” کسی کو دیکھ کر ماشا ء اللہ کہنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آ سکتا ہے“ کشمالہ طارق وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے کہا کہ اگر کوئی خاتون کسی کے السلام علیکم کے میسج کا جواب نہیں دیتی تو اُسے بار بار یہی میسج بھیجنا بھی ہراساں کرنے کے مترادف ہے

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ صبح کے وقت جو لوگ کسی خاتون کو موبائل پر گڈ مارننگ کا پیغام بھیجتے ہیں، یہ بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس بیان کے بعد لوگوں کی جانب سے اس بیان کا خاصا مذاق اُڑایا گیا تھا جس پر کشمالہ طارق کی جانب سے وضاحت بھی سامنے آئی تھی۔ تاہم اب اُنہوں نے ہراسیت کے حوالے سے ایک ویب میڈیا چینل کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کسی کو گڈ مارننگ تو کیا کسی کی مرضی کے خلاف السلام علیکم کہنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح کسی کو دیکھ کر طنزاً ماشاء اللہ کہنا بھی ہراسیت ہی ہے۔ اگر ماشاء اللہ عام گفتگو میں استعمال کر رہے تو یہ یقینی طور پر ہراسیت نہیں ہے،لیکن جیسے کچھ لوگ گزرتے گزرتے آوازیں کستے ہیں یا کسی خاتون کو دیکھ کر ”چشمِ بددُور“ یا ”ماشاء اللہ“ کہتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ ہراسیت ہے۔ جہاں تک عورتوں کا معاملہ ہے اگر کوئی خاتون کسی کے سلام کے میسج کا ایک بار میں جواب نہیں دیتی تو بار بار اُسے السلام علیکم کا پیغام بھیجنا بھی ہراسیت ہی ہے۔ خواتین کو زیادہ تر کام کی جگہ پر ہراسیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جب اُن سے سوال کیا گیا کہ کیا مرد بھی ہراسیت کی شکایات لے کر آتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو شکایات آتی ہیں وہ 80 سے 90 فیصد خواتین کی جانب سے مردوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ جبکہ مردوں کی جانب سے آنے والی شکایات مردوں کے ہی خلاف ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں