ڈھائی ماہ قبل ان سے سلطنت چھین لی تھی۔ 56 دن دہلی میں رہنے کے بعد اب نادر شاہ کے واپس ایران لوٹنے کا وقت آ گیا ہے اور وہ ہندوستان کی باگ ڈور دوبارہ سے محمد شاہ کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔نادر شاہ نے صدیوں سے جمع کردہ مغل خزانے میں جھاڑو پھیر دی ہے اور شہر کے تمام امرا و روسا کی جیبیں الٹا لی ہیں، لیکن اسے دہلی کی ایک طوائف نور بائی نے، جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا، خفیہ طور پر بتا دیا ہے کہ یہ سب کچھ جو تم نے حاصل کیا ہے، وہ ایسی چیز کے آگے ہیچ ہے جسے محمد شاہ نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا ہے۔نادر شاہ گھاگ سیاستدان اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے تھا۔ اس موقعے پر وہ چال چلی جسے نہلے پہ دہلا کہا جاتا ہے۔ اس نے محمد شاہ سے کہا، ‘ایران میں رسم چلی آتی ہے کہ بھائی خوشی کے موقعے پر آپس میں پگڑیاں بدل دیتے ہیں، آج سے ہم بھائی بھائی بن گئے ہیں، تو کیوں نہ اسی رسم کا اعادہ کیا جائے؟’
محمد شاہ کے پاس سر جھکانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ نادر شاہ نے اپنی پگڑی اتار کر اس کے سر رکھی، اور اس کی پگڑی اپنے سر، اور یوں دنیا کا مشہور ترین ہیرا کوہِ نور ہندوستان سے نکل کر ایران پہنچ گیا۔رنگیلا بادشاہ اس ہیرے کے مالک محمد شاہ اپنے پڑدادا اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت میں 1702 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا پیدائشی نام تو روشن اختر تھا، تاہم 29 ستمبر 1719 کو بادشاہ گر سید برادران نے انھیں صرف 17 برس کی عمر میں سلطنتِ تیموریہ کے تخت پر بٹھانے کے بعد ابوالفتح نصیر الدین روشن اختر محمد شاہ کا خطاب دیا۔ خود ان کا تخلص ‘سدا رنگیلا’ تھا۔ اتنا لمبا نام کون یاد رکھتا، چنانچہ عوام نے دونوں کو ملا کر محمد شاہ رنگیلا کر دیا اور وہ آج تک ہندوستان کے طول و عرض میں اسی نام سے جانے اور مانے جاتے ہیں۔محمد شاہ کی پیدائش کے وقت اورنگزیب عالمگیر نے ہندوستان میں ایک خاص قسم کا کٹر اسلام نافذ کر رکھا تھا اس کا سب سے پہلا نشانہ وہ فنونِ لطیفہ بنے جن کے بارے میں تصور تھا کہ وہ اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس کی ایک دلچسپ مثال اطالوی سیاح نکولو منوچی نے لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اورنگزیبی دور میں جب موسیقی پر پابندی لگی تو گویوں اور موسیقاروں کی روٹی روزی بند ہو گئی۔ آخر تنگ آ کر ایک ہزار فنکاروں نے جمعے کے دن دہلی کی جامع مسجد سے ایک جلوس نکالا اور آلاتِ موسیقی کو جنازوں کی شکل میں لے کر روتے پیٹتے گزرنے لگے۔ اورنگزیب نے دیکھا تو حیرت زدہ ہو کر پچھوایا، ‘یہ کس کا جنازہ لیے جا رہے ہو جس کی خاطر اس قدر آہ و بکا کیا جا رہا ہے؟’ انھوں نے کہا: ‘آپ نے موسیقی قتل کر دی ہے اسے دفنانے جا رہے ہیں۔’اورنگزیب نے جواب دیا، ‘قبر ذرا گہری کھودنا!’
طبیعیات کا اصول ہے کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ یہی اصول تاریخ اور انسانی معاشرت پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ جس چیز کو جتنی سختی سے دبایا جائے، وہ اتنی ہی قوت سے ابھر کر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ اورنگزیب کے بعد بھی یہی کچھ ہوا اور محمد شاہ کے دور میں وہ تمام فنون پوری آب و تاب سے سامنے آ گئے جو اس سے پہلے دب گئے تھے۔دو انتہائیں اس کی سب سے دلچسپ گواہی ‘مرقعِ دہلی’ سے ملتی ہے۔ یہ ایک کتاب ہے جسے محمد شاہ کے درباری درگاہ قلی خاں نے لکھا تھا اور اس میں انھوں نے لفظوں سے وہ تصویریں کھینچی ہیں کہ اس زمانے کی جیتی جاگتی سانس لیتی دہلی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے ایک عجیب بات سامنے آتی ہے کہ صرف بادشاہ ہی نہیں، اہلِ دہلی کی زندگی دو انتہاؤں کے درمیان پینڈولم کی طرح سفر کرتی تھی۔ ایک طرف تو وہ عیش و عشرت سے لبریز زندگی بسر کرتے تھے، جب اکتا جاتے تو سیدھے اولیا کے آستانوں کا رخ کرتے تھے۔ جب وہاں سے دل بھر جاتا تو دوبارہ طاؤس و رباب کی آغوش میں پناہ لیتے تھے۔مرقعِ دہلی میں آنحضور کے قدم شریف، قدم گاہ حضرت علی، نظام الدین اولیا کا مقبرہ، قطب صاحب کی درگاہ اور درجنوں دوسرے مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں عقیدت مندوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ یہاں ‘اولیائے کرام کی اتنی قبریں ہیں کہ ان پر بہشت بھی رشک کرتی ہے۔’ ایک طرف یہاں گیارہویں شریف ‘ساری دہلی میں بڑی دھوم دھام سے ہوتی ہے، جھاڑ فانوس سجائے جاتے ہیں اور سماع کی پرکیف محفلیں ہوتی ہیں۔دوسری جانب اسی دوران موسیقی کو بھی خوب فروغ حاصل ہوا۔ درگاہ نے ایسے کئی موسیقاروں کا ذکر کیا ہے جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔ ان میں ادا رنگ اور سدا رنگ سب سے نمایاں ہیں جنھوں نے خیال طرزِ گائیکی کو نیا آہنگ عطا کیا جو آج بھی مقبول ہے۔بقول مرقع سدا رنگ ‘جیسے ہی اپنے ناخن کے مضراب سے ساز کے تار چھیڑتا ہے دلوں سے بےاختیار ہوک نکلتی ہے اور جیسے ہی اس کے گلے سے آواز نکلتی ہے، لگتا ہے بدن سے جان نکل گئی۔’
اسی دور کی ایک بندش آج بھی گائی جاتی ہے: ‘محمد شاہ رنگیلے سجنا تم بن کاری بدریا، نت نہ سہاوے۔’محمد شاہ رنگیلے سجنا، تمھارے بنا کالے بادل دل کو نہیں بھاتے۔انھی پر موقوف نہیں، درگاہ قلی نے درجنوں قوالوں، ڈھولک نوازوں، پکھاوجیوں، دھمدھی نوازوں، سبوچہ نوازوں، نقالوں، حتیٰ کہ بھانڈوں تک کا ذکر کیا ہے جو شاہی دربار سے وابستہ تھے۔
ہاتھیوں کا ٹریفک جام
اس عالم میں رقص کیوں پیچھے رہتا؟ نور بائی کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔ اس کے بالاخانے کے آگے امرا و روسا کے ہاتھیوں کا وہ ہجوم ہوتا تھا کہ ٹریفک جام ہو جاتا۔ بقول مرقعِ دہلی:‘جس کسی کو اس کی محفل کا چسکا لگا اس کا گھر برباد ہوا اور جس دماغ میں اس کی دوستی کا نشہ سمایا وہ بگولے کی طرح چکر کاٹتا رہا۔ ایک دنیا نے اپنی پونجی کھپا دی اور ان گنت لوگوں نے اس کافر کی خاطر سارا سرمایہ لٹا دیا۔’درگاہ قلی خاں ایک اور طوائف اد بیگم کا حیرت انگیز احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:‘اد بیگم: دہلی کی مشہور بیگم ہیں جو پائجامہ نہیں پہنتیں، بلکہ اپنے بدن کے نچلے حصے پر پائجامہ کی طرح گل بوٹے بنا لیتی ہیں۔ بعینہ ایسے گل بوٹے بناتی ہیں جو رومی کمخواب کے تھان میں ہوتے ہیں اس طرح وہ امرا کی محفلوں میں جاتی ہیں اور کمال یہ ہے کہ پائجامہ اور اس نقاشی میں کوئی امتیاز نہیں کر پاتا۔ جب تک اس راز سے پردہ نہ اٹھے کوئی ان کی کاریگری کو نہیں بھانپ سکتا۔’یہ میر تقی میر کی جوانی کا زمانہ تھا۔ کیا عجب کہ یہ شعر انھوں نے اد بیگم ہی سے متاثر ہو کر کہا ہو:

جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے

کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ

اس دوران محمد شاہ کے شب و روز کا معمول یہ تھا: صبح کے وقت جھروکۂ درشن میں جا کر بٹیروں یا ہاتھیوں کے لڑائیوں سے دل بہلانا۔ اس دوران کبھی کوئی فریادی آ گیا تو اس کی بپتا بھی سن لینا۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں، نٹوں، نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے حظ اٹھانا، شامیں رقص و موسیقی سے اور راتیں۔۔۔
بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔ البتہ کتابوں میں لکھا ہے کہ نادر شاہ کے حملے کے بعد وہ زیادہ تر سفید لباس پر اکتفا کرنے لگے تھے۔
مغل فنِ مصوری جو اورنگزیب کے دور میں مرجھا گیا تھا، اب پوری آب و تاب سے کھل کر سامنے آیا۔ اس دور کے نمایاں مصوروں میں ندھا مل اور چترمن کے نام شامل ہیں جن کی تصاویر مغلیہ مصوری کے سنہرے دور کے فن پاروں کے مقابلے پر رکھی جا سکتی ہیں۔شاہجہان کے بعد پہلی بار دہلی میں مغل مصوری کا دبستان دوبارہ جاری ہوا ۔ اس طرز کی نمایاں خصوصیات میں ہلکے رنگوں کا استعمال اہم ہے۔ ا س کے علاوہ پہلے دور کی مغلیہ تصاویر میں پورا فریم کھچاکھچ بھر دیا جاتا تھا، محمد شاہی عہد کے دوران منظر میں سادگی پیدا کرنے اور خالی جگہیں رکھنے کا رجحان پیدا ہوا جہاں نظر ادھر ادھر گھوم پھر سکے۔اسی دور کی ایک مشہور تصویر وہ ہے جس میں خود محمد شاہ رنگیلا کو ایک کنیز سے دادِ عیش دیتے دکھایا گیا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ دہلی میں افواہ پھیل گئی تھی کہ بادشاہ نامرد ہے، جسے زائل کرنے کے لیے اس تصویر کا سہارا لیا گیا جسے آج لوگ ‘پورن آرٹ’ کے زمرے میں رکھیں گے۔
بشکریہ ظفر سید – بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں