“کمانڈو ٹائیگر” پاک فوج کا وہ کمانڈو جسے اس صدی کا بہترین کمانڈو کہا جاتا تھا “بریگیڈیئر طارق محمود شہید”

“کمانڈو ٹائیگر”
انتخاب عروبہ عدنان
پاک فوج کا وہ کمانڈو جسے اس صدی کا بہترین کمانڈو کہا جاتا تھا “بریگیڈیئر طارق محمود شہید”
اس نے غضب کی نگاہ پائی تھی. جس کی جانب دیکھتا،کیا مجال جو مد مقابل زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ پاتا صوفیائے کرام کے شہر ملتان میں 8 اکتوبر 1938 کو پیدا ہونے والا یہ سپاہی ایک داستان شجاعت کا ایک آمر کردار تھا وہ پیدائشی فوجی تھا، لاہور کے گورنمنٹ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پشاور میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے چلا گیا، مگر کوئی نہ کوئی ایسی چیز تھی جو اس کے اندر ہل چل پیدا کرتی رہتی تھی، وہ سمجھ نہیں پاتا تھا کے آخر یہ کیا ہے، وہ راتوں کو سوتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ جاتا، اسے یوں لگتا تھا کے سے کوئی آواز دے رہا ہے کوئی بلا رہا ہے آخر ایک صبح وہ اٹھا، قانون کی تعلیم کو خیر باد کہا، اور فوج میں اپلائی کردیا، وہ جان گیا ک9 دھرتی ماں کی پکار پر لبیک کہنے کا وقت آچکا ہیں، 1963 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے ایک بہترین افسر بن کر پاس آوٹ ہوا، نام تو اس کا طارق محمود تھا مگر دنیا ٹی ایم ٹائیگر اور (Man of Steel) یعنی ” مرد آہن ” کے نام سے مشہور ہوا ،،،، فوج نے اسے کمانڈو تربیت دی، اور تربیت مکمل کر کے وہ ایس ایس جی کمانڈوز کے پہلی بٹالین میں شامل ہوا، 1965 میں اسے امریکہ میں ہونے والے ایک ایڈوانس سپیشل کورس کیلئے منتخب کیا گیا، مگر اس وقت 1965 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوگئ، ٹی ایم ٹائیگر اپنے کمانڈر کے سامنے پیش ہوا اور احترام کے ساتھ امریکا جانے سے انکار کردیا، اس نے کمانڈر سے کہا وہ وعدہ نبھانے کا وقت جو یہ خاکی وردی پہننے سے پہلے اس نے اپنے وطن سے کیا تھا، کمانڈر اپنی کرسی سے اٹھا، ٹائیگر کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اس کے کاندھے پہ تھپکی دے کر وکٹری کا نشان بنایا، ٹائیگر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ، یہ وہ مسکراہٹ تھی جو شکار کرنے سے پہلے ٹائیگر کے چہرے پہ آتی تھی، 1965 کی جنگ میں اس نے داستان شجاعت رقم کی، وہ اس بے جگری اور حکمت عملی سے لڑا کے دشمن دنگ رہ گیا، 1965 کی جنگ میں بے مثال بہادری پر ستارہ جرآت سے نوازا ،،،
1970 میں اسے میجر کی رینک پر ترقی دی گئی، 1971 کی جنگ میں اس نے دوبارہ شجاعت کے جوہر دکھائے، جہاں دشمن فوج کو لاشوں کی ڈھیر ملتے وہ سمجھ جاتے کہ یہاں ٹائیگر کا گزر ہوا ہے، ٹائیگر دشمن کی انٹیلی جنس نظر میں آچکا تھا، مگر کسی کی مجال نہ تھی، کہ ٹائیگر کے نزدیک آنے کی ہمت کرتا،،،1971 کی جنگ کے بعد فوج نے اسے ستارہ بسالت سے نوازا، 1974 میں ٹائیگر کو لیفٹیننٹ کرنل کی عہدے پر ترقی دی گئی، اس دوران بھی دھرتی ماں کی آواز اسے بلاتی تھی، وہ اب بھی راتوں کو اٹھ کر بیٹھ جاتا تھا، وہ شیر کی طرح دشمن پر جھپٹتا تھا مگر وہ آواز اسے بلاتی رہتی، وہ مزید بے جگری سے لڑتا، فوج نے اس کی خدمات دیکھتے ہوئے 1977 میں اسے ستارہ بسالت سے نوازا 1982 میں بریگیڈیر کی عہدے پر ترقی کے بعد اسے ایس ایس جی کمانڈوز کا کمانڈنٹ تعینات کیا گیا، یہی وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت کے مابین سیاچن کا تنازع زور پکڑ چکا تھا، پاک فوج نے سیاچن گلیشئر واپس حاصل کرنے کیلئے ٹائیگر کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، اور ٹائیگر نے اپنی ٹیم کے ساتھ برف پوش پہاڑوں میں دنیا کے بلند ترین محاز جنگ پر بھارت کی فوج کو بتا دیا کے شیر جب برف پوش پہاڑوں میں جھپٹتے تو شکار کئے بغیر واپس نہیں جاتا بھارتی فوج سیاچن سے بھاگ کھڑی ہوئی، اور 1984 میں ٹائیگر ان برف پوش پہاڑوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا چکا تھا اور فضا اللہ اکبـــــر کے نعرو سے گونج اٹھی تھی ،،،،،5 ستمبر 1986 کو کراچی ائیر پورٹ پر ایک مسافر بردار امریکی طیارہ ہائی جیک کرلیا گیا، 360 افراد کی جان خطرے میں تھی، ہائی جیک طیارے کا چھڑوانا بریگیڈیئر طارق محمود کی ٹیم پر سونپ دیا گیا، ٹائیگر نے ایس ایس جی کمانڈوز کی ٹیم کمان کی اور ان پر ہلا بول دیا، ہائی جیکر نے ایس ایس جی کمانڈوز پر فائر کھول دی، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے مد مقابل کون ہے تھوڑی ہی دیر بعد سب ہائی جیکر گرفتار ہوکر، ٹائیگر کے قدمو میں تھے، یہ پہلا موقع تھا جب پاکستانی قوم کو بریگیڈیئر ٹائیگر کے بارے میں پتا چلا ،،،،
بریگیڈیئر ٹائیگر کو پاکستان ہی کا نہیں اس صدی کا بہترین کمانڈو کہا جاتا تھا، بھارت کے خفیہ ادارے اس حد تک خوف زدہ تھے کہ بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ہر ہفتے بریگیڈیئر ٹائیگر کے بارے میں رپورٹ دی جا تھی اور بھارت ٹائیگر کے لگائے گئے زخموں کا بدلہ لینے کی تلاش میں تھے، اس معاملے پر پاکستان کی جنس ایجنسی آئی ایس آئی بھی بے خبر نہ تھی، انہوں نے رپورٹ دی کہ بھارت بریگیڈیئر ٹائیگر کو قتل کرنے کی در پے ہے جس کے بعد ٹائیگر کی سیکورٹی سخت کردی گئی، ان معاملات پر وہ صرف مسکرایا کرتا تھا،،،ٹائیگر نے بے شمار آپریشن میں حصہ لیا، جس میں اس نے بے مثال شجاعت اور بہادری کی داستانیں رقم کیں
یہ 29 مئی 1989 کا دن تھا گجرانولہ کے نزدیک رہوالی میں آرمی ایوی ایشن کی پاسنگ آوٹ تھی، بریگیڈیئر ٹائیگر ایس ایس جی کمانڈوز کی پیرا ٹروپنگ ٹیم کو لیڈ کر رہے تھے، آج اس آواز کی گونج ٹائیگر کو اپنے کانوں میں بہت صاف سنائی دے رہی تھی فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر بریگیڈیئر ٹائیگر اور ٹیم کو لے کر فری فال کیلئے ہوا میں بلند ہوچکا تھا، جیسے ہی ہیلی کاپٹر مقررہ بلندی تک پہنچا، بریگیڈیئر ٹائیگر جست لگانے کیلئے اٹھے، ٹیم کی طرف وکٹری کا نشان بنایا اور ہیلی کاپٹر سے کود گئے، ایک دم ہی وہ آواز بہت قریب اور صاف ہوگئی، یہ ایک ماں کی آواز تھی دھرتی ماں کی آواز جو اپنے بیٹے کو پکار رہی تھی، ٹائیگر اس آواز کی مٹھاس میں کھو چکا تھا اس نے بلندی تک آنے پر اپنا پیرا شوٹ کھولا مگر دھیان اس آواز کی طرف تھا، جس کی وجہ سے پیرا شوٹ نہ کھلا، جوں جوں ٹائیگر زمین کے قریب ہورہا تھا آواز بھی قریب سے آتی محسوس ہورہی تھی اس آواز میں وہی تڑپ تھی جو ایک ماں کی آواز میں ایک بیٹے کیلئے ہوتی ہیں، انہوں نے “ریزرو” پیرا شوٹ کھولنے کی کوشش کی لیکن انہیں احساس ہو چلا تھا، کہ اب اللہ کی امانت واپس کرنے کا وقت آچکا ہے سو اس جری نے خود کو خدا کے سپرد کردیا, اور دھرتی کا بیٹا دھرتی کے آغوش میں سما گیا اگلا دن پاکستانی قوم کیلئے سوگ کا دن تھا، اخباروں میں خبر آئی تھی، کہ پاکستانی کمانڈو بریگیڈیئر طارق محمود ٹائیگر فری فال کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیرا شوٹ نہ کھلنے پر شہادت پاگئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں